آپ کا سلاماردو غزلیاتافتخار شاہدشعر و شاعری

اس بار اس کے ہجرکا شکوہ نہیں کیا

افتخار شاہد کی ایک غزل

اس بار اس کے ہجرکا شکوہ نہیں کیا
اس باراس کا وصل ہی اچھا نہیں لگا

اس بار میرے شوق کی بانہیں نہیں کھلیں
اس بار خود ہی وہ مرے سینے سے آ لگا

اس بار میل جول میں وارفتگی نہ تھی
اک دوسرے کو آج سنبھالا نہ جا سکا

اس بار انتظار کی سُولی نہیں سجی
اس بار بامِ شوق پر کوئی دیا نہ تھا

اس بار اس نے پاوں کے چھالے نہیں گنے
بس بے دلی کے ساتھ مجھے دیکھتا رہا

اس بار اُس کی ہار یقینی تھی اس لئے
اس بار ہم سے کھیل ہی کھیلا نہیں گیا

یہ وصل رات وقت سے پہلے ہی ڈھل گئی
اس بار اس کی زلف کا جادو نہیں چلا

اس بار اس کی آنکھ کے جگنو بھی مر گئے
اس بار میرے خواب کا پنچھی بھی اڑ گیا

افتخار شاہد ابو سعد

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button