میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بیحد پسند فرماتا ہے جو اس کی مخلوق کا خیال رکھتے ہیں ان کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں اور اس کی رضا کے لیئے وقت پڑنے پر ان کی مدد کرتے ہیں کیونکہ خدمت خلق یعنی خلق خدا سے محبت اخلاقی اور دینی اعتبار سے ایک عظیم اور بڑی نیکی شمار کی جاتی ہے جب ہم تاریخی کتابیں اور تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں بیشمار ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں لوگوں کو لوگوں کی بھلائی ، محبت اور ہمدردی کرتے ہوئے ان کا ذکر کیا گیا ہے اور آج کے اس معاشرے میں بھی ہمیں یہ معاملات اکثر و بیشتر نظر آتے رہتے ہیں سنائی دیتے رہتے ہیں اور پڑھنے کو بھی ملتے ہیں خلق خدا سے محبت کا یہ سلسلہ ہمیں انبیاء کرام علیہم السلام اس کے بعد صحابہ کرام علیہم الرضوان پھر بزرگان دین اور اولیاء کرام سے بھی ملتا ہے اور وہیں سے یہ سلسلہ اب تک چلا آرہا ہے اور رہتی قیامت تک چلتا رہے گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں خلق خدا سے مراد صرف انسان نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات ہیں ان میں جانور اور چرند پرند بھی شامل ہیں جو بے زبان ہوتے ہیں لہذہ وہ ہم اشرف المخلوقات یعنی انسانوں کی مدد کے زیادہ طالب ہوتے ہیں جیسے صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے جسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکار مدینہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص نے ایک کتے کو دیکھا، جو پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا تھا۔ تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس سے پانی بھر کر پلانے لگا، حتیٰ کہ اس کو خوب سیراب کر دیا۔ اللہ نے اس شخص کے اس کام کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔
( صحیح البخاری کتاب الوضوء حدیث 173)
یہ ہے خلق خدا کی ایک عظیم مثال اگر ہم انسانوں کے متعلق بات کرتے ہیں تو خلق خدا کی خدمت بلا تفریقِ مذہب و نسل، دوسروں کے دکھ درد بانٹنے اور معاشرے کو بہتر بنانے کا عمل ہے۔ یہ ایک اعلیٰ اخلاقی و روحانی قدر ہے جو معاشرتی ہم آہنگی، باہمی محبت اور سکون کا باعث بنتی ہے اسی رب تعالیٰ نے مخلوق کی خدمت کو خالق کی خدمت قرار دیا ہے صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت کے دن اللہ عزوجل فرمائے گا: آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہ کی۔ وہ کہے گا: میرے رب! میں کیسے تیری عیادت کرتا جبکہ تو رب العالمین ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا، تو نے اس کی عیادت نہ کی۔ تمہیں معلوم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا، تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔ وہ شخص کہے گا: اے میرے رب! میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا جبکہ تو خود ہی سارے جہانوں کو پالنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا، تو نے اسے کھانا نہ کھلایا۔ اگر تو اس کو کھلا دیتا تو تمہیں وہ (کھانا) میرے پاس مل جاتا۔ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا، تو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔ وہ شخص کہے گا: میرے رب! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جبکہ تو خود ہی سارے جہانوں کو پالنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا تو نے اسے پانی نہ پلایا، اگر تو اس کو پانی پلا دیتا تو (آج) اس کو میرے پاس پا لیتا۔”
