آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعرینجمہ منصور

ان کے کپڑے نہیں جسم پھاڑ ڈالو

ایک اردو نظم از نجمہ منصور

ان کے کپڑے نہیں جسم پھاڑ ڈالو
جیسے گلاب کو پتی پتی بکھیرتے ہیں
ان کا انگ انگ ادھیڑ کر رکھ دو
بھنبھوڑو ، کاٹو
کاٹ کاٹ کر کھاؤ
اور جشن مناؤ

کوئی آئے گا
ان کے دریدہ بدن کو
صندوق میں بند کر کے
دریا برد کر دے گا
وہ پھر بھی کنارے لگ جائیں
تو ان کے لخت لخت بدن کو
کسی دلدلی زمین میں گاڑ دینا
وہ زمین کی کوکھ میں گھر بنا لیں گی
کہ دنیا ان کے لیے
اس سے بڑی اندھی قبر ہے

دکھ کا فولادی چکر چلتا رہے گا
رات دن کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی رہے گی

مان لو کہ
آدھا سورج آدھا چاند اور آدھی عورت
موت کے ساتھ لڑتے لڑتے
آخر ایک دن ڈھل جاتے ہیں!

نجمہ منصور

post bar salamurdu

نجمہ منصور

نجمہ منصور ۹نومبر ۱۹۶۶ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ۱۹۸۰ء میں میٹرک گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سرگودھا سے کیا اور ایم۔اے تاریخ اور ایم۔اے ایجوکیشن کی ڈگری بھی حاصل کی۔ نجمہ منصور بنیادی طور پر نثری نظم کی شاعرہ ہیں شاعری کا آغاز کالج دور سے ہوا۔ پہلی کتاب 1990 میں شائع ہوئی مگر ان کا علمی و ادبی سفر صرف شاعری تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ایک بہترین ریسرچ اسکالر کے طور پر بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہیں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہی ہیں ان کی ایک کتاب ،، اگر نظموں کے پر ہوتے ،، کا ترجمہ انگریزی زبان میں بھی ہو چکا ہے۔ ان کی تقریباً دو درجن کے لگ بھگ کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button