آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشہزاد نیّرؔ

کہانی چل رہی ہے

از قلم انعام الحسن کاشمیری

inam kashmiri
جناب شہزاد نیّرؔ کا نام ادبی حلقوں میں اب غیرمعروف نہیں رہا۔ انھوں نے نہایت ہی قلیل عرصے میں جو مقام بنایا ہے، یہ دراصل ان کی شبانہ روز محنت، مسلسل عرق ریزی، تسلسل کے ساتھ تخلیقات اور مختلف اصناف ادب خاص طور پر شاعری میں طبع آزمائی کانتیجہ ہے ۔ وہ مشاعروں کی جان بن چکے ہیں اور ادبی رسائل و جرائد میں ان کی تخلیقات جن میں تنقیدی مضامین، خاکے، مائکروف اور ربوتاژ وغیرہ شال ہیں، کی اشاعت کوبھرپور جگہ دی جارہی ہے۔وہ بنیادی طور پر فوجی ہیں۔ ملازمت کے دوران بھی مصروفیات میں سے وقت نکال کر لکھنے کی طرف توجہ مبذول کیے رکھی۔ میجر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تو اُن کا ارادہ تھا کہ اب خوب فراغت میسر ہوگی اور دل کھول کر قلم چلاؤں گا لیکن قلم بیچارہ یاس و حسرت کی تصویر بنااُن کی طرف دیکھتا ہی رہ گیا اور وہ گھراورگرہستی کے مشاغل میں ایسے کھوئے کہ کئی برس تک یہ بھول ہی گئے کہ وہ بھی تخلیق کار ہیں۔ اُن کے بقول:۔‘‘فوج کی ملازمت سے سبک دوش ہوا تو لگتا تھا کہ اب ہر طرف فرصت ہی فرصت ہوگی۔ جلد ہی معلوم ہوگیا کہ عیال داری بھی ایک مستقل جھنجھٹ ہے جس میں چھٹی نہیں ملتی۔ ریٹائرمنٹ کے چھ سال بعد میں نے کچھ وقت چرایا اور پرانی فائلوں کی گرد جھاڑی۔ کچھ کہانیاں پڑھ کر دل میں ٹیس اٹھی، کچھ خنجر کی طرح سینے میں پیوست ہوگئیں۔ کچھ نشتر کی طرح لگیں اور پرانا مواد بہہ نکلا۔ ارادہ کیا کہ انھیں صاف کرکے لکھوں۔ کچھ جملے بدلوں، کچھ حذف کروں۔ فالتو فقرو ں کی تو لمبے افسانے میں گنجائش نہیں ہوتی، یہ تو پھر صفحے ڈیڑھ صفحے کی کہانی ہے۔ نامکمل کہانیوں کو مکمل کرکے کتاب کرنے میں کئی مہنے لگ گئے۔ اینٹ اینٹ جوڑ کر ہموار دیوار کا تاثر دینا اتنا سہل نہیں ہوتا۔ ’’
شہزاد نیئر نے یہ کہانیاں کچھ مشاہدات اور کچھ تجربات کی بنیاد پر لکھیں۔ وہ اپنی یونٹ کے ساتھ جہاں بھی گئے،جہاں بھی رہے ان کی مشاہداتی قوت نے انھیں نت نئے موضوعات سے متعارف کروایا اور کہانیاں اپنے ریشمی بال پھیلائے، اپنی شبنمی آنکھیں کھولے اور اپنے نازک اندام وجود کے سائے لہراتے ہوئے ان کے سامنے رقص کرنے لگیں۔ ملازمت کے تقاضوں اور وہ بھی فوجی آدمی کے لیے، ممکن نہیں کہ وہ طویل کہانیاں لکھے۔ خیالات کو افسانوں کا رنگ و روپ دے اور صفحے سیاہ کرتا چلاجائے۔ طویل کہانیوں یہاں تک کہ ناول نگاروں نے بھی کسی اچھوتے خیال کو فوری طور پر باندھ کر رکھنے کے لیے انھیں انتہائی مختصر کہانی کے روپ میں صفحہ قرطاس پر اتارا تاکہ بعد میں جب فرصت ملے، تو وہ اس کو اپنے زور تخیل کی بنیاد پر حسبِ ضرورت پھیلا سکیں۔ کچھ نے تو اس فوری عمل کے نتیجے میں لکھی ہوئی مختصر کہانی کو یوں ہی باقی رہنے دیا اور کسی نے اسے پھیلا کر افسانے یا ناول کا رنگ دے دیا۔ شاید یہیں سے افسانچے کی ابتدا ہوئی۔دھیرے دھیرے مختصر کہانیاں مختلف نام اختیار کرنے لگیں جیسا کہ مائکروفکشن، فلیش فکشن، نینوفکشن، منی کہانی، پوپ کہانی وغیرہ۔ ان میں البتہ مائکروفکشن کامیابی کے ساتھ خوب لکھاجارہاہے۔ اس کے لکھنے کے لیے عام افسانے کی نسبت کہیں زیادہ مہارت درکار ہوتی ہے کیونکہ ایک ڈیڑھ صفحے ہی میں پوری کہانی کو بیان کرنے کے بعد ایک زبردست تاثر کے ساتھ اس کا اختتام کرنا پڑتا ہے تاکہ قاری اس حصار میں جکڑا جائے اور تاثیر اُس کے وجود کو پوری طرح نہلادے۔ یہ قوت تاثیر یا اثر پذیری ہی ایسے فکشن کی بنیاد ہے۔ اگرچہ اب سوشل میڈیا پر قارئین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے لکھاری حضرات اس اصطلاح کا استعمال کررہے ہیں ، لیکن بیشتر مواد جذبات سے عاری ہوتا ہے۔ تحریر میں زیادہ گہرائی نہیں ہوتی اور اختتام ایسا متاثر کن نہیں ہوتا کہ جو قاری کے جذبات و احساسات کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے سکے۔
شہزاد نیئرنے بھی جن خیالات، مشاہدات اور تجربات کو کاغذ پر اتار کر انھیں محفوظ کرلیا وہ ،یہی مختصرکہانیاں ہیں جو اس کتاب ‘‘کہانی چل رہی ہے’’ میں پیش کی گئی ہیں۔ پچھلے پیراگراف میں وہ اس کی بابت بتاچکے ہیں کہ مسلسل لکھتے رہنے کے باوجود وہ انھیں کہیں اشاعت کے لیے نہیں بھیج سکے، اس لیے انھیں فائل کی زینت بناتے رہے اور جب فراغت میسر آئی تو طے کیا کہ انھیں شائع کروایاجائے۔ سوشل میڈیا فریم نے تخلیق کاروں کو فوری ردعمل دیے جانے کا ایک زبردست پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے۔ یہاں پیش کردہ تخلیقات کے ردکیے جانے یا سراہے جانے کا فیصلہ قارئین کی جانب سے چند ہی گھنٹوں میں سامنے آجاتاہے اور جس سے لکھاری کو اپنی تحریر کی اہمیت اور حیثیت کا بھی بخوبی اندازہ ہوجاتاہے۔ چنانچہ شہزاد نیئر نے اپنی تخلیقات ‘‘انہماک انٹرنیشنل فورم ’’ پر پیش کرنا شروع کردیں۔ اس تجربے نے اُن کی خوابیدہ صلاحیتوں کو خوب اجاگر کیا اوراِس میدان میں اُن کا قلم جولانیاں دکھانے لگا۔ اِس سے جنم لینے والے جوش، حرکت، توانائی اور اثرات نے قاری کو بری طرح متاثر کیا ۔ یہ دراصل ایک چنگاری کے موافق ہے جو دیکھنے میں تو انتہائی چھوٹی اور معمولی سی دکھائی دیتی ہے لیکن جوں جوں اِس پر اپنی سانسوں کی پھوار ڈالتے جائیں وہ بڑھتے بڑھتے ضخیم الاؤ کا روپ دھا ر لیتی ہے۔
