کشیدگی سے جنگ بندی تک، پاکستان کا مضبوط مؤقف
جنوبی ایشیا ایک بار پھر شدید کشیدگی کے دور سے گزرا۔ سرحدوں پر بڑھتی ہوئی تناؤ، جنگی بیانات، دشمن کی اشتعال انگیزیاں اور مسلسل دباؤ نے پورے خطے کو بے چینی میں مبتلا رکھا۔ حالات اس نہج تک پہنچ چکے تھے جہاں ایک معمولی غلطی بھی بڑے تصادم میں بدل سکتی تھی۔ دنیا کی نظریں پاکستان اور بھارت پر جمی ہوئی تھیں کیونکہ دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان کسی بھی جنگ کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے حساس وقت میں پاکستان نے نہ صرف اپنے دفاع کو مضبوط رکھا بلکہ تحمل، حکمت اور ذمہ داری کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا۔
پاکستانی افواج نے اس پورے بحران میں مکمل تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ بری، بحری اور فضائی افواج ہر لمحہ چوکس رہیں۔ سرحدوں پر نگرانی سخت کی گئی، دفاعی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنایا گیا اور دشمن کی ہر نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی گئی۔ اس صورتحال نے واضح کر دیا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور وطن کے محافظ ہر قربانی کے لیے تیار ہیں۔ دشمن کی جانب سے دباؤ بڑھانے کی کوشش ضرور کی گئی، لیکن اسے جلد اندازہ ہو گیا کہ پاکستان کو کمزور سمجھنا اس کی سب سے بڑی غلطی ہوگی۔
اس بحران کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت پاکستان میں مضبوط عسکری سوچ، پختہ اعصاب اور واضح حکمت عملی کی علامت کے طور پر سامنے آئی۔ ایک سپہ سالار کی اصل آزمائش صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ بحران کے دوران درست فیصلے کرنے میں ہوتی ہے۔ حالیہ حالات میں عسکری قیادت نے طاقت اور تحمل دونوں کا متوازن استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حالات کشیدہ ہونے کے باوجود پاکستان نے اپنی پوزیشن مضبوط رکھی اور دشمن کو واضح پیغام دیا کہ اس قوم کے حوصلے کمزور نہیں کیے جا سکتے۔
یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ آج کی جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ سفارت کاری، اطلاعات اور بیانیے کے میدان میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ پاکستان نے ایک طرف اپنی دفاعی تیاری برقرار رکھی تو دوسری طرف عالمی سطح پر سفارتی رابطوں کو بھی فعال رکھا۔ دنیا جانتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں جنگ پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، اسی لیے مختلف عالمی طاقتوں نے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔ مگر یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی کہ امن کی بات وہی قوم اعتماد کے ساتھ کرتی ہے جس کا دفاع مضبوط ہو۔
اس دوران پاکستانی قوم نے بھی غیر معمولی اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود رہے، مگر قومی سلامتی کے معاملے پر پوری قوم ایک صف میں کھڑی دکھائی دی۔ سوشل میڈیا سے لے کر عوامی اجتماعات تک ہر جگہ اپنی افواج کے حق میں اعتماد اور حمایت کا جذبہ نظر آیا۔ یہی اتحاد کسی بھی ملک کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ دشمن نے پروپیگنڈے اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے پاکستانی قوم کے حوصلے توڑنے کی کوشش کی، لیکن عوام نے ذمہ داری، شعور اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر منفی مہم کا جواب دیا۔
حالیہ کشیدگی نے یہ بھی ثابت کیا کہ امن کی خواہش کمزوری نہیں ہوتی۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ امن چاہتا ہے، مگر اپنے دفاع، خودمختاری اور قومی وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی کے باوجود افواجِ پاکستان مکمل تیاری کے ساتھ سرحدوں پر موجود رہیں۔ ایک ذمہ دار ریاست ہمیشہ امن کو ترجیح دیتی ہے، لیکن اپنی سلامتی پر کسی قسم کا خطرہ برداشت نہیں کرتی۔
یہ جنگ بندی صرف خاموشی نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے۔ پیغام یہ کہ پاکستان اپنے دفاع کے معاملے میں مکمل طور پر تیار، متحد اور پُرعزم ہے۔ وطن کے محافظ آج بھی سرحدوں پر کھڑے ہیں جبکہ قوم آج بھی ان کے ساتھ ہے۔ تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جو مشکل وقت میں اتحاد، حوصلہ، حکمت اور اعتماد کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ یہ قوم نہ دباؤ سے خوفزدہ ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ کرتی ہے۔
یوسف صدیقی






