حماقت کا انجام
ایک بیوہ رئیس زادی کی دو کنیزیں تھیں جن سے وہ گھر کا کام لیتی تھی۔ یہ دونوں کنیزیں سست، کاہل اور کام چور تھیں۔ انہیں کام کرنے سے سخت نفرت تھی۔ خاص طور پر صبح سویرے اٹھنا تو ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔
ان کی مالکہ انہیں مرغ کی اذان پر جگا دیتی کہ اٹھو، صبح ہو گئی ہے۔ گھر کا کام کرو۔ ادھر مرغ کی اذان کا کیا وہ تو آدھی رات گئے ہی اذان دینے لگتا۔
دونوں کنیزوں نے تنگ آ کر مرغ کو جان سے مار دینے کا فیصلہ کیا۔ کہ نہ یہ ہوگا نہ اذان دے گا اور وہ دن چڑھے تک مزے کی نیند سوئیں گی۔ ایک دن دونوں کنیزوں نے مالکہ کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مرغ کو پکڑ کر مار ڈالا اور ایک جگہ دبا دیا۔ اب ہوا یہ کہ مرغ کے نہ ہونے سے بیوہ کو وقت کا اندازہ ہی نہ رہا۔ وہ کنیزوں کی جان کھانے لگی اور انہیں نصف شب کو جگا نے لگی۔
حاصل کلام
غیر ضروری چالاکی اور ہوشیاری کا نتیجہ ہمیشہ تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔
ادلے کا بدلہ
ایک لومڑی ایک چیل کی سہیلی بن گئی۔ دونوں میں اتنا پیار ہوا کہ ایک دوسرے کے بغیر رہنا مشکل ہو گیا۔ ایک دن لومڑی نے چیل سے کہا۔
“کیوں نہ ہم پاس رہیں۔ پیٹ کی فکر میں اکثر مجھے گھر سے غائب رہنا پڑتا ہے۔ میرے بچے گھر میں اکیلے رہ جاتے ہیں اور میرا دھیان بچوں کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ کیوں نہ تم یہیں کہیں پاس ہی رہو۔ کم از کم میرے بچوں کا تو خیال رکھو گی۔”
چیل نے لومڑی کی بات سے اتفاق کیا اور آخرکار کوشش کرکے رہائش کے لیے ایک پرانا پیڑ تلاش کیا جس کا تنا اندر سے کھوکھلا تھا۔ اس میں شگاف تھا۔ دونوں کو یہ جگہ پسند آئی۔ لومڑی اپنے بچوں کے ساتھ شگاف میں اور چیل نے پیڑ پر بسیرا کر لیا۔
کچھ عرصہ بعد لومڑی کی غیر موجودگی میں چیل جب اپنے گھونسلے میں بچوں کے ساتھ بھوکی بیٹھی تھی، اس نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے لومڑی کا ایک بچہ اٹھایا اور گھونسلے میں جا کر خود بھی کھایا اور بچوں کو بھی کھلایا۔ جب لومڑی واپس آئی تو ایک بچہ غائب پایا۔ اس نے بچے کو ادھر ادھر بہت تلاش کیا مگر وہ نہ ملا۔ آنکھوں سے آنسو بہانے لگی۔ چیل بھی دکھاوے کا افسوس کرتی رہی۔
دوسرے دن لومڑی جب جنگل میں پھر شکار کرنے چلی گئی اور واپس آئی تو ایک اور بچہ غائب پایا۔ تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔ اس کا ایک اور بچہ غائب ہو گیا۔ چیل لومڑی کے سارے بچے کھا گئی۔ لومڑی کو چیل پر شک جو ہوا تھا، وہ پختہ یقین میں بدل گیا کہ اس کے تمام بچے چیل ہی نے کھائے ہیں مگر وہ چپ رہی۔ کوئی گلہ شکوہ نہ کیا۔ ہر وقت روتی رہتی اور خدا سے فریاد کرتی رہتی کہ ۔
“اے خدا! مجھے اڑنے کی طاقت عطا فرما تاکہ میں اپنی دوست نما دشمن چیل سے اپنا انتقام لے سکوں۔”
خدا نے لومڑی کی التجا سن لی اور چیل پر اپنا قہر نازل کیا۔ ایک روز بھوک کے ہاتھوں تنگ آ کر چیل تلاش روزی میں جنگل میں اڑی چلی جا رہی تھی کہ ایک جگہ دھواں اٹھتا دیکھ کر جلدی سے اس کی طرف لپکی۔ دیکھا کچھ شکاری آگ جلا کر اپنا شکار بھوننے میں مصروف ہیں۔
چیل کا بھوک سے برا حال تھا۔ بچے بھی بہت بھوکے تھے۔ صبر نہ کرسکی۔ جھپٹا مارا اور کچھ گوشت اپنے پنجوں میں اچک کر گھونسلے میں لے گئی۔ ادھر بھنے ہوئے گوشت کے ساتھ کچھ چنگاریاں بھی چپکی ہوئی تھیں۔ گھونسلے میں بچھے ہوئے گھاس پھوس کے تنکوں کو آگ لگ گئی۔ گھونسلا بھی جلنے لگا۔ ادھر تیز تیز ہوا چلنے لگی۔ گھونسلے کی آگ نے اتنی فرصت ہی نہ دی کہ چیل اپنا اور اپنے بچوں کا بچاؤ کر سکے۔ وہیں تڑپ تڑپ کر نیچے گرنے لگے۔ لومڑی نے جھٹ اپنا بدلہ لے لیا اور انہیں چبا چبا کر کھا گئی۔
حاصل کلام
جو کسی کے لیے کنواں کھودتا ہے، خود بھی اسی میں جا گرتا ہے۔ اس لیے سیانوں نے کہا ہے کہ برائی کرنے سے پہلے سوچ لے کہیں بعد میں پچھتانا نہ پڑے۔
بعد از مرگ واویلا
ریچھ نے ایک بکرا شکار کیا اور کھانے کے لیے بیٹھا۔ اچانک ادھر سے ایک بھوکا شیر بھی آ نکلا اور آتے ہی ریچھ پر حملہ کر دیا۔ ریچھ نے اپنے ہاتھ سے شکار نکلتے دیکھا تو وہ آپے سے باہر ہو گیا۔ اس نے دل میں کہا کہ ایسے مفت خورے شیر سے کیا ڈرنا، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرو۔ یہ سوچ کر انتہائی غصے سے دانت کٹکٹاتا ہوا شیر سے الجھ گیا۔ کافی دیر تک دونوں میں لڑائی ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ لڑتے لڑتے لہولہان ہو گئے۔ نہ ریچھ ہار مانتا تھا نہ شیر۔ خوفناک لڑائی جاری رہی۔ دونوں زخموں سے چور چور بے دم ہو کر زمین پر بے سدھ گر گئے۔
ایک چالاک لومڑی کافی دیر سے دور کھڑی یہ تماشا دیکھ رہی تھی۔ بڑی موقع شناس تھی۔ موقع سے فائدہ اٹھایا اور بکرے کو اٹھا کر لے گئی۔ شیر اور ریچھ بے بسی سے یہ منظر دیکھتے رہ گئے۔
حاصل کلام
آئے موقع کو ہاتھ سے گنوانا حماقت ہے۔ بار بار مواقع نہیں ملتے۔ ایک بار موقع کھو کر بعد میں کف افسوس ملنے سے کیا حاصل۔
میں لوگوں کو ستانے کی طاقت نہیں رکھتا
شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ مصر میں دو امیر زادے ر ہتے تھے۔ ایک نے علم حاصل کیا اور دوسرے نے مال و دولت جمع کیا۔ آخر کار ایک زمانے کا بہت بڑا عالم بن گیا اور دوسرے کو مصر کی بادشاہت مل گئی۔ بادشاہ بننے کے بعد اس نے اس عالم کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور کہا ”میں حکومت تک پہنچ گیا اور تیری قسمت میں غربت و مسکینی آئی۔ “