‘‘کہانی چل رہی ہے ’’ کو 2024ء میں نگارشات نے بڑے تزک و احتشام کے ساتھ شائع کیا ۔ اس کی تقریب رونمائی بھی شاندار رہی۔ مجھے یہ کتاب چند ماہ پیشتر ماہنامہ تخلیق کے دفتر میں جناب شہزاد نیئرکے ہاتھوں وصول پانے کااعزاز حاصل ہوا۔ تخلیق کے دفتر میں محترمہ سلمیٰ اعوان کے اعزاز میں ایک تقریب رکھی گئی تھی جس میں شمولیت کے لیے چند گنے چنے احباب کو دعوت دی گئی۔ جناب سونان اظہر نے اس خاکسار کوبھی مدعو کررکھا تھا۔ محترم غلام حسین ساجد، محترمہ مسرت کلانچوی اور دیگر چند لوگ اس تقریب کی رونق تھے۔ شہزاد نیئرسے میں اس سے قبل سوشل میڈیا اور ماہنامہ تخلیق اور ماہنامہ ادب لطیف کی وساطت سے متعارف ہوچکا تھا۔ وہ ادب لطیف کے نائب مدیر ہیں۔ اُن کی مسکراہٹ سے لبریز گفتگو ایک طرح دل موہ لیتی ہے۔ پھر اشعاراور واقعات کا ایک چشمہ ہے ، جو دوران گفتگو پھوٹتا چلاجاتاہے۔ فوجی افسران والی خشک طبیعت کے برعکس وہ بڑے ظریفانہ انداز و اطوار کے مالک ہیں جو پہلی ہی ملاقات میں اپنا اسیر بناڈالتے ہیں۔ ادبی ماحول نے اُن کی صلاحیت و لیاقت کو جو جلا بخشی ہے، اِس نے انھیں نکھارنے، بنانے اور اپنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
‘‘کہانی چل رہی ہے’’ شہزادنیئرکی نثرکی پہلی شاندار تخلیق ہے جس میں کوئی افسانچہ دوصفحات سے زائد پر مشتمل نہیں۔ چنانچہ ابتدائی 235صفحات میں پیش لفظ سمیت 144افسانچے شامل ہیں۔ جبکہ آخری حصے کے 25صفحات میں 5افسانے بھی شامل ہیں۔ افسانچوں میں جس درد، کسک اور حساسیت کا اظہار کیا گیاہے، وہ تادیر قاری کو اپنے حصار میں جکڑے رکھتے ہیں۔ سادہ، مختصر لیکن پُراثر جملوں کے ذریعے شہزاد نیئر نے کہانی کی بُنت اس انداز میں کی ہے، کہ پڑھتے ہوئے پہلے احساس ہوتا ہے کہ عام سی تحریر ہے، پھر خیال آتا ہے کہ نہیں! اچھی تحریر ہے۔ پھر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی زبردست تحریر پڑھی جارہی ہے اور ابھی یہ اندازہ پورا بھی نہیں ہوتا کہ یک دم ایک خنجر سا جگر میں پیوست ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی کہانی بھی ختم!درد کی ایک شدید لہر پورے وجود میں لہراتی ہے اور پھر دھیرے دھیرے اس کی کسک قاری کو اپنی بانہوں میں لیے لوریاں دیتی رہتی ہے۔
