اردو غزلیاتشعر و شاعریقمر جلال آبادی

ہو گئے ان سے ترک پیام

ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی

ہو گئے ان سے ترک پیام

اب تو ہماری صبح نہ شام

پاس مجھے دیکھا تو کہا

آپ کا مطلب آپ کا نام

آپ اور ترکِ بزمِ عُدو

خیر کبھی دیکھیں گے، سلام

جھُک گئیں محشر میں نظریں

ہو گئے اُن کے تیر تمام

قبر کی منزل بے تخصیص

شاہ و گدا کا ایک مقام

حشر کی محفل کیا کہنا

جس میں کسی کی روک نہ تھام

جب سے قمر وہ چھوٹ گئے

ہو گئ شب کی نیند حرام

قمر جلال آبادی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button