عالم نے کہا ” اے بھائی! مجھے اللہ تعالیٰ کا شکر تجھ سے زیا دہ ادا کرنا چاہیے کیونکہ میں نے پیغمبروں کا ورثہ ےعنی علم پایا اور تو نے فرعون و ہامان کی میراث یعنی مصر کی حکومت پائی ہے۔
کجا خود شکر ایں نعمت گزارم کہ زور مرد م آزای ندارم
اپنے آپ پر بھروسہ کرو
کسی باغ میں ایک کبوتر نے اپنا آشیانہ بنایا ہوا تھا۔ جس میں وہ دن بھر اپنے بچوں کو دانہ چگاتا۔ بچوں کے بال و پر نکل رہے تھے۔ ایک دن کبوتر دانہ چونچ میں دبائے باہر سے آیا تو سارے بچوں نے انہیں تشویش سے بتایا کہ اب ہمارے آشیانے کی بربادی کا وقت آ گیا ہے۔ آج باغ کا مالک اپنے بیٹے سے کہہ رہا تھا۔
“پھل توڑنے کا زمانہ آ گیا ہے۔ کل میں اپنے دوستوں کو ساتھ لاؤں گا اور ان سے پھل توڑنے کا کام لوں گا۔ خود میں اپنے بازو کی خرابی کی وجہ سے یہ کام نہ کر سکوں گا۔”
کبوتر نے اپنے بچوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ ” باغ کا مالک کل اپنے دوستوں کے ساتھ نہیں آئے گا۔ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔”
اور حقیقتاً ایسا ہی ہوا۔ باغ کا مالک دوسرے روز اپنے دوستوں کے ہمراہ پھل توڑنے نہ آیا۔ کئی روز بعد باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ باغ میں آیا اور کہنے لگا۔
“میں اس دن پھل توڑنے نہ آ سکا کیونکہ میرے دوست وعدے کے باوجود نہ آئے لیکن میرے دوبارہ کہنے پر انہوں نے پکا وعدہ کیا ہے کہ کل وہ ضرور آئیں گے اور پھل توڑنے باغ میں جائیں گے۔”
کبوتر نے یہ بات بچوں کی زبانی سن کر کہا۔ “گھبراؤ نہیں، باغ کا مالک اب بھی پھل توڑنے نہیں آئے گا۔ یہ کل بھی گزر جائے گی۔”
اسی طرح دوسرا روز بھی گزر گیا اور باغ کا مالک اور اس کے دوست باغ نہ آئے۔ آخر ایک روز باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ پھر باغ میں آیا اور بولا۔
” میرے دوست تو بس نام کے ہمدرد ہیں۔ ہر بار وعدہ کرکے بھی ٹال مٹول کرتے ہیں اور نہیں آتے۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنا کام میں خود کروں گا اور کل باغ سے پھل توڑوں گا۔”
کبوتر نے یہ بات سن کر پریشانی سے کہا۔” بچو! اب ہمیں اپنا ٹھکانہ کہیں اور تلاش کرنا چاہیے۔ باغ کا مالک کل یہاں ضرور آئے گا کیونکہ اس نے دوسروں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔”
حاصل کلام:
دوسروں پر بھروسہ ہمیشہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اپنا کام خود کرنا چاہیے۔
وقت کی نزاکت
کسی مالدار بخیل کا بیٹا بہت سخت بیمار ہو گیا۔ دوا دارو کرنے کے باوجود بھی بخار کا زور نہ اترا تو کسی نیک دل شخص نے اسے مشورہ دیا کہ قرآن مجید ختم کراؤ یا بکرے کا صدقہ دو۔”
یہ سن کر مالدار بخیل سوچ میں پڑ گیا اور پھر بولا۔” قرآن مجید ختم کرنا زیادہ مناسب ہے کیونکہ منڈی دور ہے اور آنے جانے میں بہت وقت ضائع ہوگا۔”
اس کی یہ بات سن کر نیک آدمی نے کہا۔” قرآن مجید ختم کرنا اس لیے پسند آیا کہ قرآن اس کی نوک زبان پر ہے اور روپیہ اس کی جان میں اٹکا ہوا ہے۔”
حاصل کلام:
بخیل وقت کی نزاکت کو مدنظر رکھنے کی بجائے ہمیشہ دولت کو دیکھتا ہے خواہ دولت نہ خرچ کرکے نقصان ہی اٹھانا پڑے۔
شیر بہت بیمار ہے
ایک شیر بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو گیا اور چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا۔ بھوک سے جب برا حال ہوا تو کسی لومڑی سے مشورہ کیا۔ اس نے کہا۔” فکر نہ کرو، میں اس کا بندوبست کردوں گا۔”
یہ کہہ کر لومڑی نے پورے جنگل میں مشہور کر دیا کہ شیر بہت بیمار ہے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔
یہ خبر سنتے ہی جنگل کے جانور اس کی عیادت کو آنے لگے۔ شیر غار میں سر جھکائے پڑا رہتا اور عیادت کے لیے آنے والے جانوروں کا شکار کرکے اپنی بھوک مٹاتا رہتا۔
ایک دن لومڑی شیر کا حال احوال پوچھنے کے لیے آئی اور غار کے دہانے پر کھڑی ہو گئی۔ اتفاقاً اس دن کوئی جانور نہ آیا تھا جس کی وجہ سے شیر بھوکا تھا۔ اس نے لومڑی سے کہا۔” باہر کیوں کھڑی ہو، اندر آؤ اور مجھے جنگل کا حال احوال سناؤ۔”
لومڑی نے چالاکی سے جواب دیا۔” نہیں میں اندر نہیں آ سکتی۔ میں یہاں باہر سے آنے والے پنجوں کے نشان دیکھ رہی ہوں لیکن واپسی کے نہیں۔”
حاصل کلام
انجام پر ہمیشہ نظر رکھنے والے ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہتے ہیں۔
غیبت گو سے بچو
کسی عالم سے دریافت کیا گیا۔
“اگر کوئی پارسا شخص انتہائی حسین ہو اور کسی بند کمرے میں کسی حسینہ کے ساتھ محو گفتگو ہو۔ ایسے میں انہیں دیکھنے والا کوئ نہ ہو۔ نفس بھی طلبگار قربت ہو، اور شہوت بھی غالب۔ مقولہ عرب کے مطابق کھجوریں پکی ہیں اور باغبان روکنے والا نہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسی حالت میں پرہیز گاری کی وجہ سے بچا رہے۔”
عالم نے جواب دیا۔” اگر اپنے آپ کو خرمستیوں سے بچا بھی لےتو برائی کرنے والوں کی بدخوئی اور ملامت سے نہ بچ سکے گا۔”
حاصل کلام
انسان اپنے نفس کی برائی سے بچ سکتا ہے مخالف کی بدگمانی سے نہیں۔
معالج کیا کرے
