آپ کا سلاماردو غزلیاتزبیر خیالیشعر و شاعری

کھیل دنیائے عارضی کا ہوں

زبیر خیالی کی ایک اردو غزل

کھیل دنیائے عارضی کا ہوں
ایک کِردار زندگی کا ہوں

مجھ کو رکھا گیا اندھیرے میں
مَیں بھی حقدار روشنی کا ہوں

اِنتہا کے قریب ہے دنیا
آدمی آخری صدی کا ہوں

دل کو احساس ہوگیا تیرا
معترف تیری دوستی کا ہوں

مَیں نے غربت میں عِلم سیکھا ہے
مَیں تو مقروض مفلسی کا ہوں

پُر نہ ہوگا جو میرے بعد کبھی
ایک ایسا خَلا کمی کا ہوں

میرا دشمن نہیں خیالی کوئی
دوست بھی مَیں کسی کسی کا ہوں

زبیر خیالی

post bar salamurdu

زبیر خیالی

سینئر نائب صدر بزمِ دوستانِ ادب، سیالکوٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button