آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمحمد رضا نقشبندی

وسوسہ دل میں پل رہا تھا نا

محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل

وسوسہ دل میں پل رہا تھا نا
چھوڑ سکتے ہو تم کہا تھا نا

تیرے آنے سے مور ناچے ہیں
آج جنگل میں چہچہا تھا نا

قتل ہونا تھا ہو گیا آخر
خون بہنا تھا تو بہا تھا نا

کہاں آسان رہ تھی الفت کی
درد سہنا پڑا سہا تھا نا

میں تری ابتدا کی بات کروں
بس یہی تیرا منتہا تھا نا

محمد رضا نقشبندی

post bar salamurdu

محمد رضا نقشبندی

محمد رضا المصطفے قلمی نام محمد رضا نقشبندی رہائش کلاس والہ تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button