دولت کا غیر منصفانہ بٹوارہ: انسانیت کے ضمیر پر بوجھ
دولت کی غیر منصفانہ تقسیم آج کی دنیا کا سب سے سنگین اور خوفناک مسئلہ بن چکا ہے۔ انسان نے اپنی تاریخ میں جنگیں، غلامی اور وباؤں کے صدمے بہت جھیلے، مگر موجودہ دور کی معاشی نابرابری نے معاشرتی توازن کو جس طرح بگاڑا ہے، وہ اپنی نوعیت میں بے مثال ہے۔ دنیا بھر میں چند ہاتھوں میں وسائل کا ارتکاز بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ کروڑوں انسان خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر ایک بھاری بوجھ ہے جو دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔
اگر عالمی منظرنامے پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت کھلتی ہے کہ دولت کا غیر منصفانہ بٹوارہ صرف پسماندہ ملکوں کا مسئلہ نہیں رہا۔ ترقی یافتہ معاشروں میں بھی امیر اور غریب کے درمیان خلیج وسیع سے
وسیع تر ہو رہی ہے۔ عالمی رپورٹوں کے مطابق دنیا کی کل دولت کا بیشتر حصہ چند فیصد امیر ترین افراد کے پاس ہے، جبکہ باقی انسانیت اس کے چھینٹوں پر گزارا کرنے پر مجبور ہے۔ یہ سوال شدت سے جنم لیتا ہے کہ اگر انسانی ترقی اور ٹیکنالوجی کا مقصد فلاحِ انسانیت ہے تو پھر غربت، بھوک اور فاقہ کشی کیوں بڑھ رہی ہے؟
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ نابرابری اور بھی شدید ہو جاتی ہے۔ ایک طرف چند خاندانوں کی جاگیریں، محلات اور کاروباری سلطنتیں ہیں، اور دوسری طرف وہ عوام جو دو وقت کی روٹی کے لیے ترستے ہیں۔ اشرافیہ اور عام آدمی کی زندگی میں یہ واضح فرق ایک ایسے خلا میں بدل چکا ہے جسے پر کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہی خلا معاشرتی بے چینی اور سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سرمایہ ہمیشہ طاقتور کے پاس جاتا ہے اور طاقتور اسے مزید بڑھانے کے لیے قوانین، ادارے اور وسائل اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ یوں دولت کا ارتکاز بڑھتا جاتا ہے اور کمزور طبقے کے مواقع سکڑتے چلے جاتے ہیں۔ اس نظام میں انصاف اور اخلاقیات کمزور ہو جاتے ہیں اور صرف منافع کی اندھی دوڑ باقی رہ جاتی ہے۔
بدعنوانی اور اقربا پروری بھی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب طاقتور طبقہ اداروں پر اثر انداز ہو کر اپنی مرضی کے فیصلے کرواتا ہے، تو قانون عام آدمی کے لیے سزا اور صاحبِ اقتدار کے لیے سہولت بن جاتا ہے۔ یوں وسائل کا بہاؤ اوپر کی طرف محدود ہو جاتا ہے اور معاشرتی ڈھانچے میں مستقل بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
تعلیم اور صحت میں ناہمواری بھی اسی نابرابری کو واضح کرتی ہے۔ امیر کے بچے معیاری تعلیم اور جدید علاج تک رسائی رکھتے ہیں، جبکہ غریب کے لیے بنیادی سہولتیں بھی ایک خواب ہیں۔ یہی تفاوت آگے چل کر ایک مستقل خلیج پیدا کرتا ہے جس کے ایک کنارے طاقت اور خوشحالی ہے اور دوسرے کنارے محرومی اور ناامیدی۔
وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا ایک اور پہلو زمین اور قدرتی ذرائع پر قبضہ ہے۔ جاگیردارانہ نظام اور وسائل کے ارتکاز نے عام آدمی کو اپنے ہی وطن میں اجنبی بنا دیا ہے۔ زمین، پانی، جنگلات اور معدنی وسائل پر چند خاندانوں کا اختیار عوام کو اس حق سے محروم کر دیتا ہے جو فطری طور پر سب کو یکساں طور پر ملنا چاہیے۔
مہنگائی اور عوامی مشکلات بھی اسی غیر منصفانہ تقسیم کا شاخسانہ ہیں۔ جب اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا بوجھ ہمیشہ کمزور طبقے پر پڑتا ہے۔ متوسط طبقہ، جو معاشرے کا توازن برقرار رکھتا ہے، تیزی سے سکڑ رہا ہے، اور یوں معاشرہ دو انتہاؤں میں تقسیم ہو کر غیر متوازن ڈھانچے میں ڈھلتا جا رہا ہے۔
اسلام اور اخلاقیات کے تناظر میں یہ مسئلہ اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اسلام نے زکوٰۃ، صدقات اور وراثت کے اصولوں کے ذریعے ایک ایسا معاشی ڈھانچہ دیا جو دولت کو چند ہاتھوں میں محدود نہیں رہنے دیتا۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں دولت کا مقصد صرف ذاتی آسائش نہیں بلکہ معاشرتی توازن اور اجتماعی بہبود ہے۔ بدقسمتی سے مسلمان معاشرے ان اصولوں سے غافل ہو گئے ہیں اور نتیجہ وہی ہے جو آج ہمارے سامنے ہے۔
اس سنگین صورتِ حال کا حل ممکن ہے، مگر اس کے لیے پختہ عزم اور سیاسی بصیرت درکار ہے۔ سب سے پہلے ٹیکس کے نظام کو شفاف اور منصفانہ بنایا جائے تاکہ دولت کا بہاؤ ہر سطح تک پہنچ سکے۔ ریاست کو فلاحی بنیادوں پر اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع سب کو یکساں فراہم کریں۔ سماجی انصاف پر مبنی معاشی پالیسیاں ہی اس زہر کا تریاق ہیں۔
دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ایک ایسا زخم ہے جو ہر دن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ یہ زخم صرف غریب کو نہیں کاٹ رہا بلکہ پورے معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ اگر اس کا علاج نہ کیا گیا تو یہ نابرابری صرف غربت اور بھوک ہی نہیں بلکہ بغاوت اور انتشار کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ انسانیت کی بقا اسی میں ہے کہ دولت کو چند ہاتھوں سے نکال کر سب کے لیے ایک منصفانہ بہاؤ میں ڈالا جائے۔ یہی اصل ترقی ہے اور یہی انسانیت کا روشن مستقبل۔
یوسف صدیقی







