گلہ اگر کوئی تھا عندلیب سے کروں گا مَیں
کہ دل کی سب شکایتیں طبیب سے کروں گا مَیں
ہمارے بیچ فاصلے نہ آئے ہیں، نہ آئیں گے
رہوں پرے مطالعہ قریب سے کروں گا مَیں
فساد سے جو کام آپ کر سکے نہ آج تک
معاملہ ہے حل طلب تو جِیب سے کروں گا مَیں
کہانیاں ہیں ذہن میں ابھرتی ڈوبتی ہوئی
یہ ذکر کھول کر کسی ادیب سے کروں گا مَیں
ہمارے بیچ بات جو ہوئی ہے راز ہی رہے
بتاؤ ذکر کیا ابھی رقیب سے کروں گا مَیں؟
مرا ترا معاملہ فقط تھا اونچ نیچ کا
نہ اب شکایتیں کبھی نصیب سے کروں گا مَیں
یقین ہے کہ سب نبی خدا کے خاص عبد ہیں
تو پھر کوئی بھی معجزہ سلیب سے کروں گا مَیں
تمہارے ساتھ کی چھڑی جو میرے ہاتھ لگ گئی
تو دیکھنا کمال پھر عجیب سے کروں گا مَیں
رشیدؔ درد بانٹنے کا عہد کر لیا تو ہے
جو ہو سکا تو ابتدا غریب سے کروں گا مَیں
رشید حسرتؔ
۰۷، اگست، ۲۰۲۶








