- Advertisement -

Dus Mint Barish Mein

An Urdu Afsaana By Rajinder Singh Bedi

دس مِنٹ بارش میں

— ابوبکر روڈ شام کے اندھیرے میں گم ہو رہی ہے۔یوں دکھائی دیتا ہے ، جیسے کوئی کشادہ سا راستہ کسی کوئلے کی کان میں جا رہا ہے… سخت بارش میں ورونٹا کی باڑ، سفرینا کا گلاب، قطب سید حسین مکّی کے مزار شریف کے کھنڈر میں، ایک کھلتے ہوئے مشکی رنگ کی گھوڑی جس کی پُشت نم آلود ہو کر سیاہ ساٹن کی طرح دکھائی دے رہی ہے، سب بھیگ رہے ہیں … اور راٹا بھیگ رہی ہے!

راٹا کون ہے؟ اسے کلپ برکش کہہ لو یا کام دھین گائے۔ یا اس سے بہتر راٹا … راٹا ہے۔ پھرایا لال کی بیوی، ایک دس سالہ کاہل، جاہل، نا اہل چھوکرے کی ماں۔ چند ماہ ہوئے تخفیف کے موقع پر ہیوم پائپ کمپنی والوں نے پھرایا لال کو کام سے الگ کر دیا۔ اُس وقت سے اُس کی پُرسکون زندگی میں قسمت کے گردباد پیدا ہونے لگے۔ تلاشِ معاش میں نہ جانے وہ کہاں چل دیا۔ سُنا ہے کہ وہ راٹا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا ہے،کیونکہ وہ اُس سے محبت کرتی ہے اور جس شخص میں محبت کی سی کمزوری ہو، وہ پائے استحقار سے ٹھکرا دیا جاتا ہے … مرچو تیزابی کا بیان ہے کہ پوہ کے ایک سرد، نیلے سے دھندلکے میں اُس نے پھرایا لال کو اپنی ہی برادری کی ایک عورت کے ساتھ جاتے دیکھا تھا۔ وہی عورت … کوڑی، جو ابوبکر روڈ کے مکانوں میں سے گملے اُٹھایا کرتی تھی۔ ان دنوں پھرایا لال بیکار تھا۔ بیکار انسان کے عقل و فکر میں خونِ جگر پینے یا کثرت سے محبت کرنے کے سوا اور کچھ نہیں سماتا۔ بعض آدمیوں نے پھرایا کو کوٹ پتلی میں صفیں بناتے ہوئے دیکھا ہے۔ قریب ہی کوڑی ایک غیر آدمی کے ساتھ مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہی تھی … راٹا پھر بھی پھرایا لال کو دل سے چاہتی ہے۔ یہ محبت اور جنوں کے انداز بھی کبھی چھٹتے ہیں؟ … اور راٹا بھیگ رہی ہے!

راٹا کی گھوڑی ابوبکر روڈ پر ہماری کوٹھی کے سامنے گھوم رہی ہے۔ وہ اُس کا شبِ دیجور کاسا رنگ! … صرف اس کے ہنہنانے اور کبھی کبھی بجلی کے کوندنے سے اُس کے وجود کا علم ہوتا ہے۔ صبح سے بے چاری کو دانہ نہیں دیا گیا، نہ ہی اُس کی موچ والی ٹانگ پر ہلدی لگائی گئی ہے۔ بھوک کی شدّت سے بے بس اور بگڑ کر وہ آوارہ ہو رہی ہے۔ شاید پھرایا کو ڈھونڈتی ہو گی۔ پھرایا … جو اسے بھی چھوڑ کر کوڑی کے ساتھ چلا گیا ہے۔ کوڑی جو کوٹ پتلی میں کسی دوسرے مرد کے ساتھ مسکرامسکرا کر باتیں کر رہی تھی۔ ایک وقت میں ایک دل کے اندر مشکی گھوڑی رہ سکتی ہے یا کوڑی ۔ کوڑی یا راٹا … اور بھوکی مشکی گھوڑی ہنہناتی ہے جیسے کبھی سکندر سے جُدا ہونے پر بُوس فیلس ہنہناتا تھا۔

