آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمز

علامہ زاہد کوثری

ایک اردو تحریر از ابو خالد

علامہ زاہد کوثری اور عالم اسلام پر ان کے اثرات

مختصر تعارف
بیسویں صدی عیسوی اسلامی تاریخ کی ایک انتہائی پُرآشوب صدی ہے۔ اس دور میں جہاں سلطنتِ عثمانیہ کا شیرازہ بکھرا، صدیوں کا علمی ورثہ خطرے میں پڑا، اور تجدد پسندی کی آندھیوں نے اسلامی روایت کی جڑوں کو ہلانے کی کوشش کی، وہیں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی شخصیت بھی پیدا کی جس نے اپنے کندھوں پر صدیوں کے علمی ورثے کا بوجھ اٹھایا اور اسے جدید عرب دنیا تک بحفاظت پہنچایا۔ یہ شخصیت امام محمد زاہد الکوثری کی ہے ۔

پیدائش اور ابتدائی تعلیم
امام محمد زاہد بن حسن الکوثری 1879ء میں ترکی کے شہر دوزجہ (Düzce) کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندانی پس منظر قفقاز کے چرکسی نژاد سے تھا، جو روسی سامراجی جارحیت کے نتیجے میں ہجرت کر کے سلطنتِ عثمانیہ کے دامن میں آ بسا تھا۔ اس مہاجر خاندان میں علم و دین کی روایت گہری تھی اور والد حاجی حسن خود ایک صاحبِ علم شخصیت تھے۔
ابتدائی تعلیم انہوں نے اپنے والد اور دیگر خاندانی مشائخ سے حاصل کی۔ اس گھریلو ماحول نے ان کے دل میں علومِ عربیہ اور بالخصوص علمِ حدیث کی ایسی محبت پیدا کی جو تا دمِ آخر ان کی رگ و پے میں دوڑتی رہی۔

استنبول میں علمی عروج
اعلیٰ تعلیم کی طلب انہیں استنبول لے گئی جہاں انہوں نے 1893ء سے 1907ء تک جامع فاتح کے مشہور مدارس یعنی "صحنِ ثمان” میں تعلیم حاصل کی۔ یہ مدارس سلطنتِ عثمانیہ کے اعلیٰ ترین علمی ادارے تھے اور یہاں داخلہ پانا ہی اپنے آپ میں ایک امتیاز تھا۔ انہوں نے ابراہیم الاجینی اور علی زین العابدین الالسونی جیسے جلیل القدر اساتذہ سے کسب فیض کیا اور علومِ عقلیہ و نقلیہ میں یکساں مہارت حاصل کی۔
1907ء میں انہوں نے "امتحانِ رؤوس” میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی اور اسی مدرسے میں بطورِ استاد تقرر پایا۔ یہ امتحان عثمانی نظامِ تعلیم میں فاضل درجے کی اہلیت کا اعلیٰ ترین معیار تھا جو پانچ سالوں میں ایک بار لیا جاتا تھا۔
1914ء سے 1916ء کے درمیان انہیں سیاسی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جمعیتِ اتحاد و ترقی کے خلاف موقف کی وجہ سے انہیں قسطمونو جلا وطن کیا گیا، لیکن واپسی پر انہیں ایک انتہائی اعلیٰ منصب پر فائز کیا گیا۔ 1916ء میں انہیں سلطنتِ عثمانیہ کے نظامِ تعلیم کی نگران کمیٹی "وکالتِ درس” کا صدر منتخب کیا گیا۔ یہ منصب شیخ الاسلام کے بعد سب سے اہم علمی عہدہ تھا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سلطنت کے علمی حلقے انہیں کس نگاہ سے دیکھتے تھے۔

ہجرتِ مصر: ایک نئے دور کا آغاز
سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ اور اس کے بعد کے سیاسی انقلابات امام کوثری کے لیے ذاتی طور پر بہت تکلیف دہ ثابت ہوئے۔ جب ان پر تنگی کی گئی اور گرفتاری کا خطرہ منڈلانے لگا تو 1922ء میں وہ اچانک اپنے دفتر سے سیدھے بندرگاہ پہنچے اور بحری جہاز کے ذریعے مصر کی طرف ہجرت کر گئے — محض چند کپڑوں کے ساتھ۔
یہ ہجرت بظاہر ایک افتادِ گزیدہ شخص کی پریشانی کا واقعہ لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ اسلامی علمی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔ مصر میں آکر انہوں نے اپنی پوری زندگی علمی تحقیق، تصنیف اور مخطوطات کے احیاء کے لیے وقف کر دی۔ ان کی رہائش گاہ اور مسجد ابو الذہب کا حلقہ دنیا بھر کے طلبہ کے لیے علم کا مرکز بن گیا۔