‘‘چارج’’ پہلا افسانچہ ہے ۔ یہ کہانی ایک غریب، بے کس اور لاچار شخص کی ہے جس کے بے گناہ بیٹے کو قتل کردیا جاتاہے اور مخالفین پولیس سے ساز باز کرتے ہوئے مظلوم شخص سے دھوکے سے صلح نامے پر انگوٹھے لگوالیتے ہیں۔ اب یہ بوڑھا شخص ہرروز صبح سے شام تک پولیس سٹیشن کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھا رہتاہے۔ ذہنی حالت بے حد ناگفتہ بہ ہوچکی ہے چنانچہ ہوا میں مکے لہراتا ہوا ظالموں کو مارتا رہتاہے۔ پولیس سٹیشن کا نیاانچارج آتا ہے، تووہ بوڑھے کو حیرانی سے دیکھتے ہوئے اس کی بابت استفسار کرتا ہے ۔ جانے والا اُسے یہ کہہ کر تسلی دیتا ہے کہ بے فکر رہو۔ اِسے بھی تمھارے چارج میں دے کر جارہاہوں۔ یہ مختصر کہانی ظلم وجبر، انسانیت سوزی اور چالاکی اور طرازی کی جو داستان بیان کرتی ہے، یہ ہمارے معاشرے پر کلنک کا وہ داغ ہے جو ہم منصوبوں، سکیموں اور اصلاحات کے باوجود شاید صدیوں میں بھی نہیں دھوسکتے کہ جب تک ہم تہذیب و اخلاقیات کو نچلی سے اوپر سطح تک رائج نہ کریں گے تب تک نظام درست نہیں ہوسکتا۔ جب بالائی طبقات قانون کے دائرہ کار میں آئیں گے تو نظام ازخود بہتری کی جانب گامزن ہوجائے گا۔
اولادِ نرینہ کاتو ہم صبح شام سنتے ہیں۔ ہر مقام پر کی جانے والی دعاؤں میں اولاد نرینہ کا ذکر ہوتاہے ۔ جن کے ہاں نہیں، تو اُنھیں عطا کیے جانے کے لیے اور جن کو عطا شدہ ہے، اُس کی بہتری اور فرمانبرداری کے لیے خوب دعائیں مانگی جاتی ہیں لیکن شاید ہماری سماعتوں سے ابھی تک ‘‘اولاد مادینہ ’’کے الفاظ نہیں ٹکرائے۔ شہزادنیئراپنے افسانچے ‘‘اولادمادینہ ’’ کے ذریعے یہ الفاظ ہمارے کانوں میں انڈیلتے اور بتاتے ہیں کہ بیٹوں کے لیے تو خوب وظائف ہیں لیکن بیٹیوں کی خواہش کی باریابی کس طرح ممکن ہو؟ اس کی کوئی دعا اور دوا شاید موجود نہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ میاں بیوی کے والدین بننے کی تکمیل ہی بیٹی کی پیدائش کے بعد ہوتی ہے۔کیونکہ تب اصل ذمہ داریوں کا احساس ہوتاہے۔
عورت جب محبت کرتی ہے، تو دل و جاں سے کرتی ہے۔ اس میں عورت کی ذات پات، قبیل اور پیشے میں کوئی امتیاز نہیں حتیٰ کہ اگروہ طوائف ہو، تب بھی اس کی محبت ہرقسم کی لالچ، منفعت، فائدے سے ماورا ہوتی ہے۔ ‘‘شریف زادی’’ ایسی ہی ایک طوائف کی محبت کا قصہ ہے کہ جو ہزاروں روپے ایک راتے کے ملنے کے باوجود اپنے محبوب کے بستر پر کسی اور کے ساتھ سونا گوارا نہیں کرتی۔