راٹا اپنے سر سے بوریے کی اوڑھنی اُٹھا کر پوچھتی ہے۔

’’بابو جی… آپ نے یہاں رامی نہیں دیکھی؟ … رامی … میری مشکی گھوڑی۔‘‘

میں نے کہا ۔ ’’رامی؟ کون رامی؟ … اچھا رامی تمھاری مشکی گھوڑی۔ اری ! وہ ورونٹا کی باڑ کے پیچھے تو کھڑی ہے۔ تمھیں دکھائی نہیں دیتی کیا؟‘‘

راٹا آنکھوں کو سکیڑ کر باڑ کی طرف دیکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے۔ جب کھلتے ہوئے مشکی رنگ کی گھوڑی شام کے وقت بارش میں بھیگ جاتی ہے، تو وہ بھی شبِ دیجور کا ایک جزو بن جاتی ہے، اور بے نور، رو رو کر جوت گنوائی، آنکھوں کو اُسے تاریکیِ شام یا شامِ تاریک سے جدا کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے … بارش کی رِم جھم، سرس کی لمبی لمبی پھلیوں کی کھڑکھڑ، گرتے ہوئے پتوں کے نوحے، رعد کی گرج، بطخوں کی بط بط، مینڈکوں کی ٹراہٹ، پرنالوں کے شور، اس کتیا کی اونہہ … اونہہ، جس نے ابھی ابھی سات بچّوں کا جھول جنا ہے، اور ایک بچے کو منھ میں پکڑے کسی سوکھی، نرم و گرم جگہ کی متلاشی ہے۔ ان سب کے شور و غوغا میں بھوکی گھوڑی کی جگر دوز ہنہناہٹ علاحدہ سنائی دیتی ہے۔

پراشر کہتا ہے۔ ’’میں بھیگ رہا ہوں … اور وہ بھی بھیگ رہی ہے۔‘‘

ماں خفا ہوتے ہوئے کہتی ہے۔ ’’گیلا … گیلا … گیلا … تنور بالکل گرنے والا ہو گیا ہے۔ ایں؟ یہ موئی کتیا تنور میں چھپی بیٹھی ہے۔ میرا تنور گر جائے گا۔ یہ بے وقت کی بارشیں، رام رے! … ‘‘

ننھّے بشن کا فراک گر کر صحن میں پڑا ہوا یوں دکھائی دیتا ہے،جیسے کوئی مری ہوئی فاختہ ہو۔ ماں ناراض ہے کہ میں نے بشن کا فراک کیوں نہیں اٹھایا، حالاں کہ راٹا کی گھوڑی پکڑنے میں میں سر سے پانوں تک بھیگ گیا۔ ماں اس لیے بھی خفا ہے کہ میں پراشر جیسے آوارہ مزاج نوجوان کے ساتھ بارش میں لنگوٹا باندھ کر نہانے کے لیے چلا ہوں۔ ماں کا خیال ہے کہ میں بھی اس کے ساتھ رہ کر آوارہ ہو جاؤں گا۔ حقیقت میں ماں کے ماتھے پر بل اس لیے ہیں کہ میں نے راٹا کو مشکی گھوڑی پکڑنے میں مدد دی ہے۔ گھوڑی کو شام کی تاریکی سے علاحدہ کرتے ہوئے اس کی ایال راٹا کے ہاتھ میں دے دی ہے اور اس فعل کے ارتکاب میں اس سے چھو گیا ہوں۔