( صحیح مسلم /كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6556]۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یعنی مخلوق کی خدمت رب العزت کی خدمت ہے اور جب رب العزت کسی بندے کی خدمت سے راضی ہوگیا تو دنیا کی کوئی طاقت اس بندے کو جنت میں جانے سے نہیں روک سکتی محترم پڑھنے والوں حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے ایک بلند پایہ اور انتہائی پرہیزگار بزرگ تھے ایک وہ بازار سے گزر رہے تھے تو دیکھا کہ ایک چڑیا پنجرے میں قید ہے اور اڑنے کی کوشش میں پھڑپھڑاتی ہے لیکن اسے بیچنے والا اسے باہر نکلنے کے تمام راستے بند کرکے مطمعین کھڑا ہے آپ علیہ الرحمہ نے جب دیکھا تو ترس آگیا اور آپ علیہ الرحمہ نے اپنے پاس موجود رقم سے اسے خرید لیا اور خرید کر آزاد کردیا وہ چڑیا اڑ گئی لیکن آپ علیہ الرحمہ کی یہ محبت اور شفقت بھول نہ پائی آپ علیہ الرحمہ جب بھی اپنے صحن میں بیٹھے نماز ادا کررہے ہوتے تو وہ چڑیا دیوار پر آکر بیٹھ جاتی اور آپ علیہ الرحمہ کے نماز پڑھتے منظر کو دیکھتی رہتی کبھی کبھار آپ علیہ الرحمہ کے کاندھے اور سر مبارک پر بھی آکر بیٹھ جاتی وقت گزرتا گیا اور ایک وقت وہ بھی آگیا جب حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کا وقت آگیا اور آپ علیہ الرحمہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے جب آپ علیہ الرحمہ کا جنازہ پڑھایا جارہا تھا تو وہ چڑیا سارا وقت غم سے نڈھال ہوکر وہیں اوپر اڑتی رہی اور جب تدفین کے لیئے قبر مبارک میں اتارا گیا تو تڑپ کر قبر کے اندر چلی گئی لوگوں نے اسے نکالنے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہ نکلی اور اسی قبر مبارک میں اپنی جان دے دی لوگوں کا ایک جم غفیر یہ منظر دیکھ رہا تھا اور کئی بد مذہبوں نے یہ منظر دیکھ کر کلمہ پڑھ لیا اور دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے کسی نے صحیح فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر رحم کرے گا اللہ رب العزت بھی اس پر رحم فرمائے گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں میں نے پہلے بھی کہا کہ انسان ہو جانور ہو چرند ہو یا پرند کسی کی بھی مدد کرنا اس کے ساتھ بھلائی کرنا مصیبت و پریشان میں اس کے کام آنا یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل ہے جب ہم تاریخی اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں خلق خدا کی مدد اور بھلائی کی کئی قسمیں اور صورتیں نظر آتی ہیں راستے سے پتھر کو ہٹا دینا سڑک پر پڑے پانی کو صاف کرنا کسی پیاسے کو پانی پلادینا بھوکے کو کھانا کھلا دینا اب وہ چاہے انسان ہو یا جانور چرند ہو یا پرند یہ کام اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی مخلوق کی خدمت کے زمرے میں آتے ہیں جو رب العزت کے نزدیک انتہائی پسندیدہ اعمال ہیں اور ہم گناہگاروں کے لیئے یہ چھوٹے چھوٹے عمل ہمارے لیئے بروز محشر بخشش کا سبب بھی بن سکتے ہیں محترم پڑھنے والوں خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ دلیل العارفین میں فرماتے ہیں کہ ”عاجزوں کی فریاد رسی، حاجت مندوں کی حاجت روائی، بھوکوں کو کھانا کھلانا، اس سے بڑھ کر کوئی نیک کام نہیں۔”
( دلیل العارفین مجلس 6 )
یہ ہی وجہ ہے کہ خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ کا آستانہ بھی لوگوں کے لئے ہمیشہ پناہ گاہ بنا رہتا تھا
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اللہ رب العزت تک پہنچنے کا بہتر راستہ ہے اس کے بندوں کی خدمت کرنا۔ چونکہ اللہ کو اپنی مخلوق سے پیار ہے اور وہ ان لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی خدمت کرتے ہیں لہٰذا صوفیہ کے ہاں بھی اس پر عمل پایا جاتا ہے۔
اللہ والوں کی خانقاہیں ہمیشہ بندگان خدا کے لئے کھلی رہتی تھیں اور یہاں سے ہر کوئی اپنے مسئلے کا حل پایا کرتا تھا۔اللہ رب العزت اپنے ایسے بندوں کے نیک اعمال اپنے پاس پوشیدہ رکھتا ہے یا تو وقت پڑنے پر کسی کو حکم ہوجا تا کہ میرے فلاں نیک بندے کی جاکر مدد کرو پھر بروز محشر اس کر اجرو ثواب عطا فرماتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ترک میں کئی بادشاہ گزرے ہیں ایسا ہی ایک بادشاہ گزرا ہے جس کا نام ” شاہ مراد ” تھا ایک رات وہ بڑا بے چین تھا لیکن اسے اس کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی اس نے اپنے خادم سے کہا کیوں نہ ہم باہر گشت پر چلیں اور ویسے بھی وہ اپنے عوام کی خبر گیری کے لیئے اکثر بھیس بدل کر نکل جایا کرتا تھا لہذہ وہ چلتے چلتے