علمی شخصیت کے نمایاں پہلو
امام کوثری کا سب سے بڑا امتیاز یہ تھا کہ وہ علومِ عقلیہ (کلام، منطق، اصولِ فقہ) اور علومِ نقلیہ (حدیث، فقہ، تاریخ) دونوں میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔ علمِ کلام کے پیچیدہ ترین مسائل ان کی نوکِ زبان پر رہتے، جبکہ فنِ حدیث میں ان کی نقادی بے مثال تھی۔ ان کی فصاحت و بلاغت کا یہ عالم تھا کہ عرب ادیب بھی ان کے اسلوبِ نگارش کے معترف تھے۔

حافظے کا کرشمہ
امام کوثری کا حافظہ کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ وہ نایاب مخطوطات کے بارے میں زبانی بتا دیتے کہ تاریخِ اسلام کی فلاں نایاب کتاب، فلاں لائبریری کے فلاں شیلف پر موجود ہے۔ مستشرقین اور مصری ماہرین نایاب مخطوطات کی تلاش میں ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔
ان کی علمی دیانت کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ جب پاکستان کے ممتاز عالم سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ نے گمان کیا کہ شاید علامہ کوثری نے کتاب "العبقات” خود نہیں پڑھی، بلکہ کسی واسطے سے نقل کرکے اس پر نقد کیا ہے اور شیخ بنوری رح نے ایک خط میں اس بات کا اظہار کیا، تو علامہ کوثری نے خط کے جواب میں لکھا کہ: "میں نے یہ کتاب خود پڑھی ہے۔ عالم کی یہ شان نہیں کہ وہ حوالہ نقل کرنے میں تساہل سے کام لے اور درمیانی سطروں پر بھروسہ کرے۔”
ان دونوں شیوخ کے خطوط عربی زبان میں ”رسائل الإمام محمد زاهد الكوثري إلى العلامة محمد يوسف البنوري“ کے نام سے طبع ہوچکے ہیں۔

عالمِ اسلام علامہ کوثری کے اثرات
علامہ کوثری کے اثرات عالمِ اسلام پر چھ مختلف دائروں میں پھیلے:
۱۔ مخطوطات کی اشاعت اور احیاء
امام کوثری نے اسلامی ورثے کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ناشرین کی رہنمائی کی کہ وہ کون سی اہم کتابیں شائع کریں۔سید عزت العطار،سید محمد امین الخانجی (مکتبہ الخانجی)اورسید حسام الدین القدسی جیسے ناشر ان کی رہنمائی پر کتابیں شائع کرتے تھے۔ جب ہندوستان میں دائرۃ المعارف العثمانیہ نے شیخ عبدالرحمن المعلم الیمانی کی تحقیق کے ساتھ "الجرح والتعدیل” لابن ابی حاتم شائع کرنے کا ارادہ کیا تو امام کوثری نے انہیں ترکی میں موجود اس کے ایک بہتر نسخے کی نشاندہی کی ، جس کا ذکر محقق نے مقدمہ میں کیا ہے۔ ایک اور نایاب کتاب "آداب الشافعی ومناقبہ” بھی آپ کی راہنمائی سے(آپ کی وفات کے بعد) چھپی ہے، جس کا نسخہ حلب میں تھا اور علامہ کوثری رح اپنے شاگرد شیخ عبد الفتاح ابوغدہ کو باقاعدہ معاوضہ ادا کرکے اس کی کاپی منگوائی اور اہل علم کو اس پر تحقیق اور طباعت کے بارے میں بتایا۔

۲۔ نخبہ اور اساتذہ پر اثرات
امام کوثری کا اثر صرف طلبہ تک محدود نہ تھا۔ جامعہ ازہر کے شیخ مصطفی عبد الرزاق نے ان سے ازہر کے حدیث ڈیپارٹمنٹ کے نصاب کی بہتری کے لیے رپورٹ طلب کی اور نصاب کی تشکیلِ نو کے لیے مکمل منصوبہ انہی کی رہنمائی میں تیار کروایا۔
علامہ محمد ابو زہرہ نےعلامہ کوثری کی وفات کے بعد آپ پر باقاعدہ ایک مقالہ لکھا اور اس میں تقریبا گیارہ مرتبہ امام کے لقب سے یاد کیا اور یہ ذکر کیا کہ آپ حقیقی معنوں میں”مجدد“ تھے، ایسے مجدد جنہوں نے ورثے کو گہرائی سے سمجھا، اسے باقی رہنے کے لائق جانا، اور اسے روشن پل کی طرح آنے والے دور سے جوڑ دیا۔ وہ پرانی عمارت کو گرانا تجدید نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اس کی بنیادوں کو سمجھ کر اسے نکھارنا تجدید سمجھتے تھے۔ آپ نے یہ اعتراف کیا کہ وہ کتاب صرف اس لیے خریدتے تھے کہ اس پر امام کوثری کے تعلیقات (حواشی) موجود ہوتے تھے۔ آپ نے ایک اہم قصہ بھی لکھا ہے کہ آپ نے علامہ کوثری کو جامعہ قاہرہ میں پڑھانے کی درخواست کی، جس پر علامہ کوثری نے اپنی کمزوری اور ضعف کی بنیاد پر قبول نہیں کیا، جس پر شیخ ابوزہرہ نے لکھا: "یہ ایک عظیم اور وسیع روح ہے جو ایک کمزور انسانی جسم میں قید ہے۔”
شیخ الاسلام مصطفی صبری نے ( جن سے عقائد کے ایک مسئلے میں شدید علمی اختلاف کے باوجود ) ایک علمی مسئلہ میں علامہ کوثری پر نقد کے دوران یہ اعتراف کیا: "علامہ کوثری کی کتابیں (تانیبِ الخطیب اور النکت الطریفہ) پر ہماری فاتح مدارس جامعہ ازہر کے سامنے فخر کر سکتی ہے، کیونکہ ازہر نے ان جیسی کتابیں نہیں لکھیں۔”

