آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

گُلوں کی پالکی میں ہے

ایک اردو غزل از رشید حسرت

گُلوں کی پالکی میں ہے، بہاروں کی وہ بیٹی ہے
چہِیتی چاند کی روشن سِتاروں کی وہ بیٹی ہے

ہماری بیٹیاں سب کے لیئے تکرِیم والی ہیں
کِسی بھی ایک کی عِفّت، سو چاروں کی وُہ بیٹی ہے

وُہ چلتی ہے تو راہوں میں سُریلے ساز بجتے ہیں
کِسی اُجلی ندی کے شوخ دھاروں کی وہ بیٹی ہے

کِیا ہے بے رِدا جِس نے مِرے دہقاں کی بیٹی کو
وطن کے نام لیوا غمگُساروں کی وہ بیٹی ہے

بہن کو ہم عدُو سمجھے، خطا سے درگُزر کِیجے
سِتم سہتی رہی ہے، کوہساروں کی وہ بیٹی ہے

سُرِیلی بانسری کی تان اُس کی گُفتگُو ٹھہری
تراشِیدہ پری رُخ شاہکاروں کی وہ بیٹی ہے

یہاں بے کیف سی ہم نے گُزاری زِندگی حسرتؔ
نہیں جِس میں کوئی سُکھ، ریگزاروں کی وُہ بیٹی ہے

رشِید حسرتؔ

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button