مہنگائی کا طوفان اور عام آدمی کی زندگی
مصنف: نعمان علی بھٹی
آج کا سب سے بڑا مسئلہ اگر کسی ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ہے "مہنگائی”۔ یہ صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ایسا طوفان ہے جس نے عام آدمی کی زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے زندگی گزارنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
ایک وقت تھا جب ایک عام مزدور یا ملازم اپنی محدود آمدنی میں بھی اپنے گھر کا خرچ باآسانی چلا لیتا تھا، مگر آج حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ آٹا، چینی، گھی، سبزیاں، بجلی، گیس—ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ آمدنی وہی ہے مگر اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں، جس کی وجہ سے گھر کا بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر غریب طبقے پر پڑتا ہے۔ وہ لوگ جو پہلے ہی محدود وسائل میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، اب ان کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بچوں کی تعلیم، علاج اور دیگر ضروریات ایک خواب بنتی جا رہی ہیں۔
درحقیقت مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی بن چکی ہے۔ جب ایک شخص اپنی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پاتا تو اس کے اندر بے چینی، مایوسی اور غصہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی کیفیت معاشرے میں جرائم، بدامنی اور بے سکونی کو جنم دیتی ہے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بحیثیت قوم بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا۔
ہمیں اپنی زندگی میں سادگی کو اپنانا ہوگا، غیر ضروری اخراجات سے بچنا ہوگا اور وسائل کا درست استعمال کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ معاشرتی سطح پر ایک دوسرے کا سہارا بننا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر صاحبِ حیثیت لوگ مستحق افراد کی مدد کریں تو بہت سی مشکلات کم ہو سکتی ہیں۔
مہنگائی کے اس طوفان میں سب سے زیادہ ضرورت صبر، حوصلے اور اتحاد کی ہے۔ ہمیں مایوس ہونے کے بجائے حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مہنگائی ایک وقتی آزمائش ہے، مگر اگر ہم نے صبر، حکمت اور اتحاد کا دامن تھامے رکھا تو ہم اس مشکل وقت سے ضرور نکل جائیں گے۔ کیونکہ قومیں مشکلات سے نہیں بلکہ ہمت ہارنے سے تباہ ہوتی ہیں۔
نعمان علی بھٹی







