لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی
ایک اور عمدہ تحریر از ایم اے دوشی
خبر آئی ہے کہ لفظوں کا وہ لازوال دیوتا، جس نے زبان کو دھڑکنیں اور جذبات کو سادگی کا پیرہن عطا کیا، اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا ہے۔ اردو غزل کا روشن ترین ستارہ، ڈاکٹر بشیر بدر 28 مئی کو 91 برس کی عمر میں اس جہاںِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دل کو دہلا دینے والی بات وہ منظر تھا جو ان کے آخری سفر میں دیکھنے کو ملا۔ جس نگری میں 35 لاکھ سے زائد افراد مکین ہوں، جہاں کی گلیوں میں
ان کے اشعار گونجتے ہوں، وہاں اس عظیم تخلیق کار کے جنازے میں صرف 20 افراد کا شریک ہونا ادبی دنیا کے لیے ایک ناسور کی طرح ہے۔ یہ صرف ایک تخلیق کار کا جنازہ نہیں تھا، بلکہ اس مادی سماج کی اس بے حسی اور سردمہری کا بھی جنازہ تھا جو اپنے محسنوں کو ان کی زندگی میں تو سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے، لیکن رخصتی کے وقت تنہا چھوڑ دیتی ہے۔ ایسے ہی موقعوں کے لیے شاید انہوں نے کہا تھا:
گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے
بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا
یہ وہی بشیر بدر تھے جن کا ایک شعر ہماری سیاسی اور سفارتی تاریخ کا حصہ بنا۔ یہ سنہ 1972 کا واقعہ ہے جب پاک و ہند کے درمیان جنگ کے سائے ابھی چھٹے نہیں تھے، ملک کا مشرقی حصہ جدا ہو کر بنگلہ دیش بن چکا تھا، اور اسکے وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو امن معاہدے کی خاطر شملہ پہنچے تھے۔ وہاں دشمنی کی تلخی کو مٹانے اور مستقل امن کی راہ نکالنے کے لیے بھٹو صاحب نے انڈین وزیراعظم اندرا گاندھی کو بشیر بدر کا یہی تاریخی شعر سنایا تھا:
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
کہا جاتا ہے کہ شملہ میں یہ کلام سن کر اندرا گاندھی نے چونک کر کہا تھا کہ ہمارا شعر ہمیں ہی سنا رہے ہیں۔ جس شاعر کے لفظ سرحدوں کے آر پار تاریخ کے رخ موڑنے کی طاقت رکھتے تھے، سوچنے کی بات ہے کہ کیا اس کا آخری سفر محض 20 کندھوں کا محتاج تھا؟ وہ زندگی کے آخری ایام میں شدید علالت اور ڈیمنشیا جیسے موذی مرض کا شکار تھے، جہاں یادداشت ان کا ساتھ چھوڑ چکی تھی اور وہ اپنوں تک کو پہچاننے سے قاصر تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے قریبی دوست بتاتے ہیں کہ وہ جب بھی ان کے کمرے میں جاتیں، بشیر بدر یادداشت کھونے کے باوجود خواتین کے احترام میں کھڑے ہو جاتے۔ کبھی کبھار جب کوئی ان کے سامنے ان کے اپنے مصرعے پڑھتا، تو وہ لاشعوری طور پر اگلا مصرع مکمل کر دیتے۔ ان کی دوسری اہلیہ ڈاکٹر راحت بدر اور بیٹے طیب بدر نے آخری وقت تک ان کا خیال رکھا۔ لیکن افسوس! جس شاعر کے گھر کی تختی پر لکھا تھا:
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
اس کی زندگی کی شام واقعتاً ایک ایسی گلی میں ہوئی جہاں پورا شہر روشن تھا، مگر جنازے کی صفیں ویران تھیں۔
ڈاکٹر بشیر بدر اردو ادب کے ان گنے چنے معماروں میں سے تھے جنہوں نے غزل کو پیچیدہ تراکیب سے آزاد کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلیں صرف ادبی نشستوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ چائے خانوں سے لے کر سوشل میڈیا کی پوسٹس اور ایوانوں تک، ہر عام و خاص کی زبان پر جاری رہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ شاعری اگر دلوں کو نہ چھوئے تو وہ محض لفظوں کا گورکھ دھندا ہے، اس لیے وہ زندگی کی کڑوی اور پیچیدہ سچائیوں کو نہایت سہل انداز میں کہہ جاتے تھے۔ جب وہ شہر کے بدلے ہوئے مزاج اور منافقت کا نقشہ کھینچتے تھے تو کہتے تھے:
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
