ایچی سن کالج – شاندار ادارہ یا اشرافیہ کا قلعہ؟
از پیر انتظار حسین مصور
لاہور کے مال روڈ سے گزرتے ہوئے جب نگاہیں ایچی سن کالج کی سرخ اینٹوں سے بنی بلند و بالا دیواروں پر پڑتی ہیں، تو انسان خود بخود ایک قدیم اور سحر انگیز تاریخ کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ اٹھارہ سو چھیاسی میں جب اس وقت کے ناظمِ پنجاب سر چارلس ایچی سن نے اس ادارے کی بنیاد رکھی، تو ان کا مقصد محض ایک مدرسہ بنانا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی نرسری تیار کرنا تھا جہاں برصغیر کے حکمرانوں، نوابوں اور جاگیرداروں کی اگلی نسل کی ایسی آبیاری کی جا سکے کہ وہ تاجِ برطانیہ کے وفادار رہ کر نظامِ حکومت چلا سکیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بے حد شاندار، پروقار اور اپنی مثال آپ ادارہ ہے۔ اس کے وسیع و عریض میدان، قدیم کتب خانے، تیراکی کے تالاب اور نظم و ضبط کی وہ روایات جو ڈیڑھ سو سال سے قائم ہیں، کسی بھی دیکھنے والے کو حیرت زدہ کر دیتی ہیں۔
ایچی سن کالج کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس کی گود میں پلنے والے شہسواروں نے پاکستان کی تقدیر کے فیصلے کیے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی میدانِ عمل سے سیاست تک کی جدوجہد ہو، اعتزاز احسن کی قانونی بصیرت ہو، یا چوہدری نثار علی خان، شاہ محمود قریشی اور سردار ایاز صادق کا سیاسی قد کاٹھ—ان سب کی شخصیت سازی میں اس درسگاہ کا گہرا اثر ہے۔ یہاں کا تربیتی نظام طالب علموں میں وہ مقابلہ اور گروہی کام کا جذبہ پیدا کرتا ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر کام آتا ہے۔ یہاں کی فضاؤں میں وہ خود اعتمادی ہے جو ایک طالب علم کو دنیا کے کسی بھی بڑے ایوان میں کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہ ادارہ صلاحیتوں کو تراشنے اور انہیں ہیرا بنانے کا فن بخوبی جانتا ہے، اور اس کی یہ تعریف ہر لحاظ سے حق بجانب ہے۔
مگر یہاں قلم رک جاتا ہے اور ایک کسک سی دل میں ابھرتی ہے۔ دکھ اس بات کا نہیں کہ ایچی سن اتنا شاندار کیوں ہے، بلکہ ملال اس بات کا ہے کہ ہم نے اس بہترین نمونے کو صرف ایک مخصوص طبقے کے لیے کیوں وقف کر دیا؟ انگریز نے تو اسے اپنی ضرورت کے تحت ‘چیفس کالج’ بنایا تھا تاکہ وہ مقامی اشرافیہ کو اپنے رنگ میں ڈھال سکے، لیکن آزادی کے بعد ہماری ریاست کی کیا ذمہ داری تھی؟ کیا ہمارا فرض نہیں تھا کہ ہم اس معیار کو ملک کے کونے کونے میں پھیلاتے؟ ایچی سن کی اصل خوبصورتی اس کے در و دیوار میں نہیں بلکہ اس کے نظامِ تربیت میں چھپی ہے، جسے ہم نے ایک قلعہ بنا کر چند سو خاندانوں تک محدود کر دیا۔
ذرا چشمِ تصور سے دیکھیں، اگر آج پاکستان کی ہر تحصیل میں ایچی سن جیسا صرف ایک کالج بنا ہوتا، تو آج کا پاکستان کیسا ہوتا؟ ہمارے دور دراز دیہاتوں اور تپتے صحراؤں میں بسنے والے وہ باصلاحیت بچے، جن کی ذہانت آج غربت اور ٹاٹ کے مدرسوں کی نذر ہو جاتی ہے، وہ آج عالمی سطح کے دانشور، جرنیل اور سفارت کار ہوتے۔ اگر کسان اور مزدور کا بیٹا بھی اسی معیار کے کتب خانے میں بیٹھتا، اسی طرح گھڑ سواری سیکھتا اور اسی اعتماد کے ساتھ گفتگو کرتا، تو آج پاکستان قیادت کے بحران کا شکار نہ ہوتا۔ ہم نے اس شاندار ادارے کو ایک ‘قومی مثال’ بنانے کے بجائے اسے اشرافیہ کا ایک ایسا ناقابلِ تسخیر قلعہ بنا دیا جہاں عام آدمی کا بچہ داخل ہونے کا خواب دیکھنا بھی گناہ سمجھتا ہے۔
المیہ در المیہ یہ ہوا کہ ہم نے اس تعلیمی ڈھانچے کو ریاست کی ذمہ داری بنانے کے بجائے اسے ایک خالص ‘کاروبار’ میں تبدیل