آقا کریم ﷺ کا احسان
تحریر : پیر انتظار حسین مصور
خیابانِ خیبر سے شہادت کی رگِ جاں تک: آمدِ ربیع الأول کا مژدہ اور آقا کریم ﷺ کا احسان
چند ہی دنوں بعد چاند اپنی بدلتی منزلوں کے ساتھ کرۂ ارض پر ربیع الأول کا وہ متبرک و معطر مہینہ لانے والا ہے جس کی آمد کا انتظار عالمِ اسلام کا بچہ بچہ پورے شوق، ذوق اور عقیدت سے کرتا ہے۔ گلی کوچے سجے ہوئے نظر آئیں گے، فضاؤں میں درود و سلام کی سحر انگیز صدائیں گونجیں گی، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ کے نعروں سے دشت و جبل مہک اٹھیں گے اور کائنات کے ہر کونے میں آقا دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ احمدِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کا جشن اور خوشیاں منائی جائیں گی۔ یہ آمد کا وہ مبارک موسم ہے جو مرجھائے ہوئے دلوں کو فکری شادابی اور روحانی تسکین عطا کرتا ہے۔ لیکن جب ہم اپنے پیارے آقا کریم ﷺ کی آمد کا استقبال کر رہے ہوں، تو کیا ہم نے کبھی اس گھڑی پر بھی غور کیا ہے کہ جس صاحبِ معراج، شافعِ محشر اور سرورِ کونین ﷺ کی آمد پر ہم خوشیوں کے چراغ جلا رہے ہیں، اسی آقا کریم ﷺ نے اپنی امت کی ہدایت، سلامتی اور بقا کے لیے اپنی ظاہری زندگی مبارکہ میں کتنے مصائب اور زہر کی کاٹ تک برداشت فرمائی؟
عشق کی وادی میں جب کوئی سچا عاشق اپنے محبوبِ مکرم ﷺ کے آخری ایام اور آپ کے وجودِ مسعود پر بیتنے والے مصائب کا تصور کرتا ہے، تو الفاظ دم توڑ دیتے ہیں، دل خون کے آنسو روتا ہے اور روح بے اختیار تڑپ اٹھتی ہے۔ کیا ہم نے کبھی اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس گھڑی کو محسوس کیا ہے جب کائنات کی سب سے عظیم ہستی، تمام انس و جاں کے لیے مجسمِ رحمت بن کر آنے والے ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ احمدِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ایامِ ظاہری کے آخری دنوں میں زہر کی تپش، حرارت اور دردفزا سوزش کو اپنے مبارک و مطہر وجود میں برداشت فرما رہے تھے؟ تاریخ کا یہ وہ خونچکاں، مظلومانہ اور رقت انگیز باب ہے جس کو سن کر اور پڑھ کر کٹھور سے کٹھور دل بھی موم ہو جاتا ہے۔ چودہ سو سال گزر جانے کے بعد بھی خیبر کی وہ زہریلی شام اور مدینہ منورہ کے وصال کے وہ آخری ایامِ مبارکہ اہلِ ایمان سے ایک درد مندانہ سوال پوچھ رہے ہیں۔
۷ ہجری کا واقعہ ہے، جب خیبر کی سرزمین پر حق کی فتح کے بعد ماحول پرسکون ہوا۔ اس وقت ایک یہودی عورت زینب بنت الحارث نے ایک ایسا شاطرانہ اور زہریلا وار کیا جس کا تصور بھی صاحبِ ایمان کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ اس نے پوچھا کہ اللہ کے رسول، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے میں کیا پسند ہے؟ معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کی طبعِ مبارک بکری کے دست (شانے) کے گوشت کی طرف مائل ہوتی ہے۔ اس شقی القلب عورت نے بکری بھون کر اس کے دست کے حصے میں مہلک اور تیز ترین زہر ملا کر بطورِ تحفہ بارگاہِ رسالت ﷺ میں پیش کر دیا۔ سبحان اللہ! ذرا غور کیجیے، وہ شافعِ محشر ﷺ جن کے اشارۂ انگشت سے چاند دو ٹکڑے ہو جائے، جن کے لمسِ مبارک سے سوکھے کنوئیں ابل پڑیں—جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس گوشت کا ایک نوالہ اپنے دہنِ اطہر میں رکھا، تو زہر کے اس بوجھ اور نوالے نے خود چیخ کر، زبانِ حال اور وحیِ الٰہی کے ذریعے آگاہ کر دیا کہ "یا رسول اللہ! میرے اندر زہر گھولا گیا ہے۔”
رحمتِ دو عالم، نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فوراً وہ نوالہ اگال دیا اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کھانے سے منع فرما دیا، مگر آپ کے قریب بیٹھے جلیل القدر صحابی حضرت بشر بن براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک نوالہ نگل چکے تھے اور وہ کچھ ہی دیر میں اس دنیا سے رخصت ہو کر مقامِ شہادت پر فائز ہو گئے۔ محدثین اور جمہور علماء فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس گھڑی اس مہلک زہر کے فوری اور ہلاک کن اثر سے معجزانہ طور پر محفوظ فرما لیا، لیکن حکمتِ الٰہی کا تقاضا کچھ اور تھا۔ اس زہر کے اثر کی ایک باریک رمق اور سوزش آپ کے جسدِ اطہر میں خاموشی سے گھل گئی۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبِ کریم ﷺ کو نبوت و رسالت کے تاج کے ساتھ ساتھ "مقامِ شہادت” کا سب سے ارفع اور اعلیٰ ترین تمغہ بھی عطا فرمانا چاہتا تھا۔
