- Advertisement -

پاک چائنہ اقتصادی راہداری

عابد خان لودھی کا ایک اردو کالم

پاک چائنہ اقتصادی راہداری

پاکستان کو قدرتی طور پر ملا جغرافیائی محل وقوع اس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ کہ پاکستان پوری دنیا کی تیل گیس زراعت صنعتی اور معدنی پیداوار اور بیرونی منڈیوں کے درمیان پل بن سکتا ہے۔ اس قدرتی محل وقوع کی اہمیت و افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ پاکستان اور چین نے مل کر پاک چین راہداری منصوبہ بنانے کا فیصلہ کیا۔جو کاشغر سے شروع ہو کر گلگت،بلتستان اور خیبر پختون خواہ سے ہو کر بلوچستان سے گذرے گا۔

واضح رہے کہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا معاشی منصوبہ ہے۔ یہ ہزاروں کلو میٹر ریلویز،موٹر ویز لوجسٹک سائٹس اور بندر گا ہوں کا ایک مربوط نظام ہے۔ چین یومیہ 100.12لاکھ بیرل تیل بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے۔ جس کا کل سفر 13595کلو میٹر بنتا ہے۔ جبکہ یہی سفر سی پیک کی تکمیل کے بعد سمٹ کاشغر سے گوادر تقریباً 3 ہزار کلو میٹر رہ جائے گا۔اور چینی بندر گاہ mawei port تک یہ 4146کلو میٹر بنتا ہے۔۔جس کے باعث چین کو تیل کی سالانہ درآمدات پر 33ارب ڈالر کی بچت ہو گی۔جبکہ پاکستان تیل کی راہداری کی مد میں 7.5ارب ڈالر وصول کرے گا۔سی پیک صرف چین کے لئے نہیں بلکہ روس کے لئے بھی انتہائی سود مند ہے۔ کیونکہ وہ بھی اپنی تجارت اسی راستے سے کرنا چاہتا ہے۔

اس کے لئے روس کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں۔ ایک ایران کی چاہ مار بندر گاہ ہے, وسطی ایشیا کی اور دنیا کی تیسری بڑی بندر گاہ گوادر ہے۔ وسطی ایشیاء کی ریاستیں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا تیل اور گیس کا ذخیرہ رکھتی ہیں۔ جن کو وہ ان ممالک تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ روس اور وسطی ایشیاء ممالک گوادر کی بدولت بہت جلد پاکستان پر انخصار کریں گئے۔ ایک اندازے کے مطابق 80ہزار ٹرک روزانہ چین،روس اور وسطی ایشیاء کے ممالک سے گوادر کی طرف آمدورفت کریں گے۔ پاکستان کو صرف ٹول پلازے کی مد میں 20سے 25ارب کی بچت ہو گی۔ سی پیک منصوبوں کا پہلا مرحلہ 2017کے آخر یا 2018کے آغاز میں مکمل ہو جائے گا۔ جبکہ دوسرے مرحلے کے منصوبے2020اور تیسرے مرحلے کے پراجیکٹ 2030تک مکمل ہو جائیں گے۔ تاہم سی پیک منصوبے کے ثمرات پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد پاکستانی عوام تک ملنے شروع ہو جائیں گے۔

