اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

ہم چھپائیں گے بھید کیا دل کا

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

ہم چھپائیں گے بھید کیا دل کا
رنگ آنکھوں میں آ گیا دل کا

زندگی تیرگی میں ڈوب گئی
ہم جلاتے رہے دیا دل کا

تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا

زندگی بھر کوئی پتہ نہ چلا
دور گردوں کا، آپ کا، دل کا

وقت اور زندگی کا آئینہ
نوک غم اور آبلہ دل کا

آنکھ کھلتے ہی سامنے باقیؔ
ایک سنسان دشت تھا دل کا

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button