میں نے کہا ۔’’اسی پرائشچت میں تو میں نہا رہا ہوں، ماں۔‘‘

حقیقت تو یہ ہے کہ اس قسم کی آلودگی کو میں پسند کرتا ہوں۔ پراشر کا کیا وہ تو ہر قسم کی آلودگی کو پسند کرتا ہے … کاش! پھرایا لال کبھی نہ آئے اور راٹا کو ہر ایک کام کے لیے ہمارا مرہونِ منت ہونا پڑے۔ کیا وہ گھوڑی ہی پکڑوائے گی اور کوئی کام نہیں کہے گی؟

ماں کہتی ہے، لوہار، بڑھئی، چمڑہ رنگنے والے ایک برہمن کو چوبیس قدم، چارومن بونے والے اڑتالیس قدم، موٹا مانس کھانے والے چوسٹھ قدم پر سے بھرشٹ کرسکتے ہیں۔ مگر میں ماں کو کہتا ہوں ، ماں! ان لوگوں کی وجہ سے تو ہم زندہ ہیں۔ برہمن کھیتی کی یہ لوگ باڑ ہیں … اور پھر تھوڑی بہت بُرائی ،سچائی کو بچانے کے لیے روزِ ازل سے زندہ ہے۔ ماں کہتی ہے، کل جگ ہے بیٹا، گھور کل جگ!

بظاہر میں ماں بشن سے باتیں کرتی ہے۔ مگر دراصل اس کا مقصد سب کچھ مجھے سنانا ہوتا ہے۔ ’’مہایگیہ برہما کا ایک دن ہے۔ کرت کرتیا، دوا پر اتنے لاکھ برسوں کے ہیں۔ کل جگ چار لاکھ بتیس ہزار برسوں کا ہے۔ پچھلے برس چیت کے مہینہ میں کل جگ کو صرف پانچ ہزار چھبیس برس گزرے ہیں۔ رام جانے ابھی کتنے باقی ہیں … اور یہ بے وقت کی بارشیں!

’’بارش نے کافی سردی پیدا کر دی ہے۔‘‘ میں نے کہا۔

’’ہاں بھائی … میرے تو دانت بجنے لگے … چلو برآمدہ میں چلیں۔‘‘

’’لیکن … ابھی بہت وقت تو نہیں ہوا۔‘‘

’’چائے بنوا دو نا… سردی ہو رہی ہے۔‘‘

’’چائے بن جائے گی۔ سگرٹ نہیں ملیں گے۔‘‘

’’کوئی بات نہیں! بیڑیاں جو ہیں میرے کوٹ کی جیب میں۔‘‘

’’ہمارے ٹی سنڈیکیٹ کو آج کل بارش بہت فائد ہ مند ہے۔‘‘

’’ہاں … چائے کے پودوں کی ڈھلوان جنوب کی طرف ہے۔ ابوبکر روڈ کا تمام پانی ادھر نہیں جاتا۔ مگر زیادہ بوچھاڑ چائے کے پودوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ جڑیں گل جانے کا اندیشہ ہے۔ ہلکی ہلکی پھوار کا تو کہنا ہی کیا … کچھ بھی ہو ۔ یہ بارش ایسوسی ایٹڈ ٹی سنڈیکیٹ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی۔ ہماری آمدنی بڑھ جائے گی۔ کیوں؟ ہے نا۔‘‘

