- Advertisement -

جہاں پہ دوستی ہو اس جگا انائیں کیا

تجدید قیصرکی ایک اردو غزل

جہاں پہ دوستی ہو اس جگا انائیں کیا
کہے اگر ترے پیروں میں بیٹھ جائیں کیا

جو ناؤ پار گئی لوٹ کر نہیں آتی
جو شخص ڈوب گیا ہو اسے بچائیں کیا

کسی کی یاد میں جاگیں ستارے دیکھیں ہم
سلگ رہا ہے جو سگریٹ اسے بجھائیں کیا

تمہارے بعد کوئی ذخم کیوں کریں تازہ
گزر چکا ہے جو اس پر لہو بہائیں کیا

کسی کی نیند مری نیند کیسے ہو جائے
کسی کے خواب مری آنکھ میں سمائیں کیا

تجدید قیصر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
تجدید قیصرکی ایک اردو غزل