شہزاد نیئر کا ایک افسانچہ ‘‘حرام موت’’ کے عنوان سے ہے۔ اگرچہ تمام ہی مختصر کہانیاں بڑی پُراثر ہیں لیکن اگر حرام موت کو پڑھیں تو ایک نئی فطرت، جذبے اور احساس کا اظہار ہوتا ہے۔ بچوں کی طرح مائیں بھی سانجھی ہوتی ہیں۔ دشمن کی ماں کا بھی وہی دکھ ہوتاہے، جو دشمن دار کا۔ اس افسانچے میں شہزاد نے فوجی ہونے کے باوجود جس حساسیت کا مظاہرہ کیاہے، وہ پڑھنے سے زیادہ سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
‘‘ریڈیوکشمیرکارگل’’ ایک دل گداز افسانچہ ہے۔ یہ افسانچہ سپاہیوں کے بیچ ابھرنے والے ایک بحث کے متعلق ہے جو شہید کے حوالے سے ہے ۔ بحث طول پکڑتی ہے، تو ایک سپاہی مشورہ دیتا ہے کہ کیوں نہ ریڈیو کی عمارت ہی کو بم مار کر اڑادیاجائے، جو اس بحث کا سبب ہے۔
مختصراً شہزاد نیئر نے زور قلم کا سہارا لے کر زندگی کی راہوں میں پھیلے چھوٹے چھوٹے موضوعات کے سنگ ریزوں کو جمع کرکے خوبصورت کتاب کی شاندار عمارت تعمیر کی ہے۔ جس طرح وہ خود کہتے ہیں کہ اینٹ اینٹ جوڑ کر دیوار بنانا آسان نہیں، اسی طرح سنگ ریزوں کو جمع کرنا بھی سہل نہیں۔ موضوع کا چناؤ، ابتدائیہ، کلائمکس ، اختتام، الفاظ کا انتخاب، جملوں کی طوالت، غیرضروری امور سے روگردانی اور دلچسپی کو آخرتک برقرار رکھنے کے لیے ایک طرح سے جگر کو خون کرنا پڑتا ہے۔ عام سی کہانی کو بیان کرنے کے لیے بس قلم کی روانی اور جولانی چاہیے لیکن افسانچے کے بیان کے لیے ہمیں اپنے قلم کو بھٹی میں جلاکر اور زیادہ کندن بنانا پڑتا ہے۔ شہزاد نیئر کا قلم کندن بنا، تو انھوں نے ‘‘کہانی چل رہی ہے’’ کو تخلیق کرنے کا اعزاز پالیا۔ اگرچہ وہ برفاب (نظمیں) ، گرہ کھلنے تک (نظمیں) ، خوابشار (غزلیں)، سوچ کے نرالے ڈھنگ (ترجمہ، ایڈورڈ ڈی بونو) اور نمبر نہیں کافی (ترجمہ رابرٹ ٹی کیوساکی) کے ذریعے اپنی تخلیقی قوت کا بھرپور اظہار کرچکے ہیں لیکن ‘‘کہانی چل رہی ہے ’’دراصل تلوار کی ایسی دوآتشہ دھار ہے، جس پر قدم رکھتے ہی تکلیف کی کسک وجود کو شکنجے میں جکڑ لیتی ہے ۔ یہ کسک الگ سے ایک طرح کا لطف بھی دیتی ہے۔ ہم درد اور لطف کو ایک ساتھ محسوس کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ کہانی چلتے چلتے اختتام پذیر ہوجاتی ہے۔ شہزاد نیئر نے جس عنوان کا انتخاب کتاب کے لیے کیا، اس سے بخوبی مترشح ہوتا ہے، کہ وہ رنگ تغزل سے میدانِ افسانہ نگاری میں بھی اپنے اظہار کو جاری رکھیں گے۔ شاعری اگرچہ فوری قوتِ اظہار کی بدولت جلدی متعارف ہونے کا ذریعہ ہے اور نثرنگاری بہت دیر کے بعد کہیں جا کر جان پہچان کا سبب بنتی ہے لیکن دوسری طرف ایسا بھی ہے، کہ نثرنگاری بہت دیر تک اس تعارف کو قائم ودائم بھی رکھتی ہے۔

انعام الحسن کاشمیری

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button