سی پیک منصوبے کے وقت گوادر پورٹ میں توسیع و اپ گریڈیشن گوادر شہر میں ائیر پورٹ سمیت بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی،انڈسٹریل پارک کا قیام، مغربی اور مشرقی روٹس پر گوادر سے لے کر چینی سرحد تک موٹر وے نیٹ ورک، بڑے شہروں کے لئے رابطہ سڑکیں، ریلوے ٹریکس میں توسیع و انقلابی اپ گریڈیشن اور تیل کی پائپ لائنز شامل ہیں۔ ان منصوبوں سے لا محالہ متعلقہ علاقوں میں معاشی و اقتصادی اثرات مرتب ہو ں گے۔ سرمایہ کاری اور انفرا سٹرکچر کی تعمیر ان علاقوں میں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور ترقی کے نئے دور کے آغاز کا سنگ میل ثابت ہو ں گے۔ غربت کے خاتمے کے لئے یہ مواقع لاکھوں خاندانون کو غربت کی بیڑیوں سے آذاد کر سکیں گئے۔ اگر تمام منصوبے پروگرام کے مطابق مکمل ہو گے تو زیادہ تر علاقوں میں کاروبار صنعت اور تجارت کا روائیتی انداز طرز ہمیشہ کے لئے بدل جائے گا۔ سی پیک کا اصل مقصد اہم یورپی اور ایشیائی معیشتوں کو انفراسٹرکچر،تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط کرنا ہے۔

اس منصوبے کے تحت دو طرح کے عالمی رابطے قائم کرنا مقصود ہے۔ ایک جانب سلک روڈ کے ذریعے اقتصادی رابطہ یعنی سلک روڈ اکنامک روڈ جبکہ دوسری جانب زمینی راستے کے منصوبوں میں سڑکیں، ریلوے ٹریکس، پل اورگیس پائپ لائنز اور اس سے منسلک کئی دیگر منصوبے ہیں۔ جن کے ذریعے وسطی چین کے علاقے زن جیانگ کو ابتداء میں وسطی ایشیاء سے مربوط کرنے کا پلان ہے۔ بعد میں اس انفرا سٹرکچر کو پھیلا کر روس کے شہر ماسکو، ہالینڈ کے شہر روٹر ڈیم اور اٹلی کے شہر وینس تک لے جانے کا ارادہ ہے۔ ان منصوبوں کے لئے ایک خاص سڑک کی بجائے اس بیلٹ یا کوریڈور کو پہلے سے موجود زمینی راستوں یعنی سڑکوں اور پلوں کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ یوں چین، منگولیا، روس،وسطی چین اور مغربی ایشیاء، انڈو چائنہ کا علاقہ، پاکستان، بنگلہ دیش، انڈیا اور میانمار کو آپس میں لانے کی بنیاد رکھ دی جائے گی۔ دوسری طرف سمندری نیٹ ورک کے ذریعے بندرگاہوں اور سمندری ساحلی علاقوں میں انفراسٹرکچر منصوبوں کو زمینی راستوں سے مربوط کرنے کا پروگرام ہے۔ تا کہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیاء سے لے کر مشرقی افریقہ تک اور بحیرہ قلزم تک تجارتی راستوں کا وسیع اور مربوط نظام قائم کر دیا جائے۔cpec اس منصوبے میں 65ملکوں کی شمولیت متوقع ہے۔آبادی کے اعتبار سے دیکھیں تو ساڑھے چار ارب افراد اس سے مستفید ہوں گے۔ ان ممالک اور آبادی کی مجموعی قومی آمدنی کو جوڑ لیں تو یہ عالمی GDPکا چالیس فی صد بنتا ہے۔اس وسیع و عریض منصوبے کے لئے وسائل کی فراہمی کی ذمہ داری چین نے اُٹھا ئی ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے لئے چین نے نیو سلک روڈ فنڈ کے نام سے 40ارب ڈالرمختص کئے ہیں۔اس فنڈ کے لئے چین اپنے زر مبادلہ کا کچھ حصہ صرف کرے گا۔

جبکہ حکومت کے دیگر سرکاری اور مالیاتی ادارے بقیہ وسائل فراہم کریں گے۔ اس فنڈ کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔اس کے علاوہ حال ہی میں قائم ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک مذید ایک سو ارب ڈالر کے قرضے فراہم کرے گا۔ انفراسٹرکچر کے ان منصوبوں سے منسلک نو سو سے زائد صنعتی اور تجارتی منصوبوں کے لئے چائنہ ڈویلپمنٹ بنک نو سو ارب ڈالر کے وسائل فراہم کرے گا۔ یوں اپنی وضع اور نوعیت کے اعتبار سے یہ ایک منفرد اور کئی ملکوں کے درمیان مربوط منصو بہ ہے ا ب اگر پاکستان کی بات کی جائے۔ تو سی پیک منصوبے کی صورت میں پاکستان کے لئے انتہائی نادر اور سنہری موقع ہے۔ کہ اس سے اپنے بہترین معاشی مفاد ات اور متناسب علاقائی ترقی کے مطابق اس سے فائدہ اُٹھائے۔ خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان براہِ راست اس منصوبے کا حصہ ہو ں گے جبکہ دوسرے صوبے روڈ نیٹ ورک کے ذریعے منسلک ہو نگے۔ منصوبوں کی تیاری میں مقامی صنعتوں کی شمولیت مقامی لیبر اور افرادی قوت کی کھپت سمیت بہت سے حساس اور دور رس اہمیت کے معاملا ت اس پراجیکٹ کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔ بین الاقوامی اداروں کے مطابق سی پیک کے ذریعے 150ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس میگا منصوبے کے ذریعے رابطوں کو بڑھانے سے پاکستان کو تجارتی مواقع میسر ہوں گے اور دنیا کی 70فی صد سمندری تجارت پاکستان میں دو بڑی بندر گاہوں کراچی اور گوادر کے ذریعے ہو گی۔

گوادر متحدہ عرب امارات، خلیجی ممالک، سعودی عرب اور ملحقہ خطوں کے ساتھ درآمدات اور برآمدات کا بہترین اور تیز ترین ذریعہ بن جائے گا۔ مختصر یہ کہ سی پیک کے ذریعے پاکستان دنیا میں ایک مستحکم اقتصادی قوت کا حامل ملک بن کر ابھرے گا۔ اسی وجہ سے پاکستان مخالف طاقتوں اور گروہوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ جو کہ پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتیں۔جب کہ سی پیک منصوبے پر سب سے زیادہ مخاصمت بھارت کو ہے۔جس نے سی پیک منصوبے کی ابتداء سے ہی سازشوں کا جال بُننا شروع کر دیا تھا۔ بلوچستان میں بد امنی اور علیحدگی پسند تحریکیں کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ، بارڈر پر سر جیکل اسٹرائیک کا ڈھونگ رچائے سمیت دیگر ہتھکنڈے اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔ بھارت اس منصوبے کو روکنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ مختلف صوبوں میں سی پیک کی مخالفت میں اُٹھنے والی انتہائی خفیف آوازوں کے پیچھے بھی بھارت کا مکروہ چہرہ نمایاں ہے۔واضع رہے کہ مختلف سیاسی اور قوم پرست جماعتیں سی پیک کے خلاف آوازیں بلند کر رہی ہیں۔جس کے لئے وفاق اور عسکری قیادت کو چاہیئے کہ انہیں آن بورڈ لے کر ان کے جائز مطالبات کو پورا کریں۔ مگر تمام سیاسی اور قوم پرست جماعتون کو چاہیئے کہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد۔ سا لمیت اور خوشحالی کے ذریعے اس عظیم منصوبے کے خلاف صرف اپنے ذاتی مفاد ات کے لئے ہرزہ سرائی سے گریز کریں۔ پاکستان کی ترقی و سا لمیت اور خوشحالی کے ضامن سی پیک منصوبے کی تکمیل کے لئے قوم کا ہر فرد خواہ اس کی وابستگی کسی بھی سیاسی جماعت سے ہے۔ یا کسی بھی علاقے یا قوم سے ہے کو چاہیئے کہ مل کر ملک کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو مشترکہ جدو جہد کر کے اس عظیم ترین منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچاکر ترقی کے نہ ختم ہونے والے سفر پر گامزن کریں۔

عابد خان لودھی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از منزّہ سیّد