آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعریمحسن خالد محسن

عارفین

محسن خالد محسن کی ایک اردو نظم

گاؤں کی صبح
دُھند میں لپٹی ہوئی تھی
جیسے وقت نے
اپنے زخموں پر راکھ مل لی ہو
کچے راستوں پر
شبنم کے قطرے
ایسے بکھرے تھے
جیسے کسی فقیر کی جھولی سے
چاندی کے سِکے گِر گئے ہوں
ایک بوسیدہ گھر تھا
دیواروں کی سانس پھولی ہوئی
چھت بارش سے ڈرتی ہوئی
صحن میں
نیم کا بوڑھا درخت
اور اُس کے نیچے بیٹھا
عارفین
کتاب
اُس کے ہاتھ میں نہیں
اُس کی قسمت میں تھی
غربت
صرف خالی جیب نہیں ہوتی
یہ انسان کی آواز سے
اعتماد چُرا لیتی ہے
آنکھوں میں
جِھجک بھر دیتی ہے
اور خوابوں کے پاؤں میں
کانٹے اُگا دیتی ہے
لوگ کہتے تھے:
"غریب کا بیٹا
کھیت میں اچھا لگتا ہے
کتاب میں نہیں”
عارفین
خاموش رہتا
خاموش لوگ
اکثر اندر سے
بہت شور مچاتے ہیں
ایک دن
وہ گاؤں سے نکل آیا
کندھے پر
ایک پرانا بیگ
اور آنکھوں میں
شہر کی روشنیاں
ماں نے رخصت کرتے ہوئے کہا تھا:
"رزق کم ہو
تو پریشان نہ ہونا
نیت کمزور نہ ہونے دینا”
شہر
کوئی ماں نہیں ہوتا
وہ آنے والوں کو
سینے سے نہیں لگاتا
ریلوے اسٹیشن کی سیڑھیاں
اُس کا پہلا بستر بنیں
ہوٹل کے برتن
پہلی مزدوری
گودام کی بوریاں
پہلی آزمائش
دن
کالج کی کلاسوں میں گزرتا
رات
تھکے ہوئے جسم کے ساتھ
اینٹوں کی طرح گرتی
نیند
اُس سے ناراض تھی
وہ جان چکا تھا
خواب
مفت نہیں ملتے
کبھی کبھی
بھوک
اُس کے پیٹ میں
ایسے چیختی
جیسے کسی بند کمرے میں
قید جانور
وہ پانی پی کر
سو جاتا
مگر کتاب بند نہیں کرتا
کتاب
اُس کا واحد رشتہ تھی
جو اُسے دُھوکا نہیں دیتی تھی
وقت
بیل گاڑی کی طرح چلتا رہا
پھر ایک دن
نتیجہ آیا
عارفین کامیاب ہوگیا
گاؤں میں
لوگوں کے لہجے بدل گئے
کل تک
جو اُسے حقارت سے دیکھتے تھے
آج
اُس کے باپ کے ساتھ
چارپائی پر بیٹھتے تھے
یہ دُنیا
کامیابی کے بعد
کردار نہیں پوچھتی
صرف حیثیت دیکھتی ہے
عارفین نے
پہلی تنخواہ سے
ماں کی دوائی خریدی
بہنوں کے کپڑے
بھائی کی سائیکل
اور
اپنے لیے
کچھ نہیں لیا
کچھ لوگ
اپنی زندگی
دوسروں کے نام لکھ دیتے ہیں
وہ
بہنوں کی شادی کرتا رہا
بھائی کو ہنر سکھاتا رہا
گاؤں میں
پکا مکان بنواتا رہا
دیواریں اونچی ہوتی گئیں
اور اُس کے اندر
تنہائی بھی
پھر
اُس کی شادی ہوئی
عائشہ
خوبصورت تھی
تعلیم یافتہ
شہر کی لڑکی
شروع میں
زندگی
بارش کے بعد کی دُھوپ لگتی رہی
پھر
خواہشیں
گھر میں داخل ہوئیں
ایک نئی گاڑی
ایک بڑا گھر
مہنگے کپڑے
پارٹیاں
سفر
عارفین
اپنی تنخواہ
اور دیانت داری کے درمیان
پھنسا رہا
رشوت
ہر روز
اُس کے دروازے پر آتی
وہ انکار کر دیتا
لوگ ہنستے تھے
اُصول
چولہے میں نہیں جلتے
بھوک نہیں مٹاتے
عارفین
صرف ُمسکراتا
حرام کا لقمہ
پیٹ سے پہلے
ضمیر کو خراب کرتا ہے
عائشہ کی آنکھوں میں
شکوے بڑھتے گئے
ایک دن
اُس نے پوچھا:
"آپ نے
سب کو دیا
مجھے کیا ملا؟”
عارفین خاموش رہا
کچھ سوال
انسان کے اندر
قیامت برپا کر دیتے ہیں
پھر
طلاق ہوگئی
ایک لفظ
اور پوری زندگی
ریت کی دیوار بن گئی
عدالتیں
وکیل
تاریخیں
الزام
عزت
فائلوں میں بند ہو گئی
بھائی
نظریں چُرانے لگے
دوست
محفلوں میں ہنسنے لگے
رشتہ دار
تماشائی بن گئے
عارفین نے جانا
انسان
اجنبیوں سے نہیں
اپنوں سے ہارتا ہے
قرض
اُس کے کندھوں پر