عجم کے کسی بادشاہ نے ایک اعلیٰ پائے کا حکیم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ وہ حکیم کئی سال مدینہ شریف میں رہا۔ کوئی ایک شخص بھی اس کے پاس علاج کے لیے نہ آیا۔ ایک دن وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں اس شکایت کے ساتھ حاضر ہوا۔
“یہ خادم یہاں کے لوگوں کے علاج معالجہ کے لیے آیا لیکن اتنی مدت گزرنے کے باوجود کسی نے میری طرف توجہ ہی نہیں کی اور نہ ہی علاج کے لیے کوئی بیمار میرے پاس آیا ہے۔”
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ان کا دستور یہ ہے کہ بلا تیز بھوک کھاتے نہیں اور کھاتے وقت ابھی بھوک باقی ہوتی ہے تو اپنا ہاتھ کھانے سے کھینچ لیتے ہیں۔”
حاصل کلام
ہمیشہ تندرست رہنے کا راز یہی ہے کہ بلا تیز بھوک مت کھاؤ اور ابھی بھوک باقی ہو تو اس سے ہاتھ کھینچ لو۔ انسان کبھی بیمار نہیں ہوتا۔
نفس کے تقاضے
کسی غلہ فروش کے چند درہم ایک صوفی پر قرض ہو گئے۔ غلہ فروش ہر روز صوفی سے قرض کی ادائیگی کا تقاضا کرتا اور صوفی کو اچھی طرح ذلیل بھی کرتا۔ ایک دن صوفی کو اس کے ایک دوست نے کہا۔
“یہ غلہ فروش تمہیں رقم کے تقاضا میں روز ذلیل کرتا ہے اور تم ٹال مٹول کرتے رہتے ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ تم نے اپنی یہ عادت بنا لی ہے۔ بہتر ہوتا کہ نفس کے تقاضے کو بھی آئندہ کل پر ٹال دیتے اور قرض کی مصیبت میں نہ پڑتے۔”
حاصل کلام
وقتی پریشانی دور کرنے کے لیے قرض لینا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
وائے حسرتا
بقول شیخ سعدی ایک شب ایام جوانی میں کچھ دوست باہم مل کر خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ ہمارا ایک ہمدم بوڑھا بھی آ گیا۔ ایک نوجوان نے بڑے میاں کو خاموش پا کر کہا۔” آپ کس سوچ میں غلطاں ہیں، ہنسی ٹھٹھول سے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کریں۔”
بوڑھے نے ایک سرد آہ بھر کر کہا۔” برخوردار! صبا کے جھونکوں سے جھومنا ان درختوں کو ہی زیبا دیتا ہے جن کی شاخیں پتوں سے لدی ہوئی ہوں، بوڑھا درخت جنبش کرے تو ٹوٹ جاتا ہے۔ شب جوانی کی سحر ہونے پر ہوس کو سر کے نہاں خانوں سے نکال دینا ہی بہتر ہے۔ میری جوانی دیوانی فضول کاموں میں ختم ہوگئی۔ فضول خواہشات نے مجھے دین سے غافل رکھا۔ وائے افسوس کسی استاد نے اپنے شاگرد سے کہا تھا۔
“وائے حسرتا! وقت ختم ہو گیا اور کام ابھی باقی ہے۔”
حاصل کلام
بڑھاپے میں کم از کم انسان کو لہو و لعب سے اجتناب کرنا چاہیے۔ زندگی کا انجام بہرحال موت ہے۔ اس فانی زندگی کے مقابلے میں غیر فانی زندگی کے لیے اچھے اعمال کرنا ضروری ہیں۔
خسارہ
حضرت سعدی ایک قافلے کے ہمراہ بیابان قید طے کر رہے تھے کہ ایک پڑاؤ پر قافلہ رکا تو نیند کے غلبے نے ایسا مدہوش کیا کہ قافلے کی روانگی کا احساس نہ ہوا۔ ایک شتر سوار نے آپ کو اس حالت میں دیکھ کر جگایا اور کہا۔
“کیا مرنے کا ارادہ ہے جو یوں غفلت کی نیند سو رہا ہے۔ یاد رکھ، قافلے سے بچھڑنے کی صورت میں اس لق و دق بیابان میں ہی ہلاک ہو جائے گا۔ وقت کسی کی خاطر اپنی رفتار کم نہیں کرتا۔ اس کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔ اسے غفلت کی نیند میں برباد نہ کر۔”
حاصل کلام
سفر حیات کی نزاکتوں اور دشواریوں کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے ورنہ بیابان قید کے غافل مسافر کی طرح ہلاکت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ غفلت میں پڑے ہوئے لوگ اعمال حسنہ کی برکتوں سے خالی دامن کی وجہ سے خسارے میں رہتے ہیں اور عاقبت میں نہ ختم ہونے والا عذاب ان کا مقدر بن جاتا ہے۔
فلاح کی بات
ایک شخص قضائے الہٰی سے فوت ہو گیا۔ اس کے عزیز و اقارب رونے دھونے اور سینہ کوبی میں مصروف تھے۔ ایک مرد دانا نے ان کو اس حال میں دیکھ کر کہا کہ بجائے اپنے عزیز کے انجام سے آگاہ ہونے تم الٹا کام کر رہے ہو۔ یاد رکھو! بچہ پاک ہی آیا تھا اور پاک ہی اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ رونا تو اس بات پر آنا چاہیے کہ جب میں اس دنیا میں آیا تھا تو پاک تھا اور جب رخصت ہوں گا تو گناہوں کی ناپاکی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہوں گا۔ تجھے چاہیے کہ موت آنے سے پہلے اگلے جہاں کی فکر کرتا کہ وہاں شرمندہ نہ ہونا پڑے۔
حاصل کلام
موت نہ ٹلنے والی حقیقت ہے جو ہر حال میں آکر رہے گی۔ بہتر یہی ہے کہ حاصل زندگی کو غنیمت سمجھتے ہوئے اچھے اعمال کرنے چاہئیں۔ اس میں فلاح آخرت ہے۔
عمر ضائع نہ کر
ایک نماز، روزے اور ذکرِ الہٰی میں محو رہنے والے شخص کے ہاتھ کہیں سے سونے کی اینٹ پڑی ہوئی لگ گئی جس کی وجہ سے اس کے قلب کی ماہیت ہی بدل گئی۔ خدا کی یاد سے غافل ہو کر اب اس نے ہر وقت دنیاوی آسائشیں حاصل کرنے کے کے منصوبے بنانے شروع کر دئیے۔ کبھی اعلیٰ شاندار محل، کبھی باغیچہ فردوس، کبھی بہترین طعام اور لباس فاخرہ اور کہیں کچھ اور غرض کہ اس طرح کی سوچوں نے اس کی نیند حرام کردی۔
اسی پریشان حالی اور سوچوں میں گم وہ ایک دن جنگل کی طرف نکل گیا۔ وہاں اس نے ایک شخص کو قبر کی مٹی سے اینٹیں بناتے ہوئے دیکھا۔ یہ منظر دیکھ کر اس کے دماغ پر چھائی ہوئی ہوس کی گرد چھٹی۔ اس نے سوچا۔
