پنجاب اُجڑ گیا مگر بحث نجی سوسائٹیز پر
پنجاب لاہور کا نام نہیں، نہ کسی نجی سوسائٹی کی چمکتی فضا کا نام ہے۔ پنجاب وہ ہے جو کسان ہے، جو اپنی ہریالی سے پورا ملک سیراب کرتا ہے۔ لیکن آج وہ کسان اپنی زمین کے ساتھ اپنے خواب بھی کھو بیٹھا ہے۔ دریاؤں نے بپھر کر اس کی فصلیں تباہ کر دیں، مویشی پانی کے بہاؤ میں بہہ گئے، بچے کھیتوں کی گہما گہمی کے بجائے خوف کی پرچھائیوں میں جی رہے ہیں۔
تین بڑے دریا—راوی، چناب اور ستلج—کے بے قابو پانی نے پنجاب کے 2,300 سے زائد دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 15 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں، 4 لاکھ 80 ہزار کے قریب افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور لاکھوں مویشی بھی بچائے گئے ہیں۔ 500 سے زائد ریلیف کیمپ لگائے گئے ہیں، مگر پھر بھی ہر دیہات اور ہر گاؤں کے دروازے پر تباہی دستک دے رہی ہے۔
یہ صرف فصل کا نقصان نہیں۔ یہ پنجاب کے مستقبل کا نقصان ہے۔ گندم، چاول اور چارے کی فصلیں بہہ گئیں۔ دودھ دینے والے مویشی ختم ہو گئے۔ کسان، جس کے پاس زمین تھی مگر سرمایہ نہیں، اب خالی ہاتھ رہ گیا ہے۔ اس کا گھر بھی ٹوٹ گیا اور چولہا بھی ٹھنڈا ہو گیا۔
افسوس یہ ہے کہ میڈیا کا شور نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے اردگرد گھوم رہا ہے۔ ان کے مالک ارب پتی ہیں، رہائشی کروڑ پتی۔ کل کو وہ نئی دیواریں بنا لیں گے، نئے پلاٹ بیچ لیں گے۔ مگر اصل پنجاب—نارووال سے لے کر سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین سے گجرات، حافظ آباد سے وزیرآباد تک—کسان اپنی زندگی کے ملبے تلے دب گیا ہے، اور اس کی آواز کوئی نہیں سنتا۔
یہ وقت ہے کہ حکومت اصل متاثرین کی طرف دیکھے۔ ان کے لیے چارے اور خوراک کا بندوبست کرے۔ تباہ شدہ فصلوں کا معاوضہ دے۔ صحت کی سہولیات پہنچائے تاکہ ہیضہ اور دیگر بیماریاں مزید جانیں نہ لے سکیں۔ یہ مسئلہ چند دیواروں یا نجی سوسائٹیز کا نہیں، یہ مسئلہ پاکستان کی غذائی سلامتی کا ہے۔
میرا سوہنا پنجاب ڈوب گیا ہے۔ کسان رو رہا ہے، زمین سسک رہی ہے، مویشی چیخ رہے ہیں، اور دکھ یہ ہے کہ حکمران طبقے اور میڈیا کو لاہور کی چند دیواروں کی فکر زیادہ ہے۔ اصل پنجاب اجڑ گیا ہے، اور ہم سب اس کے آنسوؤں کے گواہ ہیں۔
یوسف صدیقی