’’ہاں‘‘

’’ایشور اپنی دیا بارش کے ذریعہ بھیجتا ہے۔‘‘

’’ہاں … دیا … آمدنی … ارے! راٹا کی جھونپڑی کی کھپریل اُڑ رہی ہے۔‘‘

’’ایشور کی دیا…‘‘

اب بارش بہت زیادہ ہونے لگی ہے، گویا سب کی سب ابوبکر روڈ پر ہی برس پڑے گی۔ نکٹیسر کے پتے بطخ کے پروں کی طرح بھیگتے نہیں۔ پانی کے قطرے ان پر پارے کی طرح لڑھکتے ہیں۔ کہیں کہیں اٹک کر ایک مدوّر ہیرے کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد ایک اور قطرہ وہیں ٹپکتا ہے، تو ہیرا زیادہ مدوّر اور بڑا ہو جاتا ہے۔ مگر نازک نازک رات کی رانی کے پھول اس بوچھاڑ کی تاب نہیں لا سکتے … ابوبکر روڈ کے دو رویہ کوٹھیوں میں بسنے والے نکٹیسر کے پتوں کی طرح ہیں۔ بارش ان کی سلیٹ کی چھتوں پر سے بہتی لڑھکتی ہوئی ابوبکر روڈ پر آ رہی ہے۔ بارش کے قطرے ان کے لیے مدوّر ہیرے ہیں۔ مگر رات کی رانی … راٹا سر پھینک دیتی ہے۔ گاہے سر اُٹھا کر کھپریل کو باندھنا شروع کر دیتی ہے اور اپنے بھیگتے ہوئے بالوں کی وجہ سے ووگن ویلیا کی حسین بیل دکھائی دیتی ہے۔

پہلے بے چاری مشکی گھوڑی کو ڈھونڈتی پھرتی تھی۔ اب یہ اس کے لیے ایک نئی مصیبت ہے۔ جھونپڑی کی تمام چھت سے پانی بہنے لگا ہے۔بوریے کی اوڑھنی تو محض رسمی پناہ ہے۔ اس کے تمام کپڑے بھیگ کر جسم کے ساتھ چپک گئے ہیں۔ شام کے اندھیرے میں جب بجلی چمکتی ہے، تو وہ عریاں سی دکھائی دیتی ہے۔

بارش میں ایشور کی دیا سے کوئی نرم و گرم کپڑے زیب تن کرتا ہے تو کوئی عریاں ہو جاتا ہے۔ کسی کی آمدنی دوگنی ہو جاتی ہے، تو کسی کی کھپریل ٹوٹ جاتی ہے… کوئی شب سمور گزارتا ہے، کوئی شبِ تنور!

ووگن ویلیا کی بیل کو جب تند ہوا ہلاتی ہے، تو یوں دکھائی دیتا ہے، گویا کوئی حسینہ سرد ہونے کے بعد لبِ بام اپنے چمکیلے سیاہ بالوں کو زور سے نچوڑ کر دونوں ہاتھوں سے چھانٹتی ہے۔ راٹا کا بے عقل، کاہل… پاگل لڑکا جھونپڑی میں سویا پڑا ہے۔ بجھتے ہوئے چولھے کے پاس، گرم ہو کر… اگر وہ جاگتا ہوتا تو مشکی گھوڑی پکڑنے کے لیے اُس کی ماں کو میرا مرہونِ منّت نہ ہونا پڑتا … پھرایا لال تو چلا ہی گیا ہے۔ کاش! وہ کاہل لڑکا ہمیشہ کی نیند سوجائے!

شاید راٹا کھپریل بندھوانے کے لیے ہمیں بلائے۔ اس کے بارش کی وجہ سے بدن کے ساتھ چپکے ہوئے کپڑے! بجلی کی سی چمک میں اس کا بدن کتنا خوبصورت اور سڈول دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ماں … ماں کہتی ہے کل جگ ہے۔

… کلکتہ کی مارکیٹ میں چائے کتنی بِکے گی؟ کتنی دساور کو جائے گی۔ میری آمدنی بڑھ جائے گی۔ پراشر کی بھی … لیکن وہ کم بخت بیڑیاں پِیے گا۔ چائے کے پیالوں کے پیالے اور شراب اور …

’’تجھے نکلے گلٹی، ہیضے کے توڑے … سوئے کا سویا رہ جائے تو … ‘‘ راٹا اپنے چھوکرے کو گالیاں دیتی ہے۔