“تو بھی کیسا احمق اور بے وقوف ہے۔ سونے کی اینٹ کیا ہاتھ آئی، تو اپنی عاقبت بھی بھول گیا۔ ہو سکتا ہے کہ کل کو تمہاری قبر کی مٹی سے بھی اسی طرح اینٹیں بنائی جائیں۔ اپنی عمر عزیز ضائع نہ کر اور سیدھی راہ اختیار کر۔
حاصل کلام
دولت حاجات پوری کرنے کا ایک ذریعہ ہے حد سے زائد دولت انسان کے دل کو پتھر بنا دیتی ہے اور یاد الہٰی سے غفلت میں پڑ کر دنیاوی شور و شغب اور لہو و لعب میں ڈوب جاتا ہے۔ اس طرح نہ صرف اپنی عاقبت خراب کرتا ہے بلکہ دنیا میں بھی خسارے میں رہتا ہے۔
ناجائز فائدہ اٹھانے کا نتیجہ
ایک بوڑھی عورت کی بینائی کم ہو گئی۔ اندھے ہونے کے خیال سے وہ علاج کے لیے ایک حکیم کے پاس گئی اور کہا۔
“حکیم جی! میری بینائی دن بہ دن کم ہو رہی ہے۔ براہ مہربانی میرا علاج کیجئے۔ ایسا نہ ہو کہ میں اندھی ہو جاؤں۔ اگر میری بینائی ٹھیک ہو گئی تو منہ مانگی دولت آپ کو ملے گی۔ خدا کا دیا سب کچھ ہے میرے پاس لیکن یاد رکھو، بینائی درست نہ ہونے کی صورت میں ایک پائی بھی نہ دوں گی۔”
اس شرط کو حکیم نے منظور کر لیا۔ ہر روز علاج کے لیے بڑھیا کے گھر جاتا۔ آنکھیں دھو کر دوا دارو ڈالتا لیکن اپنی بد عادت کے ہاتھوں مجبور ہو کر روزانہ کوئی نہ کوئی چیز بڑھیا کے گھر سے چرا لاتا۔ حکیم کے مسلسل علاج سے بڑھیا کی بینائی تو ٹھیک ہو گئی لیکن اس عرصہ میں اس کے گھر کا مکمل صفایا کر دیا۔ ایک دن حکیم نے بڑھیا سے اپنی اجرت مانگی تو بڑھیا بولی۔
“اجرت کیسی؟ تو نے میرا بھرا بھرایا گھر صاف کر دیا۔ ایک تنکا نہ چھوڑا اور اوپر سے اجرت طلب کرتا ہے۔ میں تو تیری خبر جوتیوں سے لوں گی۔”
حکیم نے بڑھیا کے خلاف دعوی دائر کر دیا۔ قاضی نے بڑھیا کو عدالت میں طلب کیا اور سوال کیا کہ وہ حکیم کی اجرت کیوں ادا نہیں کرتی؟
بڑھیا نے سارا احوال قاضی کو سنایا اور کہا۔” بے شک میں نے اس سے معائدہ کیا تھا کہ بینائی درست ہونے کی صورت میں منہ مانگی اجرت دوں گی۔ اس نے میرا علاج تو کیا لیکن اب میرا حال اتنا ابتر کر دیا ہے کہ پہلے تو میں ہر شے گھر کی دھندلی پاتی تھی لیکن اب مجھے کوئی شے نظر نہیں آتی۔”
حاصل کلام
کسی کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھانا درحقیقت اپنا نقصان کرنا ہے۔
اعتماد کا بھرم
حسن میمندی سے سلطان محمود غزنوی کے مصاحبوں نے دریافت کیا۔” آج سلطان نے آپ سے کیا کیا باتیں کیں؟”
اس نے جواب دیا۔” یہ باہمی اعتماد کی بات ہے۔ گو یہ تم سے چھپی نہ رہیں گی لیکن جو کچھ سلطان مجھ سے کہہ دیتے ہیں آپ سے نہیں کہتے۔ یاد رکھو، سلطان کو مجھ پر بے حد اعتماد ہے۔ میں ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتا۔ جب تم جانتے ہو کہ میں تمہیں نہ بتاؤں گا تو پھر پوچھتے کیوں ہو؟”
حاصل کلام
اعتماد کا بھرم رکھنا انسان کی توقیر میں اضافہ کرتا ہے اور بداعتمادی ذلت و خواری کا باعث بنتی ہے۔
حکمت کی بات
کسی فقیر نے بحالت مجبوری اپنے دوست کی کملی چرا کر فروخت کر دی۔ معلوم ہونے پر گرفتار ہو کر قاضی کی عدالت میں پیش ہوا۔ قاضی نے شرعی حکم ہاتھ کاٹنے کا لگایا۔ کملی والے دوست نے سفارش کی اور کہا کہ میں نے اسے معاف کر دیا ہے۔
قاضی نے کہا۔” تیری سفارش اپنی جگہ، شرعی حد اپنی جگہ۔ اس فیصلہ میں کوئی رعایت نہیں ہے۔”
اس نے کہا۔” یہ درست ہے لیکن وقف مال سے چوری پر شرعی حد نافذ نہیں ہوتی۔ یاد رکھیں، فقیر کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا اور جو فقیروں کے پاس ہے، وہ ضرورت مندوں پر وقف ہے۔”
قاضی نے اسے چھوڑ دیا اور ملامت شروع کر دی۔” کیا تجھے ایک ایسے دوست کے گھر سے چوری کرتے ہوئے شرم نہیں آئی؟ کیا ساری دنیا تجھ پر تنگ ہو گئی تھی؟”
فقیر نے جواب دیا۔” آپ کو معلوم نہیں کہ دوستوں کے گھر میں جاڑو پھیرنا دشمنوں کے دروازے کھٹکھٹانے سے بہتر ہے۔”
حاصل کلام
دوست کے سامنے شرمندگی، کسی دشمن کے سامنے ندامت سے بہتر ہے۔
بہشت اور دوزخ
کسی نے خواب میں دیکھا کہ ایک بادشاہ جنت میں اور نیک پارسا درویش دوزخ میں ہے۔ اس نے اس کی وجہ دریافت کہ اچھے اور برے درجوں کا کیا سبب ہے؟ حالانکہ لوگوں کی نظر میں بادشاہ کو دوزخ اور درویش کو جنت میں ہونا چاہیےتھا۔ غیب سے آواز آئی۔
“بادشاہ درویشوں سے عقیدت رکھتا تھا جبکہ درویش بادشاہوں کے تقرب کو باعث خوشنودی تصور کرتا تھا۔”
حاصل کلام
لوگ اپنے اپنے اعمال کی ہی بنا پر بہشت اور دوزخ میں جائیں گے۔
عادت فی الموت
ایک خوش مزاج بوڑھے نے اپنی بیٹی کی شادی ایک سنگدل موچی سے کردی۔ اس سنگدل نے لڑکی کا ہونٹ ایسا کاٹا کہ اس سے خون ٹپکنے لگا۔ صبح کو لڑکی کو اس حالت میں دیکھ کر بوڑھے نے داماد سے کہا۔
“اے سنگدل! تو نے اس کے ہونٹ چبائے ہیں یا پیار کیا ہے؟ وہ بوٹی تو نہیں ہے جو تو یوں چباتا رہے گا۔ اپنی اس عادت بد سے باز آؤ اور زندگی کا مزا اٹھاؤ۔”
حاصل کلام
بری عادت سے بچو۔ یہ مرتے دم تک پیچھا نہیں چھوڑتی۔
سمجھوتہ
ایک شخص کسی مسجد میں اس طرح اذان دیتا کہ سننے والوں کو نفرت ہو جاتی۔ مسجد کا نیک دل منتظم نہیں چاہتا تھا کہ اس موذن کو ہٹا دے اور اس کی روزی چھوٹ جائے۔ اس نے اس موذن سے کہا۔
“اے جوان مرد! اس سے پہلے موذن کی تنخواہ پانچ دینار تھا، میں تمہیں دس دینار پیش کرتا ہوں تم کسی اور جگہ چلے جاؤ۔”
