درک – رویہ سازی | تمنا کے دو حصّے
مصنفہ - عندلیب بھٹی
مضمون ۱
’’وہ جسے تم گنوا کر ،اور میں نبھا کرتھک گئے،اِس تمنا کا ایک حصّہ تمھارے پاس بھی تو تھا۔‘‘
یوں تو کائنات میں تقریباََہر چیز کا جوڑا موجود ہے،مگر یہا ں بالخصوص رویےاور عمل کی بات کی جارہی ہے۔ایک انسان کے بہ یک وقت بہت سے کردار ہیں۔وہ اپنے ہر روپ میں کسی دوسرے کو برت رہا ہوتا ہے۔کیا خوب رویہ ہے کہ ہر عمل میں ،ہر انسان خود کو صحیح اور دوسرے کومکمل غلط مان کر چلتا ہے۔دونوں میں سے دونوں کو یقین ہوتا ہے کہ وہ مکمل درست ،اوردوسرا مکمل غلط ہے۔
یہاں بات کو سمیٹ کر خود ساختہ اپنائی گئی محبتوں کی بات کی جا رہی ہے۔آخر ایسا کیا ہے؟کہ جس انسان کو کوئی ایک پوری شدومدکے ساتھ چاہتا ہے،اُسی کو ایک روز چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔۔اور چلا جاتا ہے تو چلا جاتا،بلکہ جاتے جاتے اُسی شخص کو مکمل غلط ثابت کرتے ہوئے جاتا ہے،تو یہ ایک بھدا مذاق ہے۔کیوں کہ آنے والا خود آتا ہے۔جس کو تلاش کر کے محبت کا دعوٰی کرتا ہے۔۔پھر اُسے ہی غلط کہہ کر چھوڑتا ہے،تو آنے اور جانے کی ہر دو صورتوں میں وہ غلط کیوں نہیں۔یا تو وہ آتے ہوئے غلط تھا،یا جاتے ہوئے ۔۔۔اِس لیے یا تو آتا نہیں،یا جاتا نہیں۔۔اور اگرآیا بھی خود ،اور گیا بھی ،اور آتے ہوئے بھی وہ ٹھیک تھا،اور چھوڑ کر جاتے ہوئے بھی وہ ہی صحیح تھا،تو یہ ایک مضحکہ خیز بات ہے۔
۲
ویسے تو ہر معاملے میں دو فریق ہوتے ہیں،مگر یہاں بات دانستہ اپنائی گئی محبتوں کی ہے تو۔۔جب دو لوگ ایک راستے پر تھے۔ایک عہد میں تھے۔تمنا دونوں کے بیچ ایک تھی،ایسےمیں فیصلے کا اختیار کسی ایک کے پاس کیسے چلا گیا۔یہ فیصلہ نہیں ،منافقت بھرا دھوکا ہے۔بد عہدی ہے۔کسی سوتے ہوئے محب پر شب خوں ہے۔
۔۔۔۔اور دوسرے کو بنا بتائے راستا بدلنا،یا اُسے چھوڑ دینے کا اگر اختیار نہیں ،توپھر جاتے جاتے اُس شخص کو بر ابنا کر جانے کا بھی حق نہیں،لیکن انسان ایسا بھی لازم کرتا ہے،کیوں۔۔؟
’’کیوں کہ بہرحال ہر ایک کے دل کے طاق پر ایک دیا تو قدرت نے رکھ چھوڑا ہے۔وہ اکیلے میں خوب روشن ہو کر انسان کے اعمال کو اُس کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے۔۔سو اسی وجہ سے لوگ جاتے جاتے دوسرے کو بر ابناکر جاتے ہیں،تا کہ بعد میں انھیں قلق نا ہو۔وہ خود کو یقین دلاتے ہیں کہ چھوڑا گیاشخص اِسی سلوک کا مستحق تھا۔۔اور اُس نے جو کیا،ٹھیک کیا۔
اگر منافق انسان اپنائی ہوئی محبت کے ساتھ ایسا کرتا ہے تو پھروہ اکسی ایسے کو کیوں اچھا کہہ کر جائے گا،جس کے ساتھ اُس نے اپنے چند لمحے رنگیں کرنے تھے۔سو طوائف بری ہے،مگر طوائف کے پاس جانے واا غلط نہیں۔۔اگر جانے والا نا جائے تو وہ اکیلے وہ برا کاروبار کیسے چلائے گی،جسے وہ شخص اُس کے منہ پر دے مارتا ہے۔
بالکل اسی طرح ،جیسے ایک بڑا طبقہ اسمارٹ فون کو برا بھلا کہتا ہے۔اِس پر ریلز بھی بنائی جاتی ہیں،کہ جب موبائیل فون نہیں تھے،تو لوگ ایک دوسرے کے بہت قریب تھے،محبتیں تھیں،شامیں اکھٹی گزارتے تھے۔۔۔وغیرہ۔۔سو یہ بھی ایک مزاحیہ بات ہے۔انسان اپنی ہی بنائی ہوئی ایک بے جان چیز کو اپنے برابر لا کر اپنے نقسان کا زمہ دار ٹھہراتا ہے۔یہ مجہول بات
