آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

گلہ اگر کوئی تھا عندلیب سے

ایک اردو غزل از رشید حسرت

گلہ اگر کوئی تھا عندلیب سے کروں گا مَیں
کہ دل کی سب شکایتیں طبیب سے کروں گا مَیں

ہمارے بیچ فاصلے نہ آئے ہیں، نہ آئیں گے
رہوں پرے مطالعہ قریب سے کروں گا مَیں

فساد سے جو کام آپ کر سکے نہ آج تک
معاملہ ہے حل طلب تو جِیب سے کروں گا مَیں

کہانیاں ہیں ذہن میں ابھرتی ڈوبتی ہوئی
یہ ذکر کھول کر کسی ادیب سے کروں گا مَیں

ہمارے بیچ بات جو ہوئی ہے راز ہی رہے
بتاؤ ذکر کیا ابھی رقیب سے کروں گا مَیں؟

مرا ترا معاملہ فقط تھا اونچ نیچ کا
نہ اب شکایتیں کبھی نصیب سے کروں گا مَیں

یقین ہے کہ سب نبی خدا کے خاص عبد ہیں
تو پھر کوئی بھی معجزہ سلیب سے کروں گا مَیں

تمہارے ساتھ کی چھڑی جو میرے ہاتھ لگ گئی
تو دیکھنا کمال پھر عجیب سے کروں گا مَیں

رشیدؔ درد بانٹنے کا عہد کر لیا تو ہے
جو ہو سکا تو ابتدا غریب سے کروں گا مَیں

رشید حسرتؔ
۰۷، اگست، ۲۰۲۶

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button