- Advertisement -

اپنا رستہ بدل رہا ہوں میں

طارق جاوید کی ایک اردو غزل

اپنا رستہ بدل رہا ہوں میں
خود سے پہلے نکل رہا ہوں میں

میرا ماضی بھی مجھ میں شامل ہو
دیکھ کر اس کو چل رہا ہوں میں

کیسے گارے سے گوندھا میرا خمیر
بے یقینی میں ڈھل رہا ہوں میں

ریت بستر پہ مل رہی ہے مجھے
اس کا مطلب کہ تھل رہا ہوں میں

مجھ کو ایسا بھی کیا ہوا ہے جو
اپنا سینہ مسل رہا ہوں میں

طارق جاوید

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
طارق جاوید کی ایک اردو غزل