راٹا کو چائے کی ضرورت نہیں۔ گالیاں دیتے ہوئے اُس کے جسم میں کافی گرمی آ گئی ہے۔ وہ نکمّا ، سست لڑکا، اُس کے ساتھ کھپریل بھی تو نہیں بندھواتا۔ آرام سے بجھتے ہوئے چولھے کے پاس پڑ رہا ہے۔ پانی کی چھینٹیں پڑتی ہیں تو ٹانگیں سکیڑ لیتا ہے۔ جب اندر پانی ہی پانی ہو جائے گا تو وہ آنکھیں ملتا ہوا اُٹھے گا۔ صرف یہ کہے گا ۔ ماں کیا بات ہے جو اتنا شور مچا رکھا ہے؟ چین سے سونے بھی نہیں دیتی… جیسے کوئی بات ہی نہیں۔ وہ تو شاید یہ بھی کہے میں ایسی عورت کے گھر کیوں پیدا ہوا جو ایسی ایسی گالیاں دیتی ہے، جسے میری کوئی ضرورت نہیں۔ کہتی ہے، سوئے کا سویا رہ جائے، تو … وہ بے وقوف کیا جانے کہ جب ماں یہ کہتی ہے کہ تو سوئے کا سویا رہ جائے تو اُس وقت وہ اُسے ہمیشہ کی نیند سے بچانے کے لیے طوفانِ باد و باراں میں تن تنہا بے یار مددگار اپنی جان تک لڑا دیتی ہے۔

ابھی انتہائی گرسنگی کی وجہ سے اس کی مشکی گھوڑی ہنہنا رہی تھی، جیسے سکندر سے جُداہونے پر بوس فیلس ہنہناتا تھا۔ مگر اب وہ خاموش ہے۔ شاید اس نے راٹا کی بے بسی کو دیکھ لیا ہے اور پھرایا کے پیار کو … اب وہ کبھی نہیں ہنہنائے گی!

پراشر بولا۔ ’’وہ ایک مرتبہ مدد کے لیے اشارہ تو کرے۔‘‘

’’ہاں … اور ہم دونو …‘‘ میں نے جواب دیا۔

’’میں کہتا ہوں۔ کیوں نہ ہم خود ہی چلے جائیں۔‘‘

’’مگر ماں کہتی ہے، کل جگ کو صرف پانچ ہزار برس گزرے ہیں۔ رام جانے ابھی کتنے باقی ہیں۔‘‘

پھر وہی گالیاں …

’’تجھے آدے ڈھائی گھڑی کی … نکلے تیرا جنازہ للچاتاوا … گور میں پٹے … خون تھوکے تُو …‘‘

شاید وہ چھوکرا سوچتا ہو گا، میں کیوں اس عورت کے گھر پیدا ہو گیا، جو مجھے گور میں بھیجنا چاہتی ہے۔ وہ بے وقوف کیا جانے ، کہ حقیقت میں وہ اُسے آبی گور سے بچانے کے لیے اپنی جان تک لڑا رہی ہے۔ وہ دس سالہ بے عمل، غافل، کاہل چھوکرا اب تک اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔ صرف اس لیے کہ راٹا کو اس سے محبت ہے۔ جس کا اس کاجوانامرگ کو اچھی طرح سے احساس ہے۔ وہی راٹا کی زندگی کا سہارا ہے۔ وہی اس کی آنکھوں کا نور ہے۔ اسی لیے تو وہ بے کس اور اندھی ہے… اگر راٹا پھرایا لال سے محبت نہ کرتی، اگر وہ اس چھوکرے پر اپنی تمام امیدیں نہ لگا دیتی تو سکھی ہو جاتی ۔

ابوبکر روڈ متحرک ہو کر کوئلے کی کان میں جاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ بہاؤ کے خلاف ایک دہقان بھیگتا ہوا آہستہ آہستہ اسی جانب آ رہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک بیل کی رسّی ہے۔ شاید وہ بیل کو کہیں سے چرُا لایا ہے۔ غالباً اُس کی خواہش ہے کہ ہم اسے برآمدے میں کچھ دیر ٹھہرنے کے لیے جگہ دیں اور یہ ممکن نہیں، کون جانے بیل گوبر سے برآمدے کا فرش خراب کر دے۔ اور ماں … پھر چوری کے مال کو اپنے پاس رکھنا…

