آپ کا سلاماردو غزلیاتاظہر عباس خانشعر و شاعری

عشق نے مجھ میں

اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل

عشق نے مجھ میں، مرے یار کی کھولی آنکھیں
تب سے روئیں، نہ ہنسیں، اور نہ بولی آنکھیں

دل کہاں پہنچ گیا، ان کو بھلا معلوم
کھیلتی رہ گئیں بس آنکھ مچولی ، آنکھیں

یہ کوئی راز ہے ، انداز ، یا مجبوری ہے
خاک کے ڈھیر میں کیوں ، نور نے کھولی آنکھیں

اے سخی، ایک نظر بھی نہیں دے پایا ، تف
میں نے اک ساتھ ہی پھیلائ تھیں، جھولی، آنکھیں

تو مرا ہے یا نہیں، میں تو ترا ہوں سائیں
چوم کر پاوں ترے، پھر یہی بولی آنکھیں

یہ تو شاید انہیں خود بھی نہیں ہو گا معلوم
کتنی مکار ہیں سرکار کی بھولی آنکھیں

یہ کسی اور ہی چکر میں پڑی ہیں صاحب
اس دفعہ دیکھ کے بالکل نہیں ڈولی آنکھیں

اظہر عباس خان

post bar salamurdu

اظہر عباس خان

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button