آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشاکرہ نندنی

تنہائیِ شب

شاکرہ نندنی کی ایک اردو تحریر

سرد ہوا کے جھونکوں میں، شہر کی بے آواز گلیوں میں ایک لڑکا اکیلا چل رہا تھا۔ اس کے قدموں کی آواز سناٹے میں گم ہو رہی تھی، اور چاند کی ہلکی روشنی اس کی سیاہ، پھٹی ہوئی جوتیوں پر پڑ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر تھکن کے نشان تھے، جیسے وہ کئی راتوں سے بے نیند ہو۔ وہ بھاری قدموں سے سڑک کے کنارے چل رہا تھا، جیسے دنیا کا کوئی بوجھ اس کے کندھوں پر ہو۔

اس لڑکے کی زندگی کی کہانی شاید دنیا کے لاکھوں دوسرے لڑکوں کی طرح تھی۔ ایک چھوٹا سا کمرہ، جس میں کبھی سکون نہیں تھا۔ والدین کے چہرے پر پریشانیوں کا بوجھ اور گھریلو مسائل کا شور۔ ایک دن وہ سب کچھ چھوڑ کر بھاگ آیا تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ گھر میں کوئی بھی اس کی بات نہیں سنے گا، کوئی بھیitalian kid اس کی تکالیف کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ شہر کی سڑکیں، درختوں کے سائے، اور رات کی خاموشی اسے ایک عجب طرح کی آزادی دیتی تھی، لیکن یہ آزادی خوشی نہیں تھی، یہ ایک خلا تھا جسے بھرنا ناممکن تھا۔

رات کے سناٹے میں، اس کی آنکھیں ہنر سے زیادہ بھوک کی شدت کو ظاہر کر رہی تھیں۔ بھوک، جو نہ صرف پیٹ میں بلکہ دل میں بھی تھی۔ اس کا دل ٹوٹا ہوا تھا، لیکن پھر بھی اس کے اندر ایک امید کی چمک تھی، جو شاید اس کے ساتھ اس کا آخری رشتہ تھی۔

گلی کے کنارے ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ تھا، جہاں سے خوشبو آ رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس ریسٹورنٹ میں کوئی اسے نہ دیکھے گا، لیکن پھر بھی قدم خود بخود وہاں کی طرف بڑھنے لگے۔ اندر داخل ہوتے ہوئے، اس نے ایک آدمی کو دیکھا جو برتن دھو رہا تھا۔ اس نے اس سے کچھ نہیں کہا، بس اندر آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کا دل یہ چاہ رہا تھا کہ کوئی اسے دیکھے، کوئی اسے پوچھے کہ وہ کیا چاہتا ہے، لیکن وہ خاموش رہا۔

آدمی نے اچانک اس کی طرف دیکھا اور کہا، "تم کچھ کھانا چاہتے ہو؟” وہ لمحہ ایک جادو کی طرح تھا، جیسے کسی نے اس کے دل کی تکلیف کو پڑھ لیا ہو۔

اس لڑکے نے سر ہلایا، "جی، لیکن کچھ نہیں چاہیے۔ بس اتنا کہ میری حالت سے مت گھبرائیں۔”

آدمی نے بغیر کسی سوال کے اسے ایک پلیٹ کھانا دیا۔ لڑکے نے وہ کھانا کچھ اس طرح کھایا جیسے وہ کئی دنوں سے بھوکا ہو۔ اس کے اندر ایک عجیب سا سکون آیا، جیسے اس کی تکالیف میں ایک لمحے کا وقفہ آیا ہو۔

اس کے بعد، وہ خاموشی سے ریسٹورنٹ سے باہر نکل آیا اور پھر وہی تنہا سڑک پر چلنے لگا۔ لیکن اس کی آنکھوں میں کچھ بدل چکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دنیا بے رحم ہے، کہ یہاں بہت سے لوگ ہیں جو کسی کی مدد نہیں کرتے، لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں جو انسانیت کا جوہر رکھتے ہیں، اور ان کی مدد ایک نئی امید پیدا کرتی ہے۔

جب وہ گلیوں میں چل رہا تھا، اس کے دماغ میں ایک خیال آیا کہ انسانیت کا اصل راز صرف ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور محبت میں ہے۔ وہ اگرچہ اکیلا تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک نئی روشنی تھی، کیونکہ اس نے محسوس کیا تھا کہ انسانوں کی مدد میں ہی زندگی کی اصل حقیقت چھپی ہے۔ وہ جانتا تھا کہ زندگی آسان نہیں ہوتی، لیکن ہر اچھے عمل میں ایک نیا راستہ ہوتا ہے، ایک نیا امید کا دروازہ۔

اس رات اس لڑکے کے دل میں ایک سوال تھا: "کیا ہم اس دنیا میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کر سکتے؟ کیا ہم اس لڑکے کی طرح کبھی کسی کو نظرانداز کرتے ہیں جو ہماری مدد کا منتظر ہوتا ہے؟” اور اسی سوال کے جواب میں اس نے خود کو یہ وعدہ کیا کہ جب بھی اسے موقع ملے گا، وہ دوسروں کی مدد کرے گا، کیونکہ یہ وہ فلسفہ تھا جسے وہ اب سمجھ چکا تھا کہ "یک عمل کوچک، یک نیت نیک، و یک دل باز بزرگ‌ترین حقیقت زندگی است.” یعنی ایک چھوٹا سا عمل، ایک نیک نیت، اور ایک کھلا دل زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کے سیاہ پہلو کو بدلنے کے لیے، ہمیں اپنی ہمت اور انسانیت کو زندہ رکھنا ہوگا، کیونکہ ہر شخص کی زندگی میں محبت اور مدد کی ضرورت ہے، اور صرف یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔

شاکرہ نندنی

post bar salamurdu

شاکرہ نندنی

میں شاکرہ نندنی ہوں، ایک ماڈل اور ڈانسر، جو اس وقت پورٹو، پرتگال میں مقیم ہوں۔ میری پیدائش لاہور، پاکستان میں ہوئی، اور میرے خاندانی پس منظر کی متنوع روایات میرے ثقافتی ورثے میں جھلکتی ہیں۔ بندۂ ناچیز ایک ہمہ جہت فنکارہ ہے، جس نے ماڈلنگ، رقص، تحریر، اور شاعری کی وادیوں میں قدم رکھا ہے۔ یہ سب فنون میرے لیے ایسے ہیں جیسے بہتے ہوئے دریا کے مختلف کنارے، جو میری زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button