آپ کا سلاماردو غزلیاتارم زہراشعر و شاعری

کتنی دور سے چلتے چلتے

ارم زہرا کی ایک اردو غزل

کتنی دور سے چلتے چلتے خواب نگر تک آئی ہوں
پاؤں میں میں چھالے سہہ کر اپنے گھر تک آئی ہوں

کالی رات کے سناٹے کو میں نے پیچھے چھوڑ دیا
شب بھر تارے گنتے گنتے دیکھ سحر تک آئی ہوں

لکھتے لکھتے لفظوں سے میری بھی کچھ پہچان ہوئی
ساری عمر کی پونجی لے کر آج ہنر تک آئی ہوں

شاید وہ مٹی سے کوئی تیری شکل بنا پائے
تیرے خد و خال بتانے کوزہ گر تک آئی ہوں

سورج کی شدت نے مجھ کو کتنا ہے بے حال کیا
دھوپ کی چادر اوڑھ کے سر پہ ایک شجر تک آئی ہوں

بابل کے آنگن سے اک دن ہر بیٹی کو جانا ہے
آنکھوں میں نئے خواب سجا کر تیرے در تک آئی ہوں

اپنے ہاتھ میں علم کی شمع ارمؔ نے تھامے رکھی ہے
میں تو ایک اجالا لے کر دیدہ ور تک آئی ہوں

ارم زہرا

post bar salamurdu

ارم زہرا

شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں نسائی لب و لہجے کی توانا آواز ہیں شاعری افسانے سفرنامے اور کراچی کی تاریخ پر کتابیں کامیابی کے مراحل طے کر چکی ہیں-ارم زہرا روشنیوں کے شہر کراچی میں 8 دسمبر کو پیدا ہوئی ہیں ۔ کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کی شخصیت تہہ در تہہ ہے اور ہر تہہ اپنے اندر ایک بھر پور حوالہ رکھتی ہے۔ ناول نگار،افسانہ نگار،کالم نگار، کہانی کار اور شاعر ہ کی حیثیت سے ہر پہلو مکمل اکائی ہے۔ان کی تخلیقات میں جذبوں کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے ۔ان کی تحریر یں قاری کو فکروعمل کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کا تعلق شعبہ تدریس سے ہے جس کا یہ پوری طرح حق اداکر رہی ہیں ۔ان کے کالموں میں تعلیمی مسائل کو احسن انداز میں اجاگرکیا جاتا ہے۔ ارم زہراء مختلف میگزین میں ایڈیٹنگ اور ٹی وی پہ ہوسٹنگ کے فرائض بھی انجام دے چکی ہیں۔ان کی اب تک چار کتب۔جن میں نثر میں چاند میرامنتظر “،” میرے شہر کی کہانی“،” ادھ کھلا دریچہ “ ’’اُف اللہ ‘‘جبکہ شعری دل کی مسند“ کتاب گھروں کی زینت بن چکے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button