رب تعالیٰ پر بھروسہ
ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب
مختصر مگر اہم بات
( چھٹی کہانی )
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جب ہم تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ہمارے اسلاف کے بارے میں وہ باتیں معلوم ہوتی ہیں جو نہ صرف ہمیں زندگی کو صحیح راستوں پر چلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں بلکہ ہمیں یہ بھی فخر ہوتا ہے کہ ہم کس مذہب کے پیروکار ہیں کیونکہ ان زندگی صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اس کے رسول ﷺ کی احادیث کے عین مطابق ہی گزری ہوتی ہے ہماری آج ” مختصر مگر اہم بات ” میں ایک ایسی ہی شخصیت کا ہم ذکر کررہے ہیں جن کا نام ہر ذی شعور انسان جانتا ہے اور تاریخ اسلام میں یہ ایک بڑا نام ہے یعنی "رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہا ”
یہاں ہم ان کی شخصیت اور ان کے مقام کے بارے بات نہیں کریں گے یہ ایک الگ موضوع ہے اس پر بھی کبھی الگ سے آرٹیکل لیکر حاضر ہو جائوں گا آج ہم ان کے صبر و قناعت اور اپنے رب تعالیٰ پر بھروسہ کے ایک خوبصورت واقعہ کو پڑھیں گے اور بہت کچھ حاصل کرکے اپنی زندگی کو اس پر ڈھالنے کی کوشش کریں گی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ رحمتہ اللہ علیہا ﮐﮯﯾﮩﺎﮞ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﮯﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ رحمتہ اللہ علیہا ﻧﮯﺍﭘﻨﯽ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﮐﻮ ﺍﻟﮓ ﺑﻼ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻮﺍﺿﻊ ﮐﯿﻠﺌﮯﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯﮐﻮ ہےـ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩہے۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ رحمتہ اللہ علیہا ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﺳﮯﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ؟ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﺣﺼﮯﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﭨﮑﮍﺍ ﮨﯽ ﺁﺋﮯﮔﺎ۔ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺁﭖ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺩﺭﻭﯾﺸﻮﮞ ﮐﮯﭘﺎﺱ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯﺁﺋﯿﮟ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﮨﯽ ﺩﯾﺮ ﮔﺰﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﻧﮯﺩﺭ ﭘﺮ ﺻﺪﺍ ﺩﯼ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ رحمتہ اللہ علیہا ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﺱ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﻨﺪ ﮐﻮ ﺩﮮﺩﻭ ﺟﻮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮﮐﮯﺑﺎﮨﺮ ﮐﮭﮍﺍ ہے۔ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺁﭖ ﮐﮯﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ رحمتہ اللہ علیہا ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ۔ "ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮﺁﯾﺎ ﮨﮯ۔” "ﮐﺘﻨﯽ ﺭﻭﭨﯿﺎں ہیں ? ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯ رحمتہ اللہ علیہا نے ﺧﺎﺩﻣﮧ ﺳﮯﭘﻮﭼﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﻭ۔ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯﮨﻤﺎﺭﮮﮔﮭﺮ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ہے۔” ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺍﻃﻼﻉ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺷﺨﺺ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﮨﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ رحمتہ اللہ علیہا ﻧﮯﺭﻭﭨﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﺎﻧﭻ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ رحمتہ اللہ علیہا ﻧﮯﺟﻮﺍﺑﺎً ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ "ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﺱ ﺳﮯﮐﮩﮧ ﺩﻭ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯽ۔” ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺷﺨﺺ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ رحمتہ اللہ علیہا ﻧﮯﻣﺴﺮﺕ ﮐﮯﻟﮩﺠﮯﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ "ﮨﺎﮞ! ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮨﯽ ہے اور ﺍﺳﮯﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﻮ۔” ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﮐﮭﺎﻧﺎ ﻻ ﮐﺮ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﺳﺎﻣﻨﮯﺳﺠﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﭼﮑﮯﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﻧﮯﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﻦ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﺷﺨﺎﺹ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ ﺁئے۔ ﺩﻭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺁﭖ ﻧﮯﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﻣﮕﺮ ﺗﯿﺴﺮﮮﺷﺨﺺ ﮐﮯﻻﺋﮯﮨﻮﺋﮯﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﯾﮧ ﮐﯿﺎﺭﺍﺯ ہے؟ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ رحمتہ اللہ علیہا ﻧﮯﺩﺭﻭﯾﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﺗﮯﮨﻮﺋﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ "ﺣﻖ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﮯﺑﺪﻟﮯﺩﺱ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺘﺮ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺩﻭ ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭨﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮﮐﺮ ﺭﺯﺍﻕ ﻋﺎﻟﻢ ﺳﮯﺳﻮﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺩﻭ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭﺩﻭﺳﺮﺍ ﭘﺎﻧﭻ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺣﺴﺎﺏ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﮐﺴﯽ ﺗﺮﺩﺩ ﮐﮯﺑﻐﯿﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻋﯿﻦ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﮯﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻨﮯﻭﺍﻟﮯﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﺭﺯﺍﻗﯽ ﮐﻮ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺩﺱ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯﺑﺪﻟﮯﻣﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺭﻭﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺳﻮﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ’ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔” ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ رحمتہ اللہ علیہا ﮐﯽ ﺻﺒﺮﻭﻗﻨﺎﻋﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﮐﻞ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩﮦ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اگر ہم اس وقعہ کو آج کے تناظر میں دیکھیں تو ہمارے یہاں اگر اچانک کوئی مہمان جائے تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں اور مہمانوں کے بارے میں کیا کچھ سوچنے لگتے ہیں جبکہ ہمارے بزرگان دین اپنی زندگی کو کس طرح گزارتے تھے اپنے رب تعالیٰ پر مکمل توکل کے ساتھ اور بیشک پھر وہ رب العزت اپنے ان خاص بندوں کی مدد بھی اپنی شان کے مطابق کرتا ہے جیسے یہاں حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہا کے لیئے کی بس ہمیں بھی اپنے ہر جائز معاملے میں اپنے رب پر مکمل بھروسہ کرنا ہوگا پھر کوئی بعید نہیں کہ وہ رب ہماری بھی سن لے اور ہمیں اپنے خاص بندوں میں شامل کرکے ہماری بھی مدد کرے
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں بھی اپنے اسلاف کی زندگی کو پڑھ کر سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔
محمد یوسف میاں برکاتی








