گُلوں کی پالکی میں ہے، بہاروں کی وہ بیٹی ہے
چہِیتی چاند کی روشن سِتاروں کی وہ بیٹی ہے
ہماری بیٹیاں سب کے لیئے تکرِیم والی ہیں
کِسی بھی ایک کی عِفّت، سو چاروں کی وُہ بیٹی ہے
وُہ چلتی ہے تو راہوں میں سُریلے ساز بجتے ہیں
کِسی اُجلی ندی کے شوخ دھاروں کی وہ بیٹی ہے
کِیا ہے بے رِدا جِس نے مِرے دہقاں کی بیٹی کو
وطن کے نام لیوا غمگُساروں کی وہ بیٹی ہے
بہن کو ہم عدُو سمجھے، خطا سے درگُزر کِیجے
سِتم سہتی رہی ہے، کوہساروں کی وہ بیٹی ہے
سُرِیلی بانسری کی تان اُس کی گُفتگُو ٹھہری
تراشِیدہ پری رُخ شاہکاروں کی وہ بیٹی ہے
یہاں بے کیف سی ہم نے گُزاری زِندگی حسرتؔ
نہیں جِس میں کوئی سُکھ، ریگزاروں کی وُہ بیٹی ہے
رشِید حسرتؔ