’’بابوجی سلام۔‘‘ دہقان بولا۔

’’سلام۔‘‘ پراشر نے زیر لب کہا۔

پھر وہ اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں میں سے ایک گیلا کاغذ پراشر کے ہاتھ میں دے دیتا ہے … پروانہ راہ داری … یہ اس بات کا ثبوت ہے، کہ بیل چوری کا مال نہیں اپنا ہے۔ جسے وہ تال محل کی منڈی میں بیچنے کے لیے جا رہا ہے۔

باعث تحریر آنکہ

ایک راس گاؤ نر ، جس کے سینگ اندر کو مڑے ہوئے ہیں، دُم کے سیاہ بالوں میں سفید…

… اور باقی کا بارش نے دھو دیا ہے۔ کتنے بے ربط ہوتے ہیں یہ دہقان لوگ۔ پہلے سینگ اور پھر دُم۔ ان کے لیے گویا دُم اور سینگوں کے درمیان کوئی جگہ ہی نہیں۔ جسم کا رنگ پہلے آنا چاہیے تھا۔ مخملیں جسم! جو بارش میں گیلا ہو کر سفید ساٹن کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ اندھیرے میں اس کا سفید رنگ نظر آتا ہے۔ مگر جب بجلی چمکتی ہے، تو بیل بجلی کا ایک جزو بن جاتا ہے… بیل تمام زور لگا کر ہانکتا ہے، جیسے شیوجی مہاراج کو دیکھ کر پیار سے ان کا نندی گن ہانک رہا ہو۔ بیل صبح سے بھوکا ہے، مگر اپنے بوڑھے، مکروہ شکل مالک کو پیار کیے جاتا ہے۔ اگرچہ عقل حیوانی سے جانتا ہے کہ بوڑھا کل اسے تال محل کی منڈی میں بیچ ڈالے گا۔ ہائے! یہ محبت اور جنون کے انداز بھی کبھی چھٹتے ہیں؟

’’کیوں بیچتے ہو اتنے خوبصورت بیل کو؟‘‘

’’بابو جی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں … اور مالیہ دینا ہے … اُف! یہ بے وقت کی بارشیں۔ کیا میں اندر آ جاؤں، اس چھت کے نیچے؟‘‘

’’اوہوں … تمھارا یہ بیل گوبر سے برآمدے کو خراب کر دے گا۔‘‘

’’میں صاف کر دوں گا بابو جی! … شیشے کی طرح … بیل صبح سے بھُوکا ہے اتنی سردی کہاں برداشت کرے گا۔ اور پھر دوسری بات نہیں۔ فقط یہ پروانہ راہ داری دھل گیا، تو یہ بیل چوری کا مال سمجھا جائے گا۔ تال محل کا تھانے دار جہاں خاں بڑا کڑوا آدمی ہے۔ مار مار کر ادھ موا کر دے گا۔ بیل جاتا رہے گا۔ تال محل میں اس بیل کی قیمت پر ہی تمام امیدیں لگا رکھی ہیں… ہائے یہ بے وقت کی بارشیں…

’’جاؤ۔‘‘ پراشر نے کہا … ’’ہم تمھیں یہاں جگہ نہیں دے سکتے … جاؤ… ‘‘

دہقان سہم کر چلا گیا۔ کبھی کبھی پیچھے مڑ کر دیکھ لیتا۔ گویا رات کو ہمارے ہاں ہی سیندھ لگائے گا۔ ’’اگر وہ سیندھ لگائے بھی تو حق بجانب ہے۔‘‘ میں نے سوچتے ہوئے کہا۔

بیل ابوبکر روڈ کے چوک میں گر پڑا ہے، وہ دہقان کے اُٹھائے… کسی کے اُٹھائے نہ اُٹھے گا۔ وہ نندی گن کی طرح دہقان کو دیکھ کر کبھی ہانک نہیں لگائے گا!

