آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرمحسن خالد محسن

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

شہر کی ایک خاموش گلی میں ایک وسیع گھر تھا۔ اس گھر کی کھڑکیاں بڑی تھیں مگر دل کی ایک کھڑکی ہمیشہ بند رہتی تھی۔ اس گھر کا مالک حارث تھا۔ لوگ اسے دولت مند کہتے تھے مگر گلی کے بچے اسے "بابا درخت” کے نام سے جانتے تھے۔ اس کی جیب میں ہمیشہ ٹافیاں ہوتیں۔ ہاتھ میں کبھی کتاب ہوتی اور کبھی رنگ برنگی پتنگ۔ وہ بچوں کو دیکھتا تو اس کا چہرہ ایسے کِھل اُٹھتا جیسے صبح کی پہلی کِرن شبنم سے لِپٹے پھول کو جگا دے۔
لیکن اس کے دل میں ایک خاموش خلا تھا۔
وہ بےاولاد تھا۔
ہر رات یہ خلا اس کے سینے میں کنویں کی طرح گہرا ہوتا جاتا۔ ایک دن اس نے خود سے کہا۔
"میں دوسروں کے بچوں پر اپنا دل کیوں لٹاؤں۔ اگر اللہ نے مجھے اولاد عطا کی تو میری محبت صرف اسی کی امانت ہوگی۔”
یہ خیال پہلے ایک بیج تھا۔ پھر جھاڑی بنا۔ پھر ایک ایسا درخت جس کی کانٹوں بھری شاخوں نے اس کے دل کو ہی لپیٹ لیا۔
اگلے دن سے اس نے دروازہ بند کر دیا۔
گلی کے بچے آئے۔
کسی نے آواز دی۔
کسی نے دستک دی۔
کسی نے دیوار کے اس پار سے کہا۔
"بابا درخت۔ آج باہر نہیں آئیں گے؟”
مگر اندر خاموشی نے لب سی لیے تھے۔
رفتہ رفتہ بچوں کے قدم دوسری گلیوں کا راستہ ڈھونڈنے لگے۔
جہاں کبھی قہقہوں کی ندیاں بہتی تھیں وہاں اب سناٹے نے خیمہ گاڑ دیا۔
حارث کے پاس سب کچھ تھا۔
سونے کے سکے۔
قیمتی قالین۔
بڑے بڑے کمرے۔
مگر خوشی کا پرندہ پنجرہ توڑ کر اُڑ چکا تھا۔
وقت کسی کے لیے نہیں رُکتا۔
ایک دن بیماری آندھی کی طرح اس پر ٹوٹ پڑی۔
اس کا جسم خزاں رسیدہ درخت بن گیا۔
گھر کی دیواروں پر اداسی کائی کی طرح جم گئی۔
بیماری بڑھتی گئی۔
بدن سے ایسی ناگوار بو آنے لگی کہ اپنے بھی بیگانے ہو گئے۔
اس کی بیوی بھی بےبس ہو کر رخصت ہوگئی۔
اب اس کے پاس دولت کے ڈھیر تھے مگر پانی پلانے والا کوئی نہ تھا۔
سونے کے سکے اس کی پیشانی کا پسینہ نہ پونچھ سکے۔
قیمتی فرنیچر اس کی آہیں نہ سُن سکا۔
اس رات بارش ہو رہی تھی۔
کھڑکی سے چند بوندیں اندر آئیں اور اس کے ہاتھ پر گِریں۔
اس نے آنکھیں بند کیں۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے آسمان اس سے بات کر رہا ہو۔
اس کے دل میں ایک روشنی جاگی۔
وہ ہچکیوں کے درمیان بولا۔
"اے میرے رب۔
میں نے تیری حِکمت کو اپنی خواہش کے ترازو میں تولنا چاہا۔
میں ایک چراغ کا منتظر رہا جبکہ تو نے میرے لیے پورا آسمان ستاروں سے بھر رکھا تھا۔
یہ بچے میرے نہیں تھے مگر ان کی مسکراہٹیں میری روزی تھیں۔
میں نے اپنے ہاتھ بند کیے تو میری قسمت بھی بند ہوگئی۔”
وہ دیر تک سجدے میں روتا رہا۔
اس کے آنسو پتھر دل زمین پر پڑنے والی پہلی بارش تھے۔
