آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

ایک اردو غزل از رشید حسرت

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ
دکھی رکھے گئے ہیں ہم ذیادہ

سبھی کا قد برابر عشق میں ہے
کوئی اس میں نہیں ہے کم، ذیادہ

مری تقدیر میں بھی کم نہیں ہیں
مگر زلفوں میں تیری خم ذیادہ

مرا میں موت جن لوگوں کے ہاتھوں
منائیں گے وہی ماتم ذیادہ

رکھیں اس کو وفاداروں میں کیا ہم
اٹھائے جس نے ہیں پرچم ذیادہ

عطا خوشیاں ہوئیں گاہے بگاہے
مگر سونپے گئے ہیں غم ذیادہ

ہمارے ساتھ جب تم ہم قدم تھے
مزہ دیتے رہے موسم ذیادہ

فقط اک بار درشن ہوں تمہارے
دیا جیون کا ہے مدھم ذیادہ

رشیدؔ ان کی کرم فرمائیاں تھیں
مگر زلفیں رہِیں برہم ذیادہ

رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۱۴ اپریل، ۲۰۲۶

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button