سال گزرتے گئے، مگر ہر سال خیبر کے اس زہریلے کھانے کا اثر اور اس کی تپش آپ کے جسمِ اطہر میں لوٹ کر آتی۔ پھر ۱۱ ہجری کے وہ رقت انگیز دن آ گئے جب کائنات کے شاہسوار ﷺ کا اپنے رب سے وصال کا وقت قریب آیا۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا صحیح بخاری کی سند سے روایت فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدتِ بیماری اور شدید حرارت کے عالم میں ارشاد فرماتے تھے: "اے عائشہ! خیبر میں جو زہریلا کھانا میں نے کھایا تھا، اس کی تکلیف میں مسلسل محسوس کرتا رہا ہوں، اور آج کا دن وہ ہے کہ اس زہر کے اثر سے میری رگِ جاں (شہرگ) کٹتی ہوئی معلوم ہو رہی ہے۔” (صحیح بخاری: 4428)
آہ! ذرا آنکھیں بند کیجیے اور اپنے دل و فکر کو مدینہ منورہ کے اس مقدس و معطّر حجرے میں لے جائیے۔ جہاں تمام کائنات کا مرکز، جن کے رخِ انور پر درود و سلام کے گلدستے نچھاور ہوتے تھے، وہ سرورِ کونین ﷺ اپنے رب سے ملاقات سے پہلے اپنے وجودِ اطہر پر زہر کی کاٹ اور سوزش کی تکلیف سہہ رہے تھے۔ کائنات کا سب سے بڑا محسن ﷺ، جو امت کے گناہوں کی بخشش کے لیے راتوں کو سجدوں میں روتا رہا، جس نے طائف کی وادیوں میں اپنے نعلینِ مبارک خون سے بھروا لیے، وہی آقا ﷺ اپنے آخری وقت میں خیبر کے زہر کی جلن کا سامنا کر رہا تھا۔ علماء اور محدثینِ کرام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر زہر کا یہ اثر ہونا آپ کا کمالِ معجزہ تھا کہ زہر آپ کو فوراً ہلاک نہ کر سکا، اور ساتھ ہی یہ آپ کی شہادتِ عظمیٰ کا ذریعہ بنا۔ آپ ﷺ صرف انبیاء کے امام نہیں، بلکہ تمام شہداء کے بھی امام اور سید الشہداء ہیں۔
ربیع الأول شریف کی مبارک گھڑیاں جب ہم پر سایہ فگن ہونے والی ہیں، تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی سچی خوشی اور جشن کا حق صرف لائٹنگ، چراغاں اور نعروں سے ادا نہیں ہوتا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جو ہمارے ضمیر کے بند کواڑوں پر دستک دیتا ہے: جس آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے، دین کا نور ہم تک پہنچانے کے لیے اپنے جسمِ مبارک پر زہر تک کی تکلیفیں جھیلیں، کیا ہم نے ان کے اس احسانِ عظیم کا ایک ذرہ بھی حق ادا کیا؟ جس آقا ﷺ کی رگِ جاں میں امت کے لیے دردمندی اور زہر کی کاٹ سمائی ہوئی تھی، کیا آج ہماری زندگی، ہماری فکر، ہمارا عمل ان کے مبارک اسوہ اور سنت کا عکس نظر آتا ہے؟
ربیع الأول کا یہ متبرک مہینہ محض ایک تقریب کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم تجدیدِ عہد کا پیغام ہے۔ جب ہم مدینہ منورہ میں آپ کے روضۂ اطہر کی مواجہہ شریف اور جالیوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، یا اپنے گھروں میں محافل کا انعقاد کرتے ہیں، تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہاں جو ہستی آرام فرما ہے، وہ صرف تمام کائنات کی سردار ہی نہیں، بلکہ وہ اپنے لہو، جگر اور جسدِ مطہر کے زخموں سے دین کو سینچنے والی وہ عظیم و مظلوم ہستی ہے جس نے زہر کے گھونٹ بھی امت کی امانت کی خاطر پیے۔ پس آمدِ مصطفیٰ ﷺ کا سچا جشن یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں کو بغض، کینے اور معصیت سے پاک کریں، سنتِ مصطفیٰ ﷺ کو اپنی زندگیوں پر نافذ کریں، اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ ہم اس آقا ﷺ کے امتی ہیں جس نے ہمارے لیے اپنے وجودِ اقدس پر زہر کی کاٹ بھی ہنس کر سہی۔ کاش! اس ربیع الأول کے صدقے ہمارے دلوں میں عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ تڑپ بیدار ہو جائے جو ہمیں گناہوں سے موڑ دے، اور ہماری آنکھوں سے نکلنے والا ایک سچا آنسو بروزِ قیامت ہمارے اس حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا ذریعہ بن جائے!
پیر انتظار حسین مصور