اگلی صبح ایک ننھا بچہ دروازے پر آیا۔
اس کے ہاتھ میں چند جنگلی پھول تھے۔
وہ بولا:
"بابا درخت۔ آپ بیمار ہیں نا۔ یہ پھول آپ کے لیے ہیں۔”
پھر ایک بچی آئی۔
اس نے پانی کا گلاس رکھا۔
پھر ایک اور بچہ آیا۔
اس نے قرآن کی چند آیات پڑھیں۔
دیکھتے ہی دیکھتے پورا صحن بچوں سے بھر گیا۔
کوئی دُعا لایا۔
کوئی سوپ لایا۔
کوئی صرف اپنی مُسکراہٹ لے آیا۔
یوں لگتا تھا جیسے بہار نے خزاں کے سینے میں دوبارہ سانس بھر دی ہو۔
چند ہی ہفتوں میں بیماری کا اندھیرا چھٹنے لگا۔
حارث سمجھ گیا کہ محبت وہ دوا ہے جس کا نسخہ کسی حکیم کے پاس نہیں۔
اس دن کے بعد اس نے اپنی دولت کو تالوں میں بند نہیں رکھا۔
وہ یتیم بچوں کی فیس دیتا۔
مسکینوں کے لیے کھانا پکواتا۔
لاوارث بچوں کے لیے کپڑے خریدتا۔
اس کے گھر کے دروازے پھر کبھی بند نہ ہوئے۔
جب اس کی زندگی کا سورج غروب ہونے لگا تو اس نے وصیت لکھی۔
"میری تمام دولت ان بچوں کی امانت ہے جنہوں نے مجھے بتایا کہ رشتے خون سے نہیں بلکہ محبت سے جنم لیتے ہیں۔”
اس کے انتقال کے بعد اہلِ محلہ نے ایک کمیٹی قائم کی۔
انہوں نے اس کی جائیداد سے ایک شیلٹر ہوم تعمیر کیا۔
دروازے پر سنگِ مرمر کی ایک تختی نصب کی گئی۔
"بابا درخت شیلٹر ہوم”
آج بھی وہاں یتیم بچوں کی ہنسی گونجتی ہے۔
کوئی کتاب پڑھ رہا ہوتا ہے۔
کوئی خواب بُن رہا ہوتا ہے۔
کوئی زندگی سے دوبارہ ہاتھ ملا رہا ہوتا ہے۔
لوگ جب اس عمارت کے سامنے سے گزرتے ہیں تو ہوا میں جھومتے درختوں کو دیکھ کر کہتے ہیں۔
"جو درخت اپنا سایہ بانٹ دیتا ہے وہ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔”
اور شاید یہی محبت کی سب سے بڑی میراث ہے۔

محسن خالد محسن

post bar salamurdu

محسن خالد محسن

محمد محسن خالد (محسن خالد محسن) ؔ شاعر ،ادیب،محقق ،نقاد اور اُستاد ہیں۔ ان کے تین شعری مجموعے "کچھ کہنا ہے"،دُھند میں لپٹی شام اور"ت لاش" شائع ہو چکے ہیں۔ا نھوں نے کلاسیکی غزل میں "کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" کے موضوع پرناردرن یونی ورسٹی نوشہرہ سے پی ایچ ۔ڈی(اُردو) 2024 میں کی ہے۔بہ حیثیت لیکچرار(اُردو) گورنمنٹ شاہ حسین گریجوایٹ کالج چوہنگ میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کے پنتیس سے زائد تحقیقی مقالات ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے مصدقہ جنرلز میں شائع ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے معروف ادبی رسائل وجرائد اوربرقی اخبارات و بلاگز میں ان کے متفرق موضوعات پر مضامین اور کالمز باقاعدگی سے شائع ہو تے رہتے ہیں۔ ادب،سماج، معاشرت،سیاست و حالاتِ پر ببانگِ دُہل اپنی رائے کا اظہارکرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button