اردو غزلیاتذوالفقار عادلشعر و شاعری

یہ میز یہ کتاب یہ دیوار اور میں

ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل

یہ میز یہ کتاب یہ دیوار اور میں

کھڑکی میں زرد پھولوں کا انبار اور میں

ہر شام اس خیال سے ہوتا ہے جی اداس

پنچھی تو جا رہے ہیں افق پار اور میں

اک عمر اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہے

اک دوسرے کے خوف سے دیوار اور میں

سرکار ہر درخت سے بنتے نہیں ہیں تخت

قربان آپ پر مرے اوزار اور میں

لے کر تو آ گیا ہوں مرے پاس جو بھی تھا

اب سوچتا ہوں تیرا خریدار اور میں

خوشبو ہے اک فضاؤں میں پھیلی ہوئی جسے

پہچانتے ہیں صرف سگ یار اور میں

کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے نکلا تھا آفتاب

دنیا تو مل گئی سر بازار اور میں

ذوالفقار عادل

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button