عشق نے مجھ میں، مرے یار کی کھولی آنکھیں
تب سے روئیں، نہ ہنسیں، اور نہ بولی آنکھیں
دل کہاں پہنچ گیا، ان کو بھلا معلوم
کھیلتی رہ گئیں بس آنکھ مچولی ، آنکھیں
یہ کوئی راز ہے ، انداز ، یا مجبوری ہے
خاک کے ڈھیر میں کیوں ، نور نے کھولی آنکھیں
اے سخی، ایک نظر بھی نہیں دے پایا ، تف
میں نے اک ساتھ ہی پھیلائ تھیں، جھولی، آنکھیں
تو مرا ہے یا نہیں، میں تو ترا ہوں سائیں
چوم کر پاوں ترے، پھر یہی بولی آنکھیں
یہ تو شاید انہیں خود بھی نہیں ہو گا معلوم
کتنی مکار ہیں سرکار کی بھولی آنکھیں
یہ کسی اور ہی چکر میں پڑی ہیں صاحب
اس دفعہ دیکھ کے بالکل نہیں ڈولی آنکھیں
اظہر عباس خان








