آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

‘مرغ جنگ’ اور معاشی استبداد کا نیا رخ

از پروفیسر اکرم ثاقب

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ بساط پر نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہاں "ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور” والا معاملہ درپیش ہے۔ یہ خطہ اس وقت ایک ایسے عالمی اکھاڑے کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں افق پر بلند ہوتے شعلے محض ایک بصری دھوکہ (Optical Illusion) ہیں، جبکہ پسِ پردہ اصل کہانی تباہی کی نہیں بلکہ "معاشی تسلط” کی نوآبادیاتی حکمتِ عملی ہے۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل کی مثلث میں جاری حالیہ کشیدگی اب کسی روایتی عسکری تصادم کے بجائے ایک نپی تلی "مرغ جنگ” (Managed Conflict) میں بدل چکی ہے۔ اس کھیل میں فریقین ایک دوسرے کی چونچ پکڑ کر محض اکھاڑے میں گرد اڑا رہے ہیں، مگر کوئی بھی حتمی وار کر کے اس کھیل کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس مصنوعی طوالت کا اصل ہدف عالمی توانائی کے نقشے کو بدلنا اور عرب ممالک کی معاشی خود مختاری کو گروی رکھنا ہے۔ بظاہر شعلے بلند ہیں اور طبلِ جنگ بج رہا ہے، لیکن پسِ پردہ یہ سارا تماشہ "بغل میں چھری منہ میں رام رام” کے مترادف ہے، جہاں ان تینوں کھلاڑیوں نے ایک ایسا مایا جال بن رکھا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف معاشی لوٹ کھسوٹ ہے۔

اس پوری بساط کا سب سے حساس مہرہ "آبنائے ہرمز” ہے، جو محض ایک جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی وہ شہ رگ ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے۔ یہاں ایک گہرا "تزویراتی تضاد” تخلیق کیا گیا ہے؛ جب بھی اس خطے میں جنگ کے بادل منڈلاتے ہیں، خلیجی تیل کی سپلائی لائن غیر محفوظ تصور ہونے لگتی ہے۔ یہیں سے امریکہ کا معاشی مفاد جنم لیتا ہے۔ امریکہ، جو اب دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے، اپنے "شیل آئل” (US Shale Oil) کے لیے عالمی منڈی میں اجارہ داری چاہتا ہے۔ خلیج میں عدم استحکام کی فضا عالمی سرمایہ کاروں اور خریداروں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ توانائی کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے بجائے واشنگٹن کی دہلیز پر دستک دیں۔ یوں، جنگ کی طوالت دراصل خلیجی تیل کی ساکھ کو مجروح کر کے امریکی توانائی کے تسلط کا جواز فراہم کرتی ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ "بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی”، یعنی خلیجی تیل کو اس قدر مشکوک بنا دیا جائے کہ دنیا "ڈوبتے کو تنکے کا سہارا” سمجھ کر امریکی تیل کی پناہ لینے پر مجبور ہو جائے۔

بظاہر ایران اور اسرائیل ایک دوسرے کے وجودی دشمن نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جائے تو یہ تناؤ دونوں کے لیے سیاسی و تزویراتی "آکسیجن” کا کام کر رہا ہے۔ تہران اس جنگ کو طول دے کر خود کو اسلامی دنیا کا واحد مزاحمتی مرکز ثابت کرنا چاہتا ہے تاکہ عرب ممالک کی معیشت پر دباؤ ڈال کر انہیں اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کر سکے۔ دوسری جانب تل ابیب اس کشیدگی کو اپنے "معاشی و دفاعی برانڈ” کی تشہیر کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیل یہ تاثر دینے میں کامیاب رہا ہے کہ ایران کے خطرے سے بچنے کے لیے عرب ممالک کی معاشی اور سیکیورٹی بقا صرف اسرائیل سے "رابطہ کاری” اور اس کی تکنیکی برتری کو تسلیم کرنے میں ہی مضمر ہے۔ ایران اور اسرائیل کی دشمنی "دور کے ڈھول سہانے” جیسی ہے، جہاں دونوں ایک دوسرے کو موقع فراہم کر رہے ہیں تاکہ "سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے”۔

یہ ایک ایسا تضاد ہے جہاں "خوف” کو بطور کرنسی استعمال کیا جا رہا ہے۔ عرب ممالک کو ایک طرف ایران کے میزائلوں کے ہیولے سے ڈرایا جاتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ معاشی اتحاد کو واحد جائے پناہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں "ایک پنتھ دو کاج” والا معاملہ ہے؛ ایک طرف توانائی کی منڈیوں پر قبضہ جمایا جا رہا ہے اور دوسری طرف عرب دنیا کو اس نہج پر لا کھڑا کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کی چوکھٹ پر دستک دینے کو ہی واحد راستہ سمجھیں۔ عالمی سطح پر میڈیا یہ تاثر پھیلاتا ہے کہ گویا دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، لیکن میدانِ عمل میں تمام فریقین ایک دوسرے کو حقیقی "تکلیف” پہنچائے بغیر صرف "مصروف” رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کے ڈرون حملے ہوں یا اسرائیل کی جوابی کارروائیاں، ان میں ایک غیر مرئی لیکن انتہائی سخت "ریڈ لائن” (Red Line) کا احترام ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے۔ یہ محض گرد اڑانے کی وہ مشق ہے تاکہ عالمی برادری پریشان رہے اور اصل کھلاڑی پردے کے پیچھے اپنے معاشی ایجنڈے خاموشی سے مکمل کرتے رہیں۔ یہ فریقین ایک دوسرے کو خراش تک نہیں آنے دیتے لیکن تماشائیوں کو "خدا لگتی” دکھا کر لرزنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

حقیقت میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ کھیل محض نظریاتی یا مذہبی جنگ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی معاشی جارحیت ہے، جس کا حتمی مقصد عرب معیشتوں کے وسائل کو داخلی عدم استحکام کے خوف میں الجھا کر انہیں عالمی طاقتوں اور اسرائیل کی معاشی چھتری تلے لانا ہے۔ اصل میں یہ "میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو” کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت معصوموں کا لہو بیچ کر تجوریاں بھری جا رہی ہیں۔ جب تک خطے کے ممالک "اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت” والی نوبت آنے سے پہلے اس مکر و فریب کو نہیں سمجھیں گے، وہ اسی طرح "آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا” کے مصداق معاشی غلامی کے بھنور میں پھنسے رہیں گے۔ یہ جنگ نہیں، بلکہ معاشی غلامی کا ایک جدید ترین نسخہ ہے جس کی قیمت معصوم انسانی جانوں کے ضیاع اور خطے کے روشن مستقبل کی بربادی سے چکائی جا رہی ہے۔ یہ تو ایک منظم "بندر بانٹ” ہے جس میں بندر کی بلا طویلے کے سر تھوپ دی گئی ہے۔

پروفیسر اکرم ثاقب

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button