سمجھوتے کے بعد وہ موذن مسجد چھوڑ کر چلا گیا۔ ایک دن سر راہ ملاقات ہوئی تو کہنے لگا۔” اے آقا! اے امیر! آپ نے میرے اوپر ظلم کیا کہ دس دینار مقرر کرکے مجھے اس جگہ سے علیحدہ کر دیا۔ اس لیے کہ میں جس جگہ گیا ہوں، وہ مجھے بیس دینار دے رہے ہیں کہ میں یہ جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ چلا جاؤں۔ میں نہیں مان رہا ہوں۔”
نیک دل امیر ہنس پڑا اور بولا۔” ہرگز نہ لے لینا، کیونکہ وہ تو پچاس دینار دینے پر بھی آمادہ ہو جائیں گے۔”
حاصل کلام
اچھی آواز ہر ایک کو بھاتی ہے اور بری آواز بیزار کر دیتی ہے۔
خوبیاں اور خامیاں
کسی کے پاس ایک ایسا غلام تھا جو حسن و صورت، دوستی و دیانت داری کے ساتھ اسے بہت عزیز تھا۔ ایک دن اس نے اپنے ایک دوست سے کہا۔
“افسوس! میرا یہ غلام جس حسن صورت اور ناز و انداز کا مالک ہے، اتنا ہی زبان دراز اور بے ادب بھی ہے۔ کیا اچھا ہوتا کہ یہ حسن صورت کے ساتھ حسن سیرت کا مالک بھی ہوتا۔”
اس دوست نے کہا۔” اے بھائی! جب تو نے دوستی کا اقرار کر لیا ہے تو اس سے خدمت گاری کی توقع مت رکھ۔ جب عاشقی و معشوقی درمیان میں آ گئی تو مالکی اور مملوکی ختم ہوگئی۔”
باعث عذاب
کسی شخص کی خوبصورت بیوی مر گئی اور بڑھیا جھگڑالو ساس مہر کی وجہ سے گھر میں مقیم رہی۔ مرد اس کی باتوں سے بہت رنجیدہ ہوتا لیکن اس کے ساتھ گزارہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ ایک دن دوستوں نے اس سے پوچھا۔
“بتا، اپنے عزیز ساتھی کی جدائی میں تیرا کیا حال ہے؟”
اس شخص نے جواب دیا۔” وہ تو مر گئی مگر میں جھگڑالو ساس کی وجہ سے زندہ درگور ہوں۔”
حاصل کلام
جھگڑالو انسان باعث رحمت نہیں، باعث عذاب ہے۔
بڑھاپا اور جوانی
کسی بوڑھے نے ایک خوبصورت گوہر نامی نوعمر لڑکی سے شادی کر لی۔ موتیوں کی ڈبیہ کی طرح اس کو ہر کسی کی نگاہ سے چھپاتا۔ شادی کی رسم نبھانے کی خواہش رکھنے کے باوجود اس کے وجود میں جوانی کی تمام تر خصوصیات مدہم پڑ چکی تھیں۔ بڑھاپا ہر طرح سے غالب آ چکا تھا۔ دوستوں سے شکوہ کیا۔
“میرے گھر بار پر اس بے حیا نے جھاڑو پھیر دی ہے۔”
نوبت میاں بیوی میں یہاں تک پہنچی کہ ہر وقت گھر میں فتنہ فساد رہتا۔ آخر کار جھگڑا بڑھتے بڑھتے قاضی کی عدالت میں جا پہنچا۔ قاضی نے معاملہ یوں نپٹایا۔
“اے بوڑھے جوان! ملامت اور برائی کرنے سے بس کر۔ لڑکی کی خطا نہیں ہے۔ تیرا ہاتھ کانپتا ہے تو تو موتی کیسے پرو سکتا ہے۔”
حاصل کلام
بڑھاپے میں جوان رعنا لڑکی سے شادی کرنا حماقت ہے اور باعث فتنہ و فساد ہے۔
بنجر زمین
کسی بادشاہ نے اپنا ایک بیٹا کسی استاد کے سپرد کیا کہ اس کی تربیت ایسی کر جیسی کہ تو اپنے لڑکے کی تربیت کر رہا ہے۔ ایک سال کی بھرپور محنت کے بعد شہزادہ ویسے کا ویسا ہی رہا جب کہ استاد کا لڑکا کمال و وصاحت میں بلند مقام پر پہنچ گیا۔
بادشاہ نے استاد کی گرفت کی اور بہت ناراض ہوا کہ تو نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا ہے۔ استاد نے کہا۔” اے بادشاہ! تربیت تو یکساں ہے لیکن طبیعتیں مختلف ہیں۔”
حاصل کلام
کلر زمین ہمیشہ بنجر ہی رہتی ہے چاہے لاکھ جتن کئے جائیں۔
بخشش کا دارومدار
ایک امیر لڑکا اپنے باپ کی تربت پر بیٹھا ہوا ایک فقیر کے بیٹے کے ساتھ بحث کر رہا تھا کہ میرے باپ کی قبر کا تعویز پتھر کا، کتبہ رنگین اور فرش پتھر کا اور فیروزے کی اینٹیں اس میں جڑی ہوئی ہیں، جبکہ تیرے باپ کی قبر صرف کچی ٹوٹی پھوٹی اینٹوں پر مشتمل ہے۔ فقیر کے لڑکے نے یہ سنا اور کہا۔
“جب تک تیرا باپ ان بھاری پتھروں کے نیچے سے ذرا بھی ہلے گا میرا باپ جنت میں پہنچ چکا ہوگا۔ (حدیث کے مطابق)۔”
فقراء کی موت ان کے لیے راحت اور اغناء کی موت ان کے لیے حسرت کا باعث ہوتی ہے۔ فقراء کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی کہ اسے حسرت سے چھوڑ جائیں۔
حاصل کلام
بخشش کا دار و مدار کچی پکی قبر نہیں بلکہ اعمال پر ہے۔
ہر انسان میں کچھ خوبیاں اور کچھ خامیاں ہوتی ہیں۔ دوستی میں چند خوبیوں کی وجہ سے تمام خامیوں سمیت قبول کرنا پڑتا ہے۔
ہرگام پر دو نفل
کوئی شخص حج کرنے نکلا۔ ہر دو گام پر دو رکعت نماز پڑھتا اور پھر آگے بڑھتا۔ سفر حج کے محویت میں اسے کسی بھی تکلیف کا احساس نہ ہو رہا تھا۔ شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا۔
“تیرا سفر سب سے زیادہ بابرکت اور موجب ثواب ہے۔ اس جیسا مبارک حج کسی نے بھی نہ کیا ہوگا۔”
ابھی اسی وسوسہ میں وہ محو ہی تھی کہ اللہ پاک نے اس کی دستگیری کی اور فخر و غرور کی وجہ سے گمراہ ہونے سے بچانے کے لیے ایک غیبی آواز کی صورت میں رہنمائی فرمائی:
“اے نیک بخت! اپنی نیکی پر غرور نہ کر۔ اس میں تیرا کیا کمال ہے اور تو کیا بڑا تحفہ لے کر راہ حق میں آیا ہے۔ یاد رکھ، آزردہ دل کو آرام پہنچانا تیرے جیسی ہزار رکعتوں سے بہتر ہے۔”
حاصل کلام
نفلی عبادت سے بہتر آزردہ دلوں کو راحت پہنچانا اور غریبوں کی خدمت کرنا ہے۔
شیر کی کھال
ایک گدھے نے کہیں سے شیر کی کھال حاصل کرکے اپنے جسم پر اوڑھ لی۔ اب وہ جنگل میں جس طرح جاتا سبھی جانور اس کو دیکھ کر بھاگتے۔ گدھا بڑا خوش تھا کہ جنگل کے جانور اسے شیر سمجھتے ہیں اور ڈرتے ہیں۔
اسی غرور میں گدھا ایک دن جنگل میں گھوم پھر کر جانوروں پر اپنی دہشت طاری کر رہا تھا کہ اچانک ایک کچھار سے شیر نکل آیا مگر گدھا ذرا نہ گھبرایا اور اسی ٹھاٹھ سے چلتا رہا۔ شیر نے اسے غور سے دیکھا تو نقلی شیر کو پہچان لیا۔ بپھر گیا اور گرجا۔
