اردو غزلیاتسعود عثمانیشعر و شاعری

پھر مجھ کو خامشی میں کسی نے پکارا کیا

سعود عثمانی کی ایک اردو غزل

پھر مجھ کو خامشی میں کسی نے پکارا کیا

مہتاب آگیا ہے پلٹ کر دوبارہ کیا

ہر روز صبح دم کوئی آئینہ ٹوٹنا

اس خواب میں بچے گا ہمارا تمہارا کیا

دیکھو یہ کارِ عشق نہیں ،کارِ خیر ہے

تم اس میں کر رہے ہو میاں استخارہ کیا

یہ تم جو آئنے کی طرح چُور چُور ہو

تم نے بھی اپنی عمر کو دل پر گزارا کیا

سعود عثمانی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button