دیکھو تو کبھی غور سے جو حالِ وطن ہے
بارود کی بارش سے، جہاں باغ تھے، بن ہے
رنجیدہ، رواں خون سے ہر کوہ و دمن ہے
یہ دشتِ خس و خار ہی خوابوں کا چمن ہے؟
اڑتی ہے کہیں راکھ کہیں پھیلتے شعلے
سب مل کے بجھائیں تو نہیں پھیلتے شعلے
ہے یار کہاں، طالبِ آزار کہاں ہے
ڈھونڈو تو یہاں خوں کا طلب گار کہاں ہے
تخریب کہاں، امن کا معیار کہاں ہے
ہے راہ کدھر، راہ کی دیوار کہاں ہے
تم اپنی کہانی نہ کسی اور سے پوچھو
اس دور میں رہتے ہو اسی دور سے پوچھو
مٹی نے شجر جنگ کا مٹی میں لگایا
ہاتھوں نے لہو اپنے ہی جسموں کا بہایا
کس گرمیِ پیکار نے ہتھیار اٹھایا
گزرے ہیں کئی سال، نہیں امن کا سایہ
کتنے ہی برس خوں کی روانی میں گئے ہیں
جو خواب تھے سب آنکھ کے پانی میں گئے ہیں
قندوز نے پوچھا کبھی قندھار نے پوچھا
ہے امن کہاں، کابلِ خوں بار نے پوچھا
اپنوں نے پکارا کبھی اغیار نے پوچھا
مڑ مڑ کے یہی چشمِ الم دار نے پوچھا
وہ حسنِ درخشاں کی تب و تاب کہاں ہے
وہ عِلمِ منور کا کھلا باب کہاں ہے
کہتا ہے تمہیں جنگ کا بہتا ہوا دھارا
طُوفانِ جدل سے ہے بہت دور کنارہ
ہر گام رواں موجِ لہو نے بھی پکارا
ہے دوست کی آواز بھی ساحل کا اشارہ
جینے کی روش، رَاہِ اُخوَّت سے نکالو
مخلوق کو غربت کی صعوبت سے نکالو
شہزاد نیّرؔ









بہترین نظم
لاحول ولا قوہ
یہ قوم ایسے شاعرانہ خیالات کی لائق نہیں