شہر کے کنارے پر پہنچا تو کیا دیکھا کہ ایک شخص کی لاش پڑی ہوئی ہے جبکہ لوگ اس کے پاس سے گزر بھی رہے ہیں لیکن نہ تو کوئی اس کو گھر تک پہنچا رہا ہے نہ غسل دینے کو تیار ہے اور نہ ہی کفن دفن کے لیئے آگے آرہا ہے بادشاہ نے لوگوں سے کہا کہ کیا ماجرا ہے آخر یہ کون ہے اور تم لوگ اس شخص کو ایسے کیوں چھڑرہے ہو تو لوگوں نے چونکہ بادشاہ کو پہچانا نہیں اس لیئے انہوں نے کہا کہ یہ بڑا فاسق اور زانی شخص ہے اس لیئے ہم اس قریب نہیں جارہے تو بادشاہ نے کہا کہ چلو اس کو اس کے گھر تک پہنچاتے ہیں جب اس شخص کی لاش اس کے گھر پہنچی تو اس کی بیوی نے روتے ہوئے کہا کہ چلے گئے نا میں کہتی تھی کہ ایسا ہی ہوگا پھر وہ اپنے شوہر کی لاش کو دیکھ کر کہنے لگی کہ میں اللہ تعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر کہتی ہوں کہ تم اس دور میں اللہ رب العزت کے ولی تھے اس کے محبوب تھے یہ سن کر بادشاہ حیران ہوگیا اور پوچھنے لگا کہ بی بی یہ کیا ماجرا ہے لوگ کچھ کہہ رہے ہیں اور تم کچھ تو کہنے لگی کہ میرا شوہر روزانہ شراب خانے جاکر ڈھیر ساری بوتلیں خرید لاتا اور پھر اسے گڑھے میں پھینک دیتا اور کہتا کہ چلو آج کتنے لوگ اس سے بچ گئے اسی طرح وہ طوائف کے گھر جاکر پوچھتے کہ آج کی رات کا تمہارا کیا حساب ہے وہ جو کہتی ساری رقم اس کے حوالے کرکے کہتے کہ تمہیں تمہاری رقم مل گئی ہے اب کسی کو اندر نہ آنے دینا پھر گھر آکر کہتے شکر ہے آج کئی لوگوں کو اس گناہ سے بچا آیا ہوں لوگ انہیں شراب خانے اور طوائف کے پاس جاتے ہوئے دیکھتے تھے اور بغیر حقیقت جانے یہ سمجھتے تھے کہ وہ شرابی اور زانی ہیں میں ان سے کہتی تھی کہ جب آپ کا انتقال ہوگا تو لوگ آپ کو غسل دینے اور نماز جنازہ پڑھنے کے لیئے بھی نہیں آئیں گے تو مجھے ہنس کر کہتے ارے پاگل میرا جنازہ وقت کا بادشاہ ، علماء و اولیا پڑھیں گئے تو گھبرا مت یہ سن کر بادشاہ مراد رو پڑا اور اس کی بیوی سے کہنے لگا کہ تمہارے شوہر نے صحیح کہا کیوں کہ میں شہنشاہ وقت مراد ہوں کل ہم اس کو غسل دیں گے اور اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے چنانچہ اس کا جنازہ بادشاہ وقت ، علماء و اولیا و عوام کی کثیر تعداد نے پڑھا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں خلق خدا کی خدمت ان کی مدد اور ان کو گناہوں سے بچانے کی یہ بھی ایک عظیم مثال تھی ۔میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ مخلوق خدا پر رحم کرنا اور ان کی خدمت کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی کئی جگہوں پر فرمایا جبکہ ہمیں کئی احادیث بھی ملتی ہیں جن میں اس کی تلقین کی گئی ہے جیسے صحیح بخاری کی ایک حدیث کے مطابق
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نےفرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "(بنی اسرائیل کی) ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا تھا جسے اس نے قید کر رکھا تھا جس سے وہ بلی مر گئی تھی اور اس کی سزا میں وہ عورت دوزخ میں گئی۔ جب وہ عورت بلی کو باندھے ہوئے تھی تو اس نے اسے کھانے کے لیے کوئی چیز نہ دی، نہ پینے کے لیے اور نہ اس نے بلی کو چھوڑا ہی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی۔”
صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3482] ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں خلق خدا سے محبت کے فضائل و کمالات سے قرآن مجید میں بیشمار آیتیں ہمیں ملتی ہیں اسی طرح بیشمار احادیث میں بھی ہمیں خلق خدا سے محبت پر سرکار مدینہ حضور ﷺ کے فرمان نظر آتے ہیں جبکہ ہماری یہاں اس موضوع پر کتابیں بھی بھری پڑی ہیں شرط ہے ان کا مطالعہ کرنا انہیں سمجھنا اور اس پر عمل کرنا اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خلق خدا سے ہمدردی و محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور بروز محشر اس کے سبب جنت الفردوس جیسی نعمت سے ہمیں سرفراز فرمائے اور اب ہمیشہ کی طرح آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔
محمد یوسف میاں برکاتی