“آخر گدھا ہے نا۔ گدھے میں عقل کہاں؟ شیر کی کھال اوڑھ کر نقلی شیر بن گیا لیکن شیر کی طرح چلنا نہ سیکھا۔”
اتنا کہہ کر شیر نے گدھے پر حملہ کر دیا اور اسے ادھیڑ کر رکھ دیا۔
حاصل کلام
نقلی چیز اصل نہیں ہو سکتی۔
طاقت کا جواب
ایک دن ہوا اور سورج کے درمیان مباحثہ ہو گیا۔ ہوا بولی۔” میں تم سے زیادہ طاقتور ہوں۔ میری لہریں تمہاری شعاعوں کو کمزور کر دیتی ہے۔”
یہ سن کر سورج غصے بھرے لہجے میں بولا۔” میں تو طاقت کا خزانہ ہوں۔ تو نے میری طاقت کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا۔”
جواب میں ہوا نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔” اپنا ثانی دنیا میں کوئی نہیں۔ خشکی پر تیز چلتی ہوں تو درختوں کو اکھاڑ دیتی ہوں۔ سمندر پر تیز چلوں تو طوفان اٹھا دیتی ہوں۔”
سورج نے غصے میں کہا۔” اپنے منہ میاں مٹھو بننے کا کوئی فائدہ نہیں، باتیں نہ بناؤ، مجھے قائل کرنا ہے تو اپنی طاقت دکھاؤ۔”
یہ سن کر ہوا نے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔” دیکھو، میدان میں موجود اس شخص کے جو کپڑے اتار دے، وہ طاقتور ہے۔”
“ٹھیک ہے۔ مقابلہ منظور ہے۔” سورج نے ہوا سے کہا۔” چل تو اپنی طاقت کا مظاہرہ پہلے دکھلا۔”
یہ سنتے ہی ہوا تیز تیز چلنے لگی۔ اس شخص کے کپڑے پھڑ پھڑائے تو اس نے جلدی سے انہیں اپنے جسم پر دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے سمیٹ لیا۔ ہوا نے بھرپور زور لگایا لیکن اس کے کپڑے جسم سے نہ اتار سکی۔ اپنا پورا زور لگا کر تھک گئی۔ ہانپتے ہوئے شرم سے گردن جھکا کر ایک طرف ہٹ گئی۔
اب سورج نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اس کی تیز شعاعیں میدان میں اتر آئیں تو میدان میں قیامت آ گئی۔ گرمی سے مسافر کا برا حال ہونے لگا۔ سارے بدن سے پسینے کے فوارے چھوٹ گئے۔ لب خشک اور منہ لال سرخ ہو گیا۔ گھبرا کر اس نے کپڑے اتار کر ایک طرف رکھ دئیے۔ سورج نے فاتحانہ قہقہہ لگایا اور کہا۔
“دیکھی میری طاقت۔ آئندہ کے لیے توبہ کر اور کبھی اپنی طاقت پر غرور نہ کرنا۔”
حاصل کلام
طاقت کا جواب طاقت ہی سے دیا جا سکتا ہے، باتوں سے نہیں۔
سونے کا نوالہ
ایک چوہا کسی جنگل میں بھوک کی مصیبت سہتا تھا لیکن آزادی سے رہتا تھا۔ نہ کسی دشمن کا ڈر اور نہ ہی کسی چیز کا خطرہ۔
ایک دن قصبہ سے چوہے کا ایک مہمان آیا اور جنگل میں دو روز گزارنے کے بعد اس چوہے سے بولا۔” تمہاری زندگی قابل افسوس ہے۔ فاقوں مرتے ہو اور روکھی سوکھی کھاتے۔ چلو تم میرے ساتھ میرے گھر، وہاں تمہیں کھانے کو مرغن غذائیں، گھی، دودھ، پستہ، بادام، گری اور اخروٹ وغیرہ کھلاؤں گا۔”
جنگل کے چوہے کے منہ میں پانی بھر آیا۔ بڑا خوش ہوا۔ اس کے ساتھ تیاری کرکے اس کے گھر قصبہ میں آ گیا۔ ہر طرف عیش و عشرت کا سامان دیکھ کر خوشی سے پاگل ہو گیا۔ اچھی اچھی چیزوں پر ٹوٹ پڑا اور دل میں کہتا جاتا تھا کہ اب کبھی جنگل میں نہ جاؤں گا۔ رات دن یہیں رہوں گا اور مزے اڑاؤں گا۔ ابھی وہ مزے لوٹ ہی رہا تھا کہ ایک بچہ اندر آیا۔ اس نے چوہا دیکھا تو ایک پتھر اٹھا کر مارا۔ اگر جنگلی چوہا بھاگ کر بل میں نہ گھس جاتا تو اس کا کچومر نکل جاتا۔
تھوڑی دیر کے انتظار کے بعد جنگلی چوہا گری بادام کے مزے کے لیے دوبارہ باہر نکل آیا۔ بڑی احتیاط سے گری بادام کی طرف سرکنا شروع کیا۔ ابھی اس نے گری پر دانت جمائے ہی تھے کہ دوبارہ دروازہ کھلا اور آنے والے نے پھر پتھر پھینکا۔
چوہے کی قسمت اچھی تھی کہ نشانہ چوک جانے سے پھر بچ گیا اور بھاگ کر بل میں چھپ گیا۔ مارے ڈر کے اس کا برا حال ہو رہا تھا۔ اپنے دل میں کہنے لگا کہ لعنت ہے ایسی گری بادام کھانے پر جس میں جان جانے کا ڈر ہو۔ ایسا عیش بیکار ہے جس میں جینا دشوار ہے۔ جنگل میں تو مجھے کچھ خوف نہ تھا۔ روکھی سوکھی ہی سہی لیکن حرام موت مرنے کا کوئی ڈر نہ تھا۔ جو مزا آزادی میں ہے وہ کسی چیز میں نہیں ہے۔ یہ کہہ کر وہ چپکے سے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔
حاصل کلام
آزادی سب سے بڑی نعمت ہے۔ غلامی میں سونے کے نوالے کس کام کے جہاں ہر وقت موت کا ڈر خوف ہو۔
سچائی کا بول بالا
ندی کنارے ایک لکڑ ہارا سوکھے درخت کو کلہاڑی سے کاٹ رہا تھا۔ اچانک کلہاڑی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر ندی میں جا گری۔ لکڑ ہارے کو بہت افسوس ہوا اور رنجیدگی کے عالم میں وہ خدا کے حضور سجدہ ریز ہو کر گڑگڑا کر التجا کرنے لگا۔
“خدائے کریم! میرے غریب کے حال پر رحم فرما، تجھے علم ہے کہ میں سوئی تک تو خرید نہیں سکتا۔ کلہاڑی کیسے خریدوں گا؟ بغیر کلہاڑی لکڑیاں کیسے کاٹوں گا؟ لکڑیاں نہ کاٹیں تو روٹی کہاں سے کھاؤں گا؟ میں اور میرے بچے بھوکے مر جائیں گے۔”
لکڑہارے کی فریاد ابھی ختم نہ ہوئی تھی کہ ندی کی لہروں میں ہلچل پیدا ہوئی۔ لہروں سے ایک فرشتہ نمودار ہوا اور اس نے کہا۔” کیا یہ سونے کی کلہاڑی تمہاری ہے؟”
لکڑہارے نے جواب دیا۔” جی نہیں۔ مفلس و نادار کا اس کلہاڑی سے کیا واسطہ؟”
جواب سن کر فرشتہ نے ندی کی لہروں میں غوطہ لگایا اور پھر تھوڑی دیر بعد نمودار ہو کر کہنے لگا۔” کیا یہ چاندی کی کلہاڑی تمہاری ہے؟”
لکڑہارے نے پھر انکار کر دیا۔ فرشتہ پھر ندی میں غائب ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد نمودار ہو کر کہنے لگا۔” کیا یہ لوہے کی کلہاڑی تمہاری ہے؟”
“ہاں جناب! یہی میری کلہاڑی ہے۔ آپ کی بڑی مہربانی۔”
فرشتہ اس سچائی پربہت خوش ہوا۔ لوہے کی کلہاڑی لکڑ ہارے کو دیتے ہوئے کہنے لگا۔” یہ سونے اور چاندی کی دونوں کلہاڑیاں بھی تمہیں سچ بولنے کا انعام دیا جاتا ہے۔”
حاصل کلام
ہمیشہ سچ بولنا چاہیے۔ سچائی سے فائدہ ہوتا ہے، چاہے ذرا دیر سے ہو۔
حیلہ ساز
کسی شخص نے لڑکے کی پیدائش کی خوشی میں دوستوں کی دعوت کی۔ وہ تین بکرے ذبح کرا کر دوستوں کے لیے لذیذ کھانے تیار کروائے۔ رات کو سب دوست دعوت میں شریک طعام ہوئے۔ ابھی وہ کھانا کھا ہی رہے تھے کہ کہیں سے بھیڑیے کی ڈراؤنی آواز سنائی دی۔ دعوت کھانے والوں میں ایک شخص درندوں کی بولی سمجھتا تھا۔ دوسرے نے اس سے کہا۔
“ارے میاں سنو۔ یہ بھیڑیا کیا کہہ رہا ہے۔”
اس نے جواب دیا۔” یہ کہتا ہے۔ اے انسان! تو بھی کتنا عجیب ہے۔ خود تو بکرے کے گوشت کو مزے مزے سے چٹخارے لے کر کھاتا ہے لیکن جب میں تقلید کرتا ہوں تو شور مچاتا ہے کہ بھیڑیا بکرے کو کھا گیا۔”
حاصل کلام
حیلہ ساز خود سچا ہونے کے لیے کوئی نہ کوئی حیلہ بہانہ تراش لیتا ہے۔
اللہ نظر کیوں نہیں آتا؟
ایک شخص نے کسی درویش سے پوچھا۔” اگر اللہ ہے تو نظر کیوں نہیں آتا؟ جنات کو اللہ نے آگ سے بنایا ہے۔ ان کو جہنم کی آگ میں جھونکنے سے کیا تکلیف ہوگی؟ میرے گناہوں کی سزا مجھے کیوں ملے گی جبکہ اللہ کے حکم کے بغیر ایک پتا بھی نہیں ہلتا؟”
یہ سن کر درویش نے غصہ میں آ کر ایک ڈھیلا اٹھا کر اسے مارا۔ اس شخص کا سر پھٹ گیا۔ وہ سیدھا قاضی کی عدالت میں پہنچا اور اپنی درد بھری کہانی سنائی اور داد رسی چاہی۔ قاضی نے درویش کو بلا کر باز پرس کی۔ درویش نے جواب دیا۔
“یہ شخص ٹھیک کہتا ہے۔ اس بد عقیدہ شخص سے مجھے کچھ پوچھنے کی اجازت دی جائے۔”
قاضی نے اجازت دے دی۔ درویش نے اس شخص سے پوچھا۔
“تو کہتا ہے کہ تیرا سر زخمی ہونے سے تجھے تکلیف ہو رہی ہے لیکن مجھے تکلیف نظر نہیں آتی۔ خدا نے تجھے مٹی سے بنایا ہے تو پھر مٹی کے ڈھیلے سے تیرا سر کیوں پھٹ گیا۔ بتا، میں تیری نظر وں میں تجھے ڈھیلہ مارنے کا مجرم کیسے ٹھہرا جبکہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی پتا بھی نہیں ہلتا۔”
وہ شخص لاجواب ہو گیا۔ ایک لفظ بھی اس کی زبان سے ادا نہ ہو سکا۔ قاضی نے درویش کو بری کر دیا اور اس شخص کو بری لعن طعن کی۔
حاصل کلام
خداوند کریم پر نکتہ چینی کرنے والا خود ذلیل و خوار ہوتا ہے۔
جہالت کا نقصان
ایک ٹڈا کسی شاخ پر بیٹھا سیٹیاں بجا رہا تھا۔ ایک گدھا قریب سے گزرا۔ ٹڈے کی سیٹیاں سن کر اس کے کان کھڑے ہو گئے۔ ٹڈے سے کہنے لگا۔
“ٹڈے میاں! تمہاری آواز بڑی سریلی ہے۔ میں تو اس پر عاشق ہو گیا ہوں۔ تم کیا کھاتے ہو؟ بتاؤ، میں بھی وہی غذا استعمال کرکے اپنی آواز تمہاری طرح سریلی بنا سکوں۔”
ٹڈا اپنی آواز کی تعریف سن کر بڑا خوش ہوا اور بولا۔
“تم میرے دوست ہو۔ کبھی کبھی میں شاخ سے اچھل کر تمہاری گردن پر بیٹھ جاتا ہوں تو مجھے پنگوڑے کا مزا آتا ہے۔ تم اپنی گردن ہلا کر مجھے خوش کر دیتے ہو۔ آج تمہیں اپنی آواز سریلی بنانے کا خیال آیا ہے۔ بڑی اچھی بات ہے۔ ہے تو راز کی بات لیکن میں تمہیں بتائے دیتا ہوں۔ دیکھو، یہ راز کسی اور کو مت بتانا۔ تم خود اس سے فائدہ اٹھاؤ۔”
گدھے نے قسم اٹھا کر یقین دہانی کرائی کہ وہ یہ راز کسی کو نہیں بتائے گا تو ٹڈے نے کہا۔” اوس کھایا کرو۔”
گدھا یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ سب کھانا پینا چھوڑ کر اوس چاٹنا شروع کر دی۔ چند ہی دنوں میں بھوک پیاس کی شدت سے مر گیا۔
حاصل کلام
جہالت ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
لکڑ ہارا اپنی بیوی کے ساتھ دریا کنارے جا رہا تھا کہ اس کی بیوی دریا میں گر گئی۔ اس نے گڑگڑا کر دعا مانگی۔ دریا میں ہلچل ہوئی اور فرشتہ ایک بہت ہی خوبصورت اور نوجوان لڑکی کو لے کر حاضر ہوا اور اس سے کہنے لگا “کیا یہ تمہاری بیوی ہے؟”
لکڑ ہارے نے فوراً ہاں کر دی کہ ہاں یہی میری بیوی ہے۔
فرشتے کو غصہ آیا اور کہنے لگا۔ تم نے جھوٹ بولا ہے۔ تمہیں اس کی سزا ملنی چاہیے۔
لکڑ ہارا گڑگڑا کر بولا، پہلے میری بات سُن لو پھر جو چاہے مجھے سزا دینا۔
فرشتے کی رضامندی پر لکڑ ہارا بولا، پچھلی دفعہ جب میرا کلہاڑا دریا میں گر گیا تھا تو تم نے مجھے اپنے اصلی کلہاڑے کی شناخت پر مزید دو عدد کلہاڑے میری ایمانداری کے انعام میں دیئے تھے۔
اب اگر میں پہلے والی لڑکی کو شناخت نہ کرتا تو تم دوسری لڑکی دکھا کر پوچھتے، میں اسے بھی شناخت نہ کرتا پھر تم میری اصلی بیوی کو لے آتے اور میں اسے شناخت کر لیتا تو تم پہلی دو بھی مجھے انعام کے طور پر دے دیتے۔
میں تو ایک کو بڑی مشکل سے برداشت کر رہا ہوں، تین تین کو کیسے برداشت کرتا، اس لیے میں نے جلدی سے پہلی پر ہی اکتفا کیا تھا۔
حاصل کلام : خود اخذ کریں۔
ایک اکیلا دو گیارہ
ایک شخص کے کئی لڑکے تھے جو ہر وقت آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے تھے۔ باپ نے کئی بار انہیں سمجھایا لیکن ان پر کوئی نصیحت کارگر نہ ہوئی۔ ایک دن اس نے انہیں سبق سکھانے کے لیے کہ اتحاد میں کتنی طاقت ہے، انہیں پتلی پتلی ٹہنیاں لانے کو کہا۔ تمام لڑکے گئے اور ٹہنیاں لے آئے۔ ان کے باپ نے ان ٹہنیوں کو ایک باندھ کر گٹھا بنایا اور لڑکوں سے کہا کہ وہ باری باری زور آزمائی کریں اور اس گٹھے کو توڑ دیں۔ ہر لڑکے نے اپنی اپنی جگہ بے حد زور آزمائی کی لیکن توڑنے میں ناکام رہے۔
