- Advertisement -

خوشیوں بھری پرسکون زندگی

بینا خان کے ناول اب میرے ہو کے رہو سے اقتباس

ملک وقار اور ملک عمار یہاں ہوسپٹل میں زوار کے پاس ہی تھے بابا سائیں اماں اور پریشے کو گاؤں بھیج دیا تھا
آج ایک ہفتے بعد زوار کو ہوش آیا تھا ملک وقار نے فون کر کے بابا سائیں کو اطلاع دی
بابا سائیں نے شہر جانے کی تیاری کی حویلی سے نکلے تو کسی خیال کے تحت انہوں نے ڈرائیور کو پریشے کے گھر جانے کو کہا اس لڑکی سے انہیں انسیت سی ہو گئی تھی جتنے دن وہ ہسپتال رہے پریشے نے ان کی بیٹی کی طرح دیکھ بھال کی تھی اور پھر وہ زوار کی بھی پسند تھی تو انہیں اب کیوں کر اعتراض ہونا تھا
پریشے کے گھر کے باہر گاڑی رکی انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا پریشے نے دروازہ کھولا
” آ۔۔۔آپ ”
” پریشے بیٹا زوار کو ہوش آگیا ہے چلو گی”
” سچ۔۔۔ انہیں۔۔۔ انہیں ہوش آگیا ہے”
” ہاں بیٹا ”
” میں۔۔۔میں آتی ہوں ” کہہ کر وہ اندر گئی اپنا پرس اور چادر اٹھا کے باہر آئی گھر کو لاک کیا پھپو لاہور چلی گئی تھیں کیونکہ ان کا بیٹا باہر سے اچانک آگیا تھا تو وہ چلی گئیں مگر فون پہ زوار کی خبر لیتی رہتی تھیں
وہ گاڑی میں آ بیٹھی گاڑی چلی تو پریشے نے پوچھا
” بابا سائیں کیا۔۔۔ کیا وہ خطرے سے باہر ہیں؟؟؟”
"خطرے سے تو باہر ہے اب ڈاکٹر نے کہا ہے کہ زوار کو پاکستان سے باہر لے جائیں اور وہاں کسی اچھے ہسپتال میں اس کا علاج کرائیں ” وہ خاموش ہو گئی اور پھر سارا راستے وہ اللٰہ سے اس کے ٹھیک ہونے کی دعائیں کرتی رہی
ہوسپٹل پہنچ کے وہ لوگ زوار سے ملنے گئے وقار اور عمار تو پہلے مل چکے تھے
زوار کو یوں لیٹا دیکھ کے بابا سائیں آگے بڑھے پریشے بھی پیچھے آئی
بابا سائیں نے اسے پیار کیا
” میرے بچہ۔۔۔میرا شیر کیسا ہے جلدی سے ٹھیک ہوجا پتر آنکھیں ترس گئی ہیں تجھے اپنے سامنے کھڑا دیکھنے کے لیے ”
” با۔۔با” زوار کی آواز بہت مشکلوں سے نکل رہی تھی اسے یوں دیکھ کے پریشے کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں
” کچھ نہ بول پتر۔۔۔بس تو ٹھیک ہوجا ڈاکٹر نے کہا ہے تیرا باہر سے علاج کرانے کا دیکھنا بہت جلد تو چنگا بھلا نظر آئے گا انشآاللٰہ”
زوار نے پریشے کو دیکھا وہ رو رہی تھی زوار نے اس کی طرف اشارہ کیا پریشے اس کی دوسری سائیڈ کھڑی تھی
” با۔۔با۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔یہ۔۔بھ۔۔بھی” بابا نے پریشے کی طرف دیکھا جس کے لیے ان کا بیٹا سر سے پاؤں تک بدل گیا تھا اور اس حالت میں بھی اس کی ساری توجہ کا مرکز وہی تھی
” ہاں بیٹا یہ بھی تیرے ساتھ جائے گی لیکن اس سے پہلے ہم تم دونوں کا نکاح پھر کروائیں گے تاکہ پورے گاؤں کو پتا چلے کہ ہمارے زوار کی دلہن آگئی ہے ” بابا نے کھڑے کھڑے فیصلا کیا پریشے انہیں دیکھنے لگی
” میری دھی اتنا حیران نہ ہو زوار ہمیں جان سے پیارا ہے اس کی خوشی کے آگے ہمیں کبھی نی کبھی تو جھکنا ہی تھا اور زوار کے ہوش آنے سے پہلے تم جو ہمارے ساتھ رہیں ایک بہو نہیں بیٹی بن کے ہمیں تسلی دی دلاسہ دیا خیال رکھا اپنی پرواہ کیے بغیر ” انہوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا ” تو ہم کیوں نہ مانتے” وہ بھیگی آنکھوں سے مسکرادی
” با۔۔با ” زوار بولا
” اوئے اب بس بھی کردے کب سے بابا بابا بول رہا ہے اب تو میں نے کردی تیرے دل کی مراد پوری اب چل جلدی سے ٹھیک ہو جا ” وہ بولے تو پریشے بھی ہنس دی زوار تو اس کی مسکراہٹ پہ ہی فدا تھا اب ہنسی پہ نہال ہو رہا تھا وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا بابا سائیں انہیں چھوڑ کے باہر چلے گئے
” بابا کے سامنے تو خیال کریں ایسے گھور کیوں رہے تھے” پریشے بولی زوار مسکراتا رہا
” اب کیوں گھور رہے ہیں ” وہ تب بھی اسے دیکھتا مسکراتا رہا
” اففففف۔۔۔۔۔” اتنے میں ڈاکٹر صاحب آگئے تو وہ باہر آگئی
———-
پھر ان کا نکاح دوبارہ کیا گیا پریشے نے بلڈ ریڈ کلر کا لہنگا زیب تن کیا تھا جو کہ اماں کی فرمائش تھی میک اپ نے سونے پہ سہاگہ کا کام کیا تھا وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی ہوسپٹل میں ہی ان دونوں کا نکاح ہوا زوار کا تو دل چاہ رہا تھا کہ اٹھ کے ناچے اتنی چوٹوں کے باوجود۔۔۔
کچھ دنوں بعد اسے باہر لے جایا گیا اس دوران پریشے اس کے ساتھ ساتھ تھی ایک ماہ بعد وہ واپس آئے تھے سر کا زخم تو ٹھیک ہو گیا تھا پر کمر میں چوٹ کی وجہ سے لیٹنے بیٹھنے اور اٹھنے میں تکلیف تھی ڈاکٹرز نے میڈیسن کے ساتھ ساتھ پروپر ریسٹ کا کہا تھا پریشے اس کا بے حد دھیان رکھتی تھی زوار کے دل میں اس کی محبت اور بڑھ گئی تھی
زوار تو تھا ہی لاڈلا اب پریشے بھی اب پوری حویلی کے لوگوں کی لاڈلی بن چکی تھی وہ اللٰہ کا شکر کرتے نہ تھکتی
اب زوار بھی ٹھیک ہو چکا تھا اور اب ملک وجاہت ان کا ولیمہ کرنا چاہتے تھے پورے گاؤں کو ان کے ولیمے میں بلایا گیا تھا
شام میں کا ولیمہ تھا صبح پریشے کمرے میں بیٹھی تھی کہ زوار چلا آیا اس کے ہتھ میں رپورٹس تھیں پریشے نے رپورٹس چیک کیں اور مسکرائی
” اللٰہ کا شکر آپ کی ساری رپورٹس کلئیر ہیں ” زوار بیڈ پہ بیٹھا پریشے کبڈ کھول کے رپورٹس رکھنے لگی
” یار تم تو آکے بیٹھو ”
” جی آتی ہوں ” وہ زوار کے پاس آبیٹھی
” ایک بت پوچھوں؟؟؟” زوار بولا
” جی ”
” مجھ سے محبت کرتی ہو؟؟؟”
” اتنے دن سے زآپ کے ساتھ ہوں آپ کو کیا لگتا ہے” پریشے اپنے بریسلیٹ سے کھیلتے ہوئے بولی زوار نے اس کا ہاتھ پکڑا
” میں چاہتا ہوں آج تم وہی ریڈ کلر پہنو جو تم نے نکاح والے دن پہنا تھا”
” پر ولیمے کا میرا ڈریس تو آ چکا ہے”
” تو کیا ہوا وہ کل پہن لینا کل بھی تو تم نئی دلہن ہو گی ”
” نئی دلہن۔۔۔۔۔ مجھے یہاں آئے دوماہ ہوگئے ہیں ”
” تو۔۔۔۔۔ سب کے لیے بھلے تم پرانی ہو پر میرے لیے تو نیو ہی ہوگی ” زوار نے اسے اپنے قریب کیا
” تمہیں پتا ہے اتنے دن میں تمہارے قریب کیوں نہیں آیا ”
” کیونکہ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ” پریشے دور ہوئی زوار نے پھر اسے قریب کیا
” کیوں؟ دو تین دن سے تو میں ٹھیک ہی پھر رہا ہوں پھر کیوں نہیں آیا پتا ہے کیوں؟؟؟”
” آپ کی مرضی ” وہ کنفیوز ہو رہی تھی زوار کا یہ روپ دیکھ کر
” کیونکہ میں تمہیں اپنی دلہن کے روپ میں دیکھنا چاہتا تھا پریشے میں چاہتا تھا تم میری دلہن بن کے میری راہ دیکھو ” پریشے جھینپی
” اور ہاں اپنے بالوں کو باندھنا مت کھلے چھوڑ دینا ” وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا زوار کو لمبے بال بہت پسند تھے اور اس کے لیے ہی پریشے نے اپنے بال بڑھائے تھے
” اچھا ٹھیک ہے میں سب کرلوں گی اب جاؤں؟؟؟”
” پہلے یہ بتاؤ کہ مجھ سے محبت کرتی ہو یا نہیں ” وہ ہنوز اسے اپنے قریب کیا ہوا تھا
"کرتی ہوں اب جاؤں ” پریشے نے جان چھڑائی
” اونہوں۔۔۔۔۔ ایسے نہیں دل سے بولو”
” وہ کیسے بولتے ہیں ” پریشے نے پوچھا
” مجھے کیا پتا تم بتاؤ”
پریشے مسکرائی
” میں پریشے اپنی محبت کے حصار میں ملک زوار کو لیتی ہوں کیا ملک زوار کو قبول ہے” وہ پیار سے بولی تو زوار نہال ہو گیا
” قبول ہے دل و جان سے قبول ہے پریشے زوار ملک کی محبت ملک زوار نے قبول کی” اور اسے گلے سے لگا لیا
"اب جاؤں؟؟؟”
” عممممم۔۔۔۔۔۔۔ سوچتے ہیں ” زوار سوچتے ہوئے بولا
” اب۔۔۔ اب زوار یہ چیٹنگ ہے ” زوار ہنسا
” کیا چیٹنگ ہے بھلا ”
” سنو” وہ اس کے کان کے قریب بولا
” اب میرے ہو کے رہو ” پریشے مسکرائی
” اب آپ کی ہی ہوں ” کہہ کر وہ چلی گئی زوار مسکرا دیا۔
———–
آج پریشے اور زوار کی شادی کو دو سال گزر گئے تھے شہر کے ہوسپٹل میں پریشے نے دو جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا سب اس سے مل چکے تو زوار ملنے آیا
زوار اس کے پاس بیٹھا
” کیسی ہو؟؟؟”
” ٹھیک ہوں ” زوار نے دونوں بچوں کو باری باری پیار کیا
” تھینک یو پری تھینک یو مجھے اتنا پیارا گفٹ دینے کے لیے ” زوار نے اسے اپنے گلے سے لگایا
” آپ کا بھی تھینک یو” پریشے بولی
” میرا کیوں؟؟؟”
” مجھے اتنی محبت دینے والا ملک زوار دینے کے لیے ” پریشے اس کے گلے میں بازو حمائل کر کے بولی
” میری محبت ازل سے تمہاری ہے اور ابد تک تمہاری ہی رہو گی ” پریشے نے اس کے کندھے پہ سر رکھا اور آنکھیں موند لیں زوار نے اس کے ماتھے پہ پیار کیا اور بولا
"اچھا سنو بچوں سے محبت میں کروں گا تم بس مجھ سے محبت کرنا”
” کیوں؟؟؟”
” کیونکہ اتنی مشکلوں سے تو تمہاری محبت ملی ہے مجھے وہ بھی بچوں میں بانٹ دوں”
” آپ اپنے بچوں سے جیلس ہورہے ہیں ” وہ ہنستے ہوئے بولی
” نہیں۔۔۔ جیلس کیوں بس میں یہ کہہ رہا ہو تم بس مجھ سے محبت کرنا”
” اور مجھ سے محبت کون کرے گا؟؟؟” پریشے نے مسکرا کے پوچھا
” مابدولت ” زوار بولا تو وہ ہنس دی زوار بھی ہنس دیا۔
زوار اور پریشے نازاں تھے اپنی محبت پہ ان کی زندگی خوشیوں سے پُر تھی انہیں پتا تھا اب آنے والا ہر پل ان کی یہ خوشیاں بڑھانے والا ہے اور آنے والا ہر وقت ہر لمحہ ان کی محبت کو اور پختہ کرتا جائے گا۔

بینا خان

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از میر تقی میر