بشیر بدر کی تخلیقی پرواز صرف مشاعروں کی واہ واہ تک محدود نہیں تھی، انہوں نے علم و تحقیق کے میدان میں بھی گراں قدر کام کیا۔ ان کا علمی سفر اس وقت ایک نئے رخ پر مڑا جب انہوں نے 1974 میں میرٹھ کالج کے شعبہ اردو میں بطور لیکچرر اپنے سفر کا آغاز کیا اور 1980 کی دہائی کے آخر تک وہاں علم کی شمع روشن کرتے رہے۔ شاعری کے ساتھ ساتھ تنقید نگاری میں بھی اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے۔ ان کی تصانیف اردو ادب کا وہ سرمایہ ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے شعری مجموعوں میں اکائی، آمد، آہٹ، آس اور کلیاتِ بشیر بدر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تنقیدی ادب میں ان کی کتب آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ اور 20 ویں صدی میں غزل کو آج بھی نصابی اور تحقیقی حوالوں کے لیے سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔
18000 سے زائد اشعار کے خالق اس عظیم شاعر کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ہندوستان کے باوقار اعزازات پدم شری اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ اتر پردیش اور بہار کی اردو اکیڈمیوں نے بھی ان کی پذیرائی کی۔ یہی نہیں، بلکہ 1980 میں نیو یارک میں انہیں پوئٹ آف دی ایئر کے عالمی خطاب سے بھی سرفراز کیا گیا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی نفرتوں کو مٹانے اور محبتوں کو عام کرنے میں گزار دی، جیسا کہ ان کا شعر ہے:
سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں
آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت
ڈاکٹر بشیر بدر صاحب کے قریبی دوست بھی اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ بشیر بدر نے مشاعرے کے کلچر کو ایک نئی جدیدیت عطا کی، جس نے نئی نسل کو اردو ادب کی طرف راغب کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ عارضی عروج اور شہرتیں مستقل نہیں ہوتیں، اسی لیے وہ خود کو اور دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہتے تھے:
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے
جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
ان کی اس مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سنہ 2020 میں جب ان کی 85 ویں سالگرہ تھی، تو مدھیہ پردیش کے اس وقت کے گورنر لال جی ٹنڈن نے خود بھوپال میں ان کے گھر جا کر انہیں مبارکباد پیش کی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ حکومتیں اور وقت کے حکمران بھی ان کے مرتبے کے سامنے سر جھکاتے تھے۔ لیکن وقت کا پہیہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ زندگی کے آخری دور میں جب ڈیمنشیا نے ان کے ذہن پر دھندلاہٹ پھیلا دی، تو وہ بھوپال کے اسی گھر میں گوشہ نشین ہو کر رہ گئے۔ جس شخص کی آواز لاکھوں کے مجمعے کو مسحور کر دیتی تھی، وہ اپنے آخری دنوں میں خاموشی کی چادر اوڑھے دنیا سے کٹ چکا تھا۔
کسی نے سچ کہا تھا کہ بڑے فنکار کی اصل پہچان اس کے اعزازات یا سرکاری تمغے نہیں ہوتے، بلکہ وہ لفظ ہوتے ہیں جو وہ لوگوں کے حافظے میں چھوڑ جاتا ہے۔ بشیر بدر کے چاہنے والے کہتے ہیں کہ ان کی اصل طاقت وہ اشعار تھے جو زندگی کے ہر موڑ پر، خوشی ہو یا غم، عام انسان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کے انتقال کے بعد جب ان کی آخری رسوم ادا کی جا رہی تھیں، تو وہاں موجود مٹھی بھر لوگوں کی گفتگو کا مرکز بھی ان کی شاعری ہی تھی۔ وہ شاعر جو اپنی زندگی میں زمین کی تنگی کا گلہ کچھ اس انداز میں کر گیا تھا:
زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
ان کی یہ رخصتی ہمارے ادبی اور سماجی شعور پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے۔ 35 لاکھ کی آبادی والے شہر میں ان کے جنازے کی یہ ویرانی اس بات کا اعلان ہے کہ ہم ایک ایسے مادی دور میں جی رہے ہیں جہاں زندہ لوگوں کی واہ واہ تو بہت ہوتی ہے، مگر رخصت ہو جانے والے محسنوں کے لیے کندھے کم پڑ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر بشیر بدر بھلے ہی جسمانی طور پر ہم سے جدا ہو گئے ہوں، لیکن جب تک اردو زبان زندہ ہے، ان کی غزلوں کے اجالے ہمارے ساتھ رہیں گے اور وہ اپنے لفظوں کے ذریعے ہمیشہ امر رہیں گے۔ دنیا کے اس سفر کے اختتام پر ان کا یہی پیغام ہمیشہ گونجتا رہے گا:
مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی
کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی
ایم اے دوشی








