نماز کی ادائیگی کے بعد وہ وہی بیٹھی رہیں۔ خاموش زباں آنکھیں نم اور دل میں دعاؤں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔جیسے اللہ سےمحو گفتگو ہو رہی ھوں۔اماں آپ ایسے کیوں بیٹھی ہیں۔؟
یکدم خاموشی ٹوٹتی ھے۔ارے میری بچی کچھ نہی اللہ سے تھوڑی دیر گفتگو روح کو تازہ کر دیتی ہے۔پر آپ تو نماز قرآن پڑھ رھی تھی تو وہ گفتگو نہی تھی۔
وہ مسکرا پڑی اور اسے اپنے پاس بیٹھنے کو کہا۔
وہ عبادت ھے فرض ھے ھر قیمت ادا کرنی ھے ۔اور گفتگو محبت ھے اپنے اللہ سے جو صرف وہی کرتا ھے جس کے دل میں اللہ کی محبت ایمان کی تازگی ھو۔
پر اماں کیا اللہ پاک اس گفتگو کا جواب دیتے ہیں؟
ہاں دیتے ہیں۔بہت محبت سے
پر کیسے؟ ہر طرف اسکا نور ھے۔اسکی وحدانیت ھے۔وہ جواب دیتا ھے کبھی حالات کی تنگی سے بہتری کے ذریعے کبھی بیماری سے شفاء کے ذریعے۔کبھی بے سکونی کو سکون کے ذریعے اللہ اتعالی کو دل سے پکارو وہ تو تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ھے ۔اور اسکا جواب تمہارا ذکر میں تمہاری فکر میں چھپا ھو گا۔
اماں کیا اللہ اتعالی ہمیں ہماری پسند کی چیز نہی دے سکتے؟
وہ کن فیکون کا مالک ھے میرے بچے اس ذات کے لیے کچھ مشکل نہی وہ رحمان ھے عطا کرنا تو اسکی شان ھے۔اگر وہ دے تو بھی اَلْحَمْدُلِلّٰه اور نہ دے تو بھی اَلْحَمْدُلِلّٰه۔
پر اماں کچھ چیزیں انسان بہت پیارے ھوتے ہیں انکو پانا۔حاصل کرنا اک خواب جستجو ھوتا ھے۔کیا دعا کے ذریعے بھی نہی مل سکتا۔؟
اگر تمہارے حق میں نا بہتر ھو تو میرے بچے پھر بھی چاھوں گی؟
اماں پسند کی طلب کسے نہی ھوتی۔
اللہ کے بندوں کی پسند وہی ھوتی ہے جو اللہ کی ھوتی ھے۔اور اسکی رضا میں راضی ہونا بھی ایمان کی خوبصورتی ھے۔وہ اپنے بندوں کو وہی عطا کرتا ھے جو بہتر ھوتا اور اگر وہ اپنے بندے کی ضد کو پورا کر بھی دے تو بعض دفعہ وہ پسند ایسی آزمائش بن جاتی ھے کہ انسان۔اللہ سے اس آزمائش میں آسانی کی دعا کرتا ھے۔اور پھر ھوتا وہی ھے جو اسکی رضا ہوتی ھے۔
پر اماں۔دل کو کیسے سمجھایا جاۓ۔
دل کو اللہ کی یاد میں ڈبو دو۔ضمیر کو کہو اللہ کے آگے پیش ہونا ھے۔اور اپنے آپ کو مضبوط کرو پسند نا پسند یہ انسان کا اک وسوسہ ھے جو شیطان کی طرف سے آتا ھے۔
ہاں انسان کمزور ھے ۔خواہشات انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہیں۔اور شیطان اسی کمزوری کا تو فائدہ اٹھا کر انسان کو اللہ سے دور کر دیتا ھے۔
اور انسان اسے بہکاوے میں آکر اپنی پسند و خواہشات کو ترجیع دیتا ھے۔ اور اللہ سے دعا اور نہ پوری ہونے پر گلہ کناں شروع کر دیتا ہے۔
پر میرے بچے اللہ کی محبت سے بڑھ کر کچھ نہی ھونا چاہیے ۔پسند کیا چیز ہے۔ پسند وہ کرو جو اسکو پسند ھے۔ تمہارا ایمان تمہاری عبادت۔ حسن سلوک۔ حقوق العباد۔ سنت و محبت رسولﷺ
پھر دیکھو دنیا کی پسند سب بےمعنی ہو جاۓ گے۔
مشکل ھوتی ھے پر ایمان کو قائم رکھنا ہی اصل مشکل امتخان ہے اور جو اس امتخان میں پاس ہو جاتا اس کے لیے اللہ خود پسند کو خوبصورتی سے اپنے بندے کو انعام کی صورت میں پیش کرتا ھے۔
اس لیے مانگو تو اسکی رضا۔محبت اس میں ہی بندے کی بہتری و بھلائ ھے۔
دنیا کا مال تو دنیا میں رہ جانا۔۔ساتھ تو صرف اعمال نیکی۔ذکر جانا۔تو اللہ سے وہ مانگو۔جس میں وہ راضی۔
اور جو تمہیں پسند ھے۔وہ ہو سکتا اسے نہ ھو پھر کیا کروں گی حاصل کر کے؟
اماں۔پھر تو وہ آزمائش ھو گی اور میں آزمائش تو نہی چاہتی۔آزمائش تو سخت ہوتی ھے ۔
اللہ نہ کرے کبھی ایسا مشکل وقت آۓ۔کہ آزمائش سزا بن جاۓ۔
اماں مسکرا کر اسکا ہاتھ تھام لیتی ھیں۔
تو اللہ کی رضا کی خاطر اپنی پسند کو ترک کر دینا بھی اک عبادت ھے۔اگر تمہاری پسند اللہ کو پسند ھوئ تو اللہ راستے خود بناۓ گا اگر نہی تو تمہیں وہ اس سے بہتر عطا کرے گا۔
دعا میں اسکی رضا و خیر مانگا کرو وہ بہترین کار ساز ھے۔
یعنی اللہ سے اللہ کی محبت کو مانگ لیا جاۓ تو پھر کیا طلب دنیا ۔کیا طلب چاہت۔
بلکل۔ہمم۔ٹھیک ھے آگئ سمجھ ۔کیا؟
اب اللہ سے یہی مانگو گی جو اللہ کو پسند ھے۔
اور اللہ پاک سے ڈھیر ساری باتیں کیا کروں گی۔
تو پھر تو تمہیں سب مل جاۓ گا۔إنشاءاللّٰه ۔
بس دعا کرنا اللہ مجھے کبھی اکیلا نہ چھوڑیں۔
آمین۔
اب چلیں چاۓ پیتے ہیں۔ میں لے کر آتی ھوں
اماں۔ اسکو جاتا دیکھ کر دل ہی دل میں کئ خوبصورت دعاؤں کا تحفہ دے رہی ھوتی ھیں۔
اللہ کی محبت تو ھے ہی اک خوبصورت انعام جو ہر کسی کو میسر کہاں ھوتا ھے۔اور جن کو ھوتا ھے۔انکے لیے پھر اللہ ہی سب کچھ ھوتا ھے۔
صنم فاروق حسین








