- Advertisement -

یہ زمانہ نہیں سمجھےگا کہانی اپنی

ایک اردو غزل از رفیق لودھی

یہ زمانہ نہیں سمجھےگا کہانی اپنی
چوٹ دل کو کہاں لگتی ہے پرانی اپنی

آنکھ نم ناک ہے صحرا کی ہواوں میں بھی
رائگاں گزری محبت میں جوانی اپنی

منحرف ہے یہ محبت سے بڑا کافر ہے
کیوں مرے دل نے کبھی بات نہ مانی اپنی

خواب ٹوٹے ہوئے اب دل میں لیے پھرتا ہوں
رفتگاں چھوڑ گئے ہیں یہ نشانی اپنی

عشق کی آگ کہیں بیچ میں آجاتی ہے
پیاس کس طرح بجھائے کوئی پانی اپنی

خوش نہیں ہوں نئے خوابوں کے نگر میں لودھی
یاد آتی ہے بہت نقل مکانی اپنی

رفیق لودھی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
گلناز کوثر کی ایک اردو نظم