۳
ہے۔۔کہ فاعل غلط نہیں،اُس کا فعل غلط نہیں،بلکہ مفعول غلط ہے۔کیا بات ہے؟اور ایک بڑا طبقہ پوری شدو مد کے ساتھ اِس موضوع پر بات کرنے کو تیّار رہتا ہے۔اِس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ سب لوگ مجبوری کے محؓتوں میں گندھے لوگ تھے،جیسے ہی انھیں کوئی متبادل راستا دکھائی دیا،انھوں نے اپنا لیا۔معذرت کے ساتھ ۔۔یہ رویہ منافقت کہلاتا ہے۔۔یعنی یہ لوگ شام کو اِس لیے اکھڑے ہوتے تھے،کہ ان کے پاس موبائیل یا اُس جیسی کوئی مصروفیت نہیں تھی۔یہ وہی لوگ تھے،جو آٹھ بجتے ہی پی ٹی وی کے سامنے اکھٹے ہو جاتے تھے۔اُس سے بھی ذرا پیچھے چلے جائیں ،لوگ ٹی وی کو برا بھلا کہتے تھے،کیوں کہ اُن کے پاس ٹی وی پہلے نہیں تھا،مگر وہ پوری دلجمعی کے ساتھ گراموفون پر کے ایل سہگل اور ،ثریا،نورجہاں کو سُن کت سر دھنتتے تھے۔وہ دن بھر لڈو اور شطرنج کھیلا کرتے تھے،کیوں کہ اُن کے پاس شامیں گزارنے کا کوئی اور حیلا نہیں تھا۔۔۔مختصراََ یہ کہ جیسے جیسے سائنسی ایجادات ہوئیں ،سبھی نے پورے ذوق و شوق سے اپنائیں۔جن کے پاس وہ نہیں تھیں ،انھوںنے اُسے برا کہا۔۔اور دوبارہ وہی بات ۔۔کہ ایک ایسی چیز اپنے حق میں برا کہنا،جس کا استعمال آپ کے اپنے اختیار میں ہے۔
۔۔تو اچھائی وہی جو برائی کا موقع ملنے کے باوجود کی جائے۔جب موقع نا ملا تو مجبوری کی نیکی کیسی۔صاحب۔۔۔
سو جس نے کسی کواپنے وقت کا طویل حصّہ دیا ہےوہ خالی ہاتھ کیوں،جب کہ بادشاہ سے بڑا بادشاہ گر ہوتا ہے۔پیسے واپس کیے جا سکتے ہیں،وقت کیسے لوٹایا جائے۔کوئی کسی کو محبت کا اشارہ دے کر اُس کے دس پندرہ سال لے لے،اور پھر چھوڑ کر چلا جائے۔۔تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ لبیک کہنے والے کو محبت کے دعوے دار کی بات کا یقین نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔گویا وہ یہ بتاتاہے ،کہ وہ ایک جھوٹا انسان تھا،لیکن وام طور پر یہ فریبی جانے کے لیے دو راہیں اختیار کرتا ہے،وہ ایسے حالات پیدا کرتا ہے کہ دوسرا
۴
ہی تھک جائے۔۔اور وہ آرام سے جا سکے۔
اللہ نے فرمایا کہ ددیکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں،اب دیکھتے تو تقریباََ سبھی ہیں،مگر یہاں غور وفکر کی بات ہے۔قدرت کے نظام میں کہیں خلل نہیں آتا۔ہماری گیلیکسی سمیت سب کچھ اپنی ترتیب سے مسلسل ہے۔سب چل رہے ہیں۔۔یعنی خرابی تب ہوتی ہے،جب کہیں کوئی اپنے مقام پر ٹھہر جائے۔اپنے عمل کو جاری نا رکھے،یااپنے مرتبے کو فراموش کر دے۔یعنی چاند کو لگے وہ سورج ہے۔۔اور اپنا عمل اُس طرح شروع کر دے،تو کہاں کہاں کیسی خرابی ہو گی۔
ہر تعلق میں بھی یہ ہی اصول کر فرما ہے۔ایک مسلسل تعلق کی آبیاری کرنا۔دوسرا اپنی حیثیت کو بھول نا جانا۔جبراََ اچھائی،نیکی وفا کچھ نہیں۔وفا وہی جو بے وفائی کے ہزار موقعے چھوڑ کر بھی دل سے نبھائی جائے۔۔ورنہ جانے والے کے پاس ایک بہانہ اور آنے والے کے پاس ہزار وجوہات ہیں۔
عندلیب بھٹی








