آپ کا سلاماردو غزلیاتسعید شارقشعر و شاعری

رگوں سے یاد کا نیلا لہو نچوڑتا ہوں

سعید شارق کی ایک اردو غزل

رگوں سے یاد کا نیلا لہو نچوڑتا ہوں
میں باغ ہجر سے ہر شام پھول توڑتا ہوں

یہ اور بات کبھی جاگتے نہیں ہیں ہم
اسے ہلاتا ہوں خود کو کبھی جھنجھوڑتا ہوں

ہوائے رفتہ کی آہٹ سے ٹوٹ جاتی ہیں
وہ پتیاں جنہیں ایک ایک کر کے جوڑتا ہوں

یہ گرد باد اسے ہی تباہ کرتا نہیں
میں اپنا رخ کبھی اپنی طرف بھی موڑتا ہوں

سعید شارق

post bar salamurdu

سعید شارق

سعید شارق، ایم اجمل سعید 1993 میں پیدا ہوئے، اسلام آباد، پاکستان کے ایک مشہور نوجوان شاعر ہیں۔ 24 سال کی عمر میں، اس نے بڑے پیمانے پر تعریفی اور باوقار ایوارڈز حاصل کیے، جن میں پروین شاکر اکس-خوشبو ایوارڈ، بابا گرو نانک ادبی ایوارڈ، اور اپنے پہلے مجموعہ سایہ (2017) کے لیے کار خیر ایوارڈ شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button