- Advertisement -

ہوا کے شور کو رکھنا اسیر جنگل میں

فرزانہ نیناں کی اردو غزل

ہوا کے شور کو رکھنا اسیر جنگل میں
میں سن رہی ہوں قلم کی صریر جنگل میں
ہتھیلیوں پہ ہوا سنسناتی پھرتی ہے
میں اس کی چاہَ کی ڈھونڈوں لکیر جنگل میں
خیال رکھنا ہے پیڑوں کا خشک سالی میں
نکالنی ہے مجھے جوئے شیر جنگل میں
دیارِ جاں میں پھرے رات دندناتی ہوئے
ادھر ہے قید سحر کا سفیر جنگل میں
عجیب لوگ ہیں دل کے شکار پر نکلی
کمان شہر میں رکھتے ہیں تیر جنگل میں
طلب کے شہر میں تھا جو سدا قیام پذیر
سنا ہے رہتا ہے اب وہ فقیر جنگل میں
کبھی جو چھو کے گزر جائے نرم سا جھونکا
یہ زلف لے کر اڑائے شریر جنگل میں
بڑے سکون سے رہتے ہیں لوگ بستی کی
رکھی ہے دشت میں غیرت، ضمیر جنگل میں
ہوا میں آج بھی روتی ہے بانسری نیناں
اداس پھرتی ہے صدیوں سے ہیر جنگل میں

فرزانہ نیناں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
فرزانہ نیناں کی اردو غزل