ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا
دل دوبارہ لہو میں ڈوب گیا
تھک گیا تھا چراغ جلتے ہوئے
اک منارہ لہو میں ڈوب گیا
آئنہ خال وخد میں قید رہا
کیا اشارہ لہو میں ڈوب گیا
روشنی بجھ گئی مرے اندر
اک ستارہ لہو میں ڈوب گیا
کھل رہے ہیں گلاب دریا میں
کیا کنارہ لہو میں ڈوب گیا
آنکھ کیوں بھر گئی تماشے سے
کیوں نظارہ لہو میں ڈوب گیا
خال و خد نقش ہو گئے مجھ میں
استخارہ لہو میں ڈوب گیا
زندگی جانتی تھی جس کو رفیق
وہ سہارہ لہو میں ڈوب گیا
رفیق لودھی