پھر میں نے پراشر سے کہا۔ ’’چائے تیار ہے بھائی … کتنی پیالیاں پیو گے۔‘‘

’’چھ‘‘

’’پارۂ شر … اور درجن بیڑیاں؟ کہہ دو ہاں۔‘‘

’’زیادہ… ‘‘

’’چھی‘‘

… بارش اور بھی تیز ہو رہی ہے اور … اور راٹا کی گالیوں کی بارش بھی!

راٹا کی کھپریل گرچکی ہے۔ دیواروں میں شگاف ہو گئے ہیں۔ قریب ہی ایک سیٹھ کے سہ منزلہ مکان کا پرنالہ راٹا کی جھونپڑی پر گرنے لگا ہے۔ جھونپڑی کے اِردگرد ابوبکر روڈ پر چلتے ہوئے پانی کو دیکھ کر طوفانِ نوح کا خیال آتا ہے۔ کیا ہم راٹا کی مدد کرسکتے ہیں؟ باوجود کل جگ کے… ہمارے برآمدے کے سوا اور کوئی نزدیک پناہ بھی تو نہیں ہے۔ پراشر خوش ہے۔ اس کے پاس چائے ہے۔ بیڑیاں ہیں … اور بے پناہ راٹا اِدھر آ ہی جائے گی…۔‘‘

راٹا چاروں طرف دیکھ رہی ہے۔ پراشر کہتا ہے۔

’’ابھی وہ کہے گی۔ مجھے اپنے دامن میں چھپا لو، بابوجی۔‘‘

’’کبھی نہیں۔‘‘ میں نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

’’تو اِس کے سوا اسے چارہ ہی کیا ہے؟‘‘

’’یہ بارش کا دامن کیا اس کے لیے کم ہے؟ راٹا کی سی عورت کو میں جانتا ہوں… جب کسی ایسے انسان پرعزّت کے دامن تنگ ہو جاتے ہیں … تو خود بخود ایک بہت بڑا دامن اس کے لیے کھل جاتا ہے … ۔‘‘

… اور راٹا کی تو مٹھیاں بند ہیں۔ کبھی کبھی وہ دانت پیستے ہوئے چیختی ہے۔

’’جوان مرے … کلمُوئے… میں نے تو رو لیا تجھے بے چی

راجندر سنگھ بیدی

راجندر سنگھ بیدی اردو کے مصنف، ڈراما نویس اور فلمی ہدایت کار تھے۔ وہ 1915ء کو سیالکوٹ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ اُنہوں نے ہہت سی مشہور بھارتی فلموں کی مکالمہ نگاری کی جیسے ابھیمان، انوپما اور بمل رائے کی مدھومتی شامل ہے۔ اُنہوں نے اپنی ابتدائی زندگی لاہور میں گزاری اور یہاں سے اردو میں تعلیم حاصل کی۔ اُن کی پہلی مختصر کہانی مہارانی کا تحفہ کو سال کی بہترین مختصر کہانی کا انعام لاہور کے ایک ادبی جریدے ادبی دنیا کی طرف سے ملا تھا۔ اُن کی مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ دان و دام 1940ء میں منظرِ عام پر آیا اور دوسرا مجموعہ گرہن 1943ء میں شائع ہوا۔ اُن کا مشہور اردو ناول ایک چادر میلی سی کا انگریزی میں I Take This Women کے نام سے ترجمہ کیا گیا اور اس پر انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوراڈ سے بھی 1965ء میں نوازا گیا۔ اُس کا بعد میں ہندی، کشمیری اور بنگالی میں بھی ترجمہ کیا گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Afsaana By Bedi