اب اس نے اس گٹھے کو کھول کر ٹہنیاں علیحدہ علیحدہ کر دیں اور ایک ایک ٹہنی ہر ایک تھما کر توڑنے کو کہا۔ ہر لڑکے نے اپنے حصے کی ٹہنی آسانی سے توڑ دی۔ باپ نے کہا۔
“میرے بیٹو! غور سے سنو۔ اگر تم ان ٹہنیوں کی طرح اکٹھے رہو گے اور تم میں ایکا رہے گا اور اتحاد ہو گا۔ یک جان ہو کر زندگی بسر کرو گے تو تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ جو بھی اس حال میں تم سے لڑے گا، تم پر فتح نہ پا سکے گا۔ اگر تم علیحدہ علیحدہ رہو گے تو آسانی سے مارے جاؤ گے۔”
حاصل کلام
اتحاد میں بڑی برکت ہے۔ اتحاد کی بدولت کسی قوم کو بڑے سے بڑا دشمن بھی نیچا نہیں دکھلا سکتا۔
شیخی کا انجام
کسی گاؤں کے رہنے والے ایک شخص نے کافی عرصہ پردیس میں زندگی گزاری۔ واپس آیا تو وہ گاؤں والوں پر اپنی دھاک بٹھانے کے لیے انہیں عجیب و غریب باتیں سناتا۔ ایک روز کہنے لگا۔
“جس وقت میں کابل گیا تو وہاں میں نے ایسی بلند چھلانگ لگائی کہ ایک بڑے اونچے درخت کو پھاند گیا اور اس درخت پر بیٹھے ہوئے تمام پرندے اڑ گئے۔ اگر کسی کو میری اس بات پر یقین نہیں ہے تو کابل جا کر تصدیق کر سکتا ہے۔”
یہ سن کر ایک دانا شخص بولا۔” کابل جانے کی کیا ضرورت ہے۔ ہاتھ کنگن کو آر سی کیا۔ یہ رہا اونچا درخت، لگاؤ چھلانگ اور اس کو پھاند جاؤ۔”
یہ سن کر شیخی باز سناٹے میں آ گیا۔ لگا بغلیں جھانکنے۔ سب اس پر پھبتیاں کسنے لگے۔
حاصل کلام
شیخی مارنے کا انجام شرمندگی اور ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
سیاہ گوش اور شیر
سیاہ گوش سے لوگوں نے پوچھا۔” تجھے شیر کا ساتھ کیوں پسند آیا۔”
سیاہ گوش نے جواب میں کہا۔” وہ اس لیے کہ میں اس کا بچا کچھا بھی کھا لیتا ہوں اور دشمنوں کے شر سے بھی بچا رہتا ہوں کہ شیر کے دبدبے اور خوف سے کوئی میرے نزدیک نہیں آتا۔ شیر کی پناہ میں زندگی بڑے مزے سے گزرتی ہے۔”
پوچھا گیا۔” پھر کیا وجہ ہے کہ تو اس کی مہربانیوں کے اقرار کے باوجود بھی اس کے زیادہ نزدیک نہیں جاتا۔”
سیاہ گوش نے جواب دیا۔” دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے دور رہوں اور محفوظ رہوں۔ ہو سکتا ہے کہ شیر کا مزاج کسی وقت بگڑ جائے اور وہ مجھے اپنا لقمہ بنا لے۔ اس لیے فاصلے پر رہنا ہی بہتر ہے۔”
حاصل کلام
دانش مندی سے انسان ہزار ہا مصیبتوں سے بچا رہتا ہے۔
اطمینان قلب کی نعمت
کسی بزرگ سے سوال کیا گیا۔” تصوف کی حقیقت کیا ہے؟”
بزرگ نے جواب دیا۔” داناؤں کا ایسا گروہ جس کا دل مطمئن اور صورت پراگندہ ہوتی ہے۔ جبکہ آج کا انسان وہ مخلوق ہے جس کا دل پراگندہ اور ظاہر مطمئن ہے۔”
حاصل کلام
اطمینان قلب ایک ایسی نعمت ہے جو بہت کم حاصل ہوتی ہے۔ لاکھ خزانوں کا مالک ہو کر بھی انسان اطمینان قلب سے محروم رہتا ہے اور ایک مفلس اس سے مالا مال ہوتا ہے۔
جادو
دورانِ سفر حجاز، صاحب دل جوانوں کا ایک گروہ ایک دوسرے کے ساتھ محققانہ شعر پڑھتے جا رہے تھے اور گانا گا رہے تھے۔
مقام بخیل میں ایک حبشی نے یہ حالت دیکھ کر کہا۔
“کیا سریلی آواز ہے۔ اڑتے ہوئے پرندے بھی مسحور ہو کر بیٹھ گئے۔ اونٹ ناچنے لگے۔ ہم سب جاگ رہے تھے لیکن یوں محسوس ہوا جیسے سو رہے ہیں۔”
حاصل کلام
سریلی آواز میں جادو ہے۔
حقیقی طاقتور
ایک پہلوان کسی کے گالی دینے پر غصہ میں انتہائی لال پیلا ہو رہا تھا۔ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔
کسی صاحب نے پوچھا۔” پہلوان کو کیا ہوا؟”
جواب ملا۔” کسی کی گالی پر سیخ پا ہو رہا ہے۔ اگر وہ سامنے آ جائے تو اسے ابھی کچا چبا جائے۔”
صاحب نے کہا۔” یہ غصے کا اتنا زہریلا ہے؟ جو دو چار من کا بوجھ تو اٹھا سکتا ہے ، ذرا سی بات کا وزن برداشت نہیں کر سکتا۔”
حاصل کلام
در حقیقت طاقتور وہی ہے جو قوت برداشت رکھتا ہو۔ تحمل مزاجی سے ہر بگڑا کام درست ہو جاتا ہے۔
روح کا روگ
ایک بادشاہ درویشوں کو حقارت بھری نظروں سے دیکھتا تھا۔ ایک نڈر درویش نے اس سے کہا۔
“اے بادشاہ! تیرے پاس بے شک لشکر ہے۔ خزانہ ہے۔ اور تو ہم سے زیادہ اس دنیا میں عیش کرتا ہے اور خوش رہتا ہے۔ لیکن یاد رکھ، ہمارے پاس قناعت جیسی نعمت موجود ہے۔ بے شک ہم تجھ سے دنیاوی لحاظ سے کمتر ہیں لیکن روز محشر تم سے برتر ہوں گے۔ مرنے میں ہم سب برابر ہیں۔”
درویش کی اس بات سے بادشاہ بہت شرمندہ ہوا اور آئندہ کبھی کسی بھی درویش کو حقارت بھری نظروں سے نہ دیکھا۔
حاصل کلام
روح کا روگ نفرت و حقارت ہوتا ہے۔ اس سے بچنا چاہیے۔ خدا کی نظر میں ساری مخلوق ایک سی ہے۔
ایمان کی باتیں
کسی مستند عالم کا کسی بے دین سے مناظرہ ہو گیا۔ کسی بھی دلیل سے بے دین مطمئن نہ ہوا۔ عالم ہارنے کے بعد دل گرفتہ گھر واپس آ گیا۔ کسی نے پوچھا۔” اتنے بڑے عالم ہو کر بھی اسے کسی دلیل سے تم مطمئن نہ کر سکے۔ کیا وجہ ہے؟”
اس نے کہا۔” میرا علم تو قرآن و حدیث اور بزرگوں کے اقوال ہیں۔ وہ نہ ان کو مانتا ہے اور نہ ہی سننے کو تیار ہے۔ پھر اس کے کفر کی باتیں میرے کس کام کی؟”
حاصل کلام
ایمان کی باتیں کافر کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔






