آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتعاطف کمال رانا

بہار زخم لب آتشیں ہوئی مجھ سے

ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا

بہار زخم لب آتشیں ہوئی مجھ سے

کہانی اور اثر آفریں ہوئی مجھ سے

میں اک ستارہ اچھالا تو نور پھیل گیا

شب فراق یوں ہی دل نشیں ہوئی مجھ سے

گلاب تھا کہ مہکنے لگا مجھے چھو کر

کلائی تھی کہ بہت مرمریں ہوئی مجھ سے

بغل سے سانپ نکالے تو ہو گیا بدنام

خراب اچھی طرح آستیں ہوئی مجھ سے

کہاں سے آئی ہے خوشبو مجھے بھی حیرت ہے

یہ رات کیسے گل یاسمیں ہوئی مجھ سے

میں اپنے پھول کھلائے ہیں اس کی جھاڑی پر

قبائے یار بہت ریشمیں ہوئی مجھ سے

بس ایک بوسہ دیا تھا کسی کے ماتھے پر

تمام شہر کی روشن جبیں ہوئی مجھ سے

غزل سنی تو بہت دل سے خوش ہوا عاطفؔ

مگر غزل کی ستائش نہیں ہوئی مجھ سے

عاطف کمال رانا

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button