اردو غزلیاتبلال اسعدشعر و شاعری

یاد تیری مرے تن من میں اترآتی ہے

ایک اردو غزل از بلال اسعد

یاد تیری مرے تن من میں اترآتی ہے
جیسے تنہائی کسی بن میں اتر آتی ہے

جسم اکثر اسے تکلیف ہی دیتا ہے مگر
روح پھر بھی اسی برتن میں اتر آتی ہے

میری تنہائی میں بٹوارے کا باعث ہے وہی
ایک چڑیا مرے آنگن میں اترآتی ہے

جسم پر بوند شرارے کی طرح پڑتی ہے
یعنی اک آگ بھی ساون میں اتر آتی ہے

میرے اطراف وہ تنہائی ہے جس کے باعث
شامِ غم عالمِ گلشن میں اتر آتی ہے

ربط آئینے سے ہے اور نہ دیے سے میرا
کوئی وحشت ہے کہ دامن میں اتر آتی ہے

ساتھ میں انجم و مہتاب ہیں تو پھر کیسے
یہ سیاہی رخِ روشن میں اتر آتی ہے

وہ کوئی روپ ہے ہے یا دھوپ ہے کوئی اسعد
روشنی جس کی مرے تن میں اتر آتی ہے

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button