۳۔ اسلامی ممالک کے درمیان علمی تواصل
سلطنتِ عثمانیہ کےقدیم علماء کو تو دنیا جانتی ہے، لیکن آخری دو سو سال کے علماء عموما نامعلوم تھے، جن کی پہچان علامہ کوثری رح نے ہی دنیا کو کرائی اور آپ نے اسلامی ممالک کے اہل علم کے درمیان تعلق اور توصل قائم کرنے کے لیے ایک مضبوط ترین کڑی کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے شام، مغرب، عراق، ہندوستان اور دیگر ممالک کے علماء کو اپنے شیوخ کی اسانید منتقل کیں ۔
برصغیر کے ساتھ ان کے گہرے علمی روابط تھے۔ ہندوستان کے اکابر علماء کے ساتھ ان کی علمی مراسلت اور فکری تبادلہ رہا۔عثمانی، تھانوی ، کشمیری مکتبِ فکر اور ہندوستانی محدثین کے ساتھ یہ روابط اسلامی علم کی ایک انوکھی کثیر الجہات ندی کی مانند تھے۔
اس کے علاوہ علامہ کوثری کا دیگر فنون وعلوم کے ماہرین(ادباء اور اصحاب، مخطوطات وغیرہ) کے ساتھ بھی ایک تعلق تھا، جیسے احمد الامین وغیرہ، باوجود اس کے کہ آپ اس قسم کے لوگوں کی تمام آراء سے متفق نہ تھے، چنانچہ احمد امین کی کتاب "فجر الاسلام” پر براہِ راست تنقید کی بجائے علامہ کوثری نے لکھا: "اسلام کا کوئی سورج نہیں جو طلوع یا غروب ہو، اسلام کا سورج ہمیشہ چمکتا رہتا ہے۔” اس ایک جملے میں انہوں نے اس کتاب پر رد کیا۔
مخطوطات کے سلسلے میں علامہ کوثری مشہور صاحبِ مخطوطات محمد رشاد عبد المطلب کی راہنمائی کیا کرتے تھے اور ان کے لیے ایک واسطہ تھے۔
اپنے "ثبت” (اجازت ناموں کی کتاب”التحریر الوجیز“) کے ذریعے انہوں نے دنیا بھر کے 300 سے 500 جلیل القدر علماء کو روایت کی براہِ راست اجازت عطا کی، جس سے پوری امت کو ایک سند پر جمع کر دیا۔اس کی مزید تفصیل کتاب”الإمام الكوثري وإسهاماته في علم الرواية والإسناد“ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

4۔ مقالات اور ثقافتی تحریک
ان کے ایک سو (100) سے زائد علمی و ثقافتی مقالات "مقالاتِ الکوثری” کے نام سے شائع ہوئے۔ یہ مقالات علمی گہرائی اور اشارات سے اس قدر بھرپور تھے کہ ان کے اسلوب کو دو سطحوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ظاہری سطح جو عام قاری کے لیے انتہائی فصیح اور رواں نثر ہے، اور گہری سطح جو محققین کے لیے تاریخ اور عقائد کے گہرے اشارات پر مشتمل ہے۔
یہ اسلوب صرف دو علماء میں ہی محسوس ہوتا ہے ،ایک علامہ تفتازانی رح اور دوسرے شیخ زاہد کوثری رح ۔

