- Advertisement -

بول سکتے نہیں رواں شاید

محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل

بول سکتے نہیں رواں شاید
کاٹ ڈالی گئی زباں شاید

آگ تو آپ نے لگا دی ہے
اٹھنے والا ہے اب دھواں شاید

جس جگہ کوئی بھی نہیں رہتا
آپ موجود تھے وہاں شاید

ایک آسیب جس میں بستا ہے
دیکھ رکھا ہے وہ مکاں شاید

جس طرح دل سے کھیلتے ہیں رضا
اور کردیں گے وہ زیاں شاید

محمد رضا نقشبندی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل