آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفوزیہ شیخ
رستے میں ہاتھ چھوڑ کے دنیا سے ڈر گیا
فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل
رستے میں ہاتھ چھوڑ کے دنیا سے ڈر گیا
اک شخص میرے واسطے زندہ ہی مر گیا
جن شدتوں سے وہ مرے سر پر سوار تھا ۔۔
وہ جلدباز دل سے بھی جلدی اتر گیا
اشکوں کو پونجھتا تھا جو پلکوں سے چوم کر
مرهم نما وہ شخص بھی جانے کدھر گیا
ہم سوچتے ہی رہ گئے اچھا بھی آئے گا
لگتا ہے وقت پھر سے کوئی ہاتھ کر گیا
لمبی رفاقتوں میں یہی تو عذاب ہے
آنکھیں تھکی تھکی سی تو دل ہے کہ بھر گیا
فوزیہ شیخ