5۔ طلبہ کی تربیت
ان کی رہائش گاہ اور مسجد ابو الذہب(ہفتہ وار مجلس، بروز جمعہ) کے علمی حلقے میں آنے والی نسل کے عظیم علماء نے فیض اٹھایا، جن میں اہل علم اور طلبہ آکر کسی بھی موضوع سے متعلق سوالات کرتے تھے اور شیخ ان کے جوابات دیتے تھے۔
شیخ عبد الفتاح ابو غدہ (شام): پہلی ملاقات (جو مسجد ابوالذہب میں ہوئی تھی)میں ہی ان کی صلاحیت بھانپ لی اور انہیں اپنی خصوصی مجالس کے لیے گھر مدعو کیا، جہاں آپ ہفتہ میں ایک یا دو بار جاتے تھے۔
شیخ محمد امین سراج (ترکی): شدید بیماری اور کمزوری کے باوجود، 20 سال سے کم عمر کے اس نوجوان طالبِ علم کو اپنے گھر میں وقت دیا۔
رجب البیومی (ادیب ومؤرخ): ایک نوجوان ادیب کو (تراجم میں اہم کتاب کے سوال کے جواب میں)اس کے رجحان کے مطابق "طبقاتِ الشافعیہ” پڑھنے کا مشورہ دیا ، جو ان کی حیرت انگیز فراست کا ثبوت تھا۔

6-معاشرے میں علمی تحریک
اس کا تعلق تخصصی علوم کے ساتھ ہے،کیونکہ یہ آپ کی کتب، تحقیقات، حواشی وتعلیقات، اور خصوصا نقد اور مناقشات کا اثر ہے۔یہ امام کوثری کی خدمات کا سب سے اہم پہلو ہے۔
تاریخِ فقہ کا احیاء: انہوں نے امام ابو یوسف کی سوانح(حسن التقاضی) اور امام محمد اور دیگر ائمہ کی سیرت(بلوغ الامانی) ، امام زفر کی سوانح (لمحات النظر)امام طحاوی کی سیرت (الحاوی)وغیرہ پر جو کتب لکھیں، وہ محض سوانح وتراجم نہیں تھیں، بلکہ ان میں اسلامی قانون اور فقہ کی تشکیل کی تاریخ بیان کی گئی تھی۔
علمی دفاع: علامہ کوثری کسی بھی کتاب کو تحقیق وتعلیق کے لیے منتخب کرتے تو اس کا کوئی خاص سبب اور وجہ ہوتی تھی، مثلا انہوں نے بعض معاصرین (مثلاً مصطفٰی صبری افندی) کے نظریات کا جواب دینے کے لیے قدیم نایاب کتب (جیسے العقیدة النظامية، اور اللمعۃ) پر حواشی لکھ کر علمی نکات واضح کیے اور اشارات وكنايات میں آپ پر رد کیا۔
فقہی مسائل پر بحث: شیخ احمد شاکر (قاضی مصر)نے ایک کتاب لکھی تھی”نظام الطلاق فی الاسلام“جس میں انہوں نے بعض مسائل میں حنفیہ اور بعض میں ائمہ اربعہ کی آراء کو چھوڑ کر شاذ آراء کو اختیار کیا تھا، ان کے رد پر علامہ کوثری نے "الاشفاق علی احکام الطلاق” لکھی جس نے پورے عالمِ اسلام (مصر سے مراکش تک) میں ایک علمی بحث چھیڑ دی تھی۔
تنقید کا خیر مقدم: علامہ کوثری نے خطیب بغدادی کی نقد میں ایک کتاب”تانیب الخطیب“ لکھی تھی،جب ان پر علمی تنقید کی گئی (علامہ معلمی یمانی کی طرف سے)، تو انہوں نے "الترحيب بنقد التأنيب” لکھ کر اسے خوش آمدید کہا۔
امام کوثری نے نہ صرف کتابیں لکھیں، بلکہ عالمِ اسلام میں ایک علمی لہر پیدا کی، آپ کے علمی ورثہ اعداد و شمار کی روشنی میں کچھ یوں ہے:
50 سے زائد تصانیف (فقہ، حدیث، تاریخِ فقہ، عقائد)
20 سے زائد نادر مخطوطات پر تحقیق اور تعلیقات
57 سے زائد دیگر علمی کتب کے انتہائی وقیع مقدمات
100 سے زائد ثقافتی اور علمی مقالات
300 سے 500 دنیا بھر کے علماء کو براہِ راست اسانید کی اجازت
(ماخذ:یہ مضمون ڈاکٹر حمزہ البکری کی عربی زبان میں یوٹیوب ویڈیو "الکوثری وأثره في العالم الإسلامي” سے ماخوذ ہے۔)

ابو خالد قاسمی

post bar salamurdu

ابو خالد

نام ابو خالد، ولدیت ناظر الدین ۔ آسام ہندوستان سے تعلق ہے ۔ تعلیم: مادر علمی دار العلوم دیوبند سے حاصل کیا ۔ عمر ۔ ٢٥ سال ۔ احقر کے قلم سے بحمد اللہ قریب دس کتابیں منظر عام پر آئی ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button