آپ کا سلاماردو غزلیاتڈاکٹر الیاس عاجزشعر و شاعری

ایک تو نے جو کی وفا ہی نہیں

ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل

ایک تو نے جو کی وفا ہی نہیں
اب کسی سے کوئی گلہ ہی نہیں

میں عبث ڈھونڈتا ہوں بستی میں
اس جہاں میں کہیں وفا ہی نہیں

قتل کیسے مری انا ہوگی
لب پہ میرے جو التجا ہی نہیں

کیوں ڈراتے ہو مجھ کو طوفاں سے
میرے گھر میں کوئی دیا ہی نہیں

کیسی میزان لے کے بیٹھے ہو
اپنی خاطر تو میں جیا ہی نہیں

نکل آیا ہوں خوف رد سے میں
میرا دست دعا اٹھا ہی نہیں

عمر گزری تو جان پایا ہوں
زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں

شہر گھوما تو یوں لگا عاجزؔ
اپنا دنیا میں کوئی تھا ہی نہیں

ڈاکٹر الیاس عاجزؔ

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button