اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

عید آئندہ تک رہے گا گلا

میر تقی میر کی ایک غزل

عید آئندہ تک رہے گا گلا
ہو گئی عید تو گلے نہ ملا

ڈوبے لوہو میں دیکھتے سرخار
حیف کوئی بھی آبلہ نہ چھلا

ابر جاتا رہا رہیں بوندیں
اب تو ساقی مجھے شراب پلا

میر افسردہ دل چمن میں پھرا
غنچۂ دل کہیں نہ اس کا کھلا

میر تقی میر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button