الوداع ڈاکٹر بشیر بدر
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک اردو تحریر
ڈاکٹر بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ وہ 15 فروری 1935ء کو ایودھیا (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید نذیر ایک اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ تھے۔ بشیر بدر کی فطرت میں بچپن ہی سے شعر و شاعری کا مادہ موجود تھا انہوں نے محض سات برس کی عمر میں اپنی پہلی غزل کہی تھی۔ان کی ابتدائی زندگی کافی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ 16 برس کی عمر میں والد کی بیماری کے باعث انہیں عارضی طور پر تعلیم چھوڑنی پڑی
لیکن علم کی پیاس نے انہیں دوبارہ پڑھائی کی طرف راغب کیا۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) سے بی اے، ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی (Ph.D) کی ڈگری حاصل کی۔ وہ اردو کے علاوہ فارسی، ہندی اور انگریزی زبانوں پر بھی گہری گرفت رکھتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی بشیر بدر نے ایم اے کی تعلیم مکمل بھی نہیں کی تھی کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نصاب میں ان کے اشعار شامل کر لیے گئے تھے۔
ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بشیر بدر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہی بطور لکچرار اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں وہ میرٹھ چلے گئے، جہاں انہوں نے میرٹھ کالج میں شعبہ اردو کے صدر کی حیثیت سے تقریباً 17 برس تک خدمات انجام دیں۔ وہ اپنی زندگی میں ‘بہار اردو اکیڈمی’ کے چیئرمین بھی رہے۔
میرٹھ کے فسادات نے ان کی زندگی کو تباہی کرکے رکھ دیا۔1987ء میں میرٹھ میں ہونے والے بھیانک فرقہ وارانہ فسادات بشیر بدر کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ثابت ہوئے۔ اس دوران شرپسندوں نے ان کا گھر جلا دیا جس میں ان کی زندگی بھر کی کمائی، کتابیں اور سب سے بڑھ کر ان کے بے شمار غیر مطبوعہ شعری مسودات جل کر راکھ ہو گئے۔ اس دلخراش واقعے نے انہیں اندر سے توڑ دیا اور وہ میرٹھ چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے بھوپال منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے اپنی باقی زندگی گزاری۔
بشیر بدر شاعری میں اپنا نمایاں پہلو اور اسلوب رکھتے تھے۔بشیر بدر نے غزل کو روایتی ثقالت اور مشکل پسندی سے نکال کر عام فہم، سادہ اور روزمرہ کی بول چال کا حصہ بنایا۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کالج کے طالب علموں سے لے کر پارلیمنٹ کے ایوانوں تک یکساں مقبول تھی۔ وہ عام لفظوں سے خاص اثر پیدا کرنے کے ماہر تھے۔ ان کے اشعار میں محبت، تنہائی، جدائی اور انسانی رشتوں کے پیچیدہ فلسفے کو اتنی سادگی سے بیان کیا گیا کہ سننے والا فوراً دنگ رہ جاتا۔انہوں نے صرف عشق و محبت کی باتیں نہیں کیں بلکہ اپنے دور کے سیاسی و سماجی حالات اور منافقت پر بھی گہرا طنز کیا۔ ان کے لہجے میں گنگا جمنی تہذیب کی جھلک نمایاں تھی۔ وہ اردو غزل میں ہندی کے نرم اور رسیلے الفاظ اس خوبصورتی سے پروتے تھے کہ غزل کا حسن دوبالا ہو جاتا تھا۔
ڈاکٹر بشیر بدر نے اردو ادب کی جھولی میں کئی یادگار مجموعے ڈالے۔ ان کی مشہور کتابوں میں درج ذیل شامل ہیں۔اکائی، امیج، آہٹ، آس اور
کلیاتِ بشیر بدر ان کی مشہور تصانیف ہیں۔ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ان کی غزلوں کو دیوناگری (ہندی) رسم الخط میں بھی "اجالے اپنی یادوں کے” کے نام سے شائع کیا گیا جسے ہندی حلقوں میں بے پناہ پذیرائی ملی۔ ان کے اشعار بالی ووڈ فلموں (جیسے ‘مسان’ اور ‘ڈیڑھ عشقیا’) اور مقبول کلچر میں بکثرت استعمال ہوئے۔
ادب کے میدان میں ان کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند اور دیگر اداروں نے انہیں اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا جن میں پدما شری (1999ء) جو بھارت کا چوتھا بڑا سویلین اعزاز، ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ (1999ء) جو ان کے شعری مجموعے "آس” کے لیے اردو زبان کا معتبر ترین ادبی انعام دیا گیا۔
ڈاکٹر بشیر بدر نے ہزاروں لافانی اشعار
اشعار کہے جن میں سے چند ایسے ہیں جو آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں۔(یہ شعر انہوں نے 1972ء میں پاک-بھارت شملہ معاہدے کے وقت کہا تھا جو سفارتی دنیا میں ایک مثال بن گیا)
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں ہی کوئی بے وفا نہیں ہوتا
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
زندگی کی آخری شام اور وداعی نوٹ
بشیر بدر کی زندگی کا ایک تضاد یہ رہا کہ انہوں نے محبت، رشتوں اور یادوں پر 18 ہزار سے زائد اشعار کہے لیکن زندگی کے آخری ایام میں ڈیمنشیا کی وجہ سے وہ خود اپنی ہی لکھی ہوئی شاعری اور اپنے قریبی لوگوں کو بھول چکے تھے۔ 28 مئی 2026ء کو دوپہر تقریباً 12:15 بجے ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی اور اسی شام انہیں بھوپال کے بڑا باغ قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔مشہور نغمہ نگار جاوید اختر نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا:
"آج ہماری زبان اردو تھوڑی غریب ہو گئی ہے۔ بشیر بدر ایک انتہائی مدھر اور جادوئی شاعر ہمیشہ کے لیے ہماری محفل سے رخصت ہو گئے لیکن یہ شاعر اور ان کی شاعری ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔”
ڈاکٹر بشیر بدر جسمانی طور پر اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں لیکن جب تک اردو غزل زندہ ہے ان کا نام، ان کا لہجہ اور ان کے رسیلے اشعار دلوں کو گرماتے رہیں گے۔
ڈاکٹر الیاس عاجز