پتھر کی طرح بڑھتا گیا
راتوں کو
وہ چھت پر بیٹھا
آسمان دیکھتا
ستارے
اُسے بجھے ہوئے خواب لگتے
پھر بھی
وہ ٹوٹا نہیں
اُس نے
دوبارہ کتاب اُٹھائی
لوگ حیران تھے
اس عمر میں؟
وہ ہنس پڑتا
علم
آخری سانس تک
انسان کا ساتھ دیتا ہے
پھر
دوسری شادی ہوئی
نازیہ
نرم لہجے والی عورت تھی
چند دن
زندگی نے
مرہم کا ڈرامہ کیا
پھر
شکوک
دُھواں بن کر
گھر میں بھر گئے
بحثیں
خاموشیوں میں بدل گئیں
اور ایک دن
یہ رشتہ بھی
مر گیا
لوگوں نے
اُسے منحوس کہا
عارفین
خاموش رہا
خاموش آدمی
اکثر
اپنے اندر
قبریں اُٹھائے پھرتے ہیں
وہ
کام کرتا رہا
ترقی کرتا رہا
بڑی کرسی
بڑے عہدے
بڑے منصوبے
لفافے
اُس کی میز پر آتے
گاڑیوں کی چابیاں
پیش کی جاتیں
وہ سب
واپس کر دیتا
ایک وزیر نے کہا:
"تم اس ملک میں
ایمان داری سے کیسے زندہ رہو گے؟”
عارفین ہنسا
میں
فرشتہ نہیں بننا چاہتا
صرف انسان رہنا چاہتا ہوں
پھر
اُس کے خلاف
جھوٹ بولے گئے
اخبار بھرے گئے
تبادلے ہوئے
مگر
وہ نہیں بدلا
سچ
بانس کی طرح ہوتا ہے
دیر سے بڑھتا ہے
مگر
آسمان سے بات کرتا ہے
وقت گزرتا رہا
ماں باپ
چلے گئے
بھائی
اپنی دُنیا میں کھو گئے
دوست
ضرورت تک محدود رہے
عارفین
اکثر سوچتا تھا
خون کے رشتے بھی
پانی کی طرح ہوتے ہیں
برتن بدل جائے
تو شکل بدل لیتے ہیں
پھر ایک دن
اُس کی کتاب شائع ہوئی
لوگ
اُسے سننے آنے لگے
یونیورسٹیاں
اُسے بلانے لگیں
وہ
مشہور ہوگیا
مگر
اُس کی آنکھوں میں
اب بھی
ایک تھکا ہوا گاؤں رہتا تھا
ایک شام
وہ واپس آیا
اُسی نیم کے درخت کے نیچے
ہوا میں
مٹی کی خوشبو تھی
اُسے
اپنی بھوک یاد آئی
پھٹے کپڑے
ریلوے اسٹیشن
عدالتیں
تنہائی
دُھوکے
وہ ہنس پڑا
اور رو بھی دیا
مالک
تو نے
عجیب سفر لکھا
سب کچھ چھین کر
مجھے
مجھ سے ملا دیا
صبح
گاؤں کے نوجوان
اُس کے گِرد بیٹھے تھے
ایک لڑکے نے پوچھا:
"کامیابی کیا ہے؟”
عارفین نے
نیم کے پتوں کو دیکھا
پھر آہستہ بولا:
"درخت
پھل دے کر بھی
پتھر کھاتا ہے
اچھا انسان ہونا
آسان نہیں ہوتا
دُنیا
سب کچھ معاف کر دیتی ہے
مگر
دیانت داری نہیں”
ہوا چلی
نیم کے پتے ہلے
اور عارفین
اُس زخمی سپاہی کی طرح لگا
جس نے
زندگی بھر جنگ لڑی
مگر
اپنی تلوار نہیں بیچی

محسن خالد محسن

post bar salamurdu

محسن خالد محسن

محمد محسن خالد (محسن خالد محسن) ؔ شاعر ،ادیب،محقق ،نقاد اور اُستاد ہیں۔ ان کے تین شعری مجموعے "کچھ کہنا ہے"،دُھند میں لپٹی شام اور"ت لاش" شائع ہو چکے ہیں۔ا نھوں نے کلاسیکی غزل میں "کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" کے موضوع پرناردرن یونی ورسٹی نوشہرہ سے پی ایچ ۔ڈی(اُردو) 2024 میں کی ہے۔بہ حیثیت لیکچرار(اُردو) گورنمنٹ شاہ حسین گریجوایٹ کالج چوہنگ میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کے پنتیس سے زائد تحقیقی مقالات ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے مصدقہ جنرلز میں شائع ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے معروف ادبی رسائل وجرائد اوربرقی اخبارات و بلاگز میں ان کے متفرق موضوعات پر مضامین اور کالمز باقاعدگی سے شائع ہو تے رہتے ہیں۔ ادب،سماج، معاشرت،سیاست و حالاتِ پر ببانگِ دُہل اپنی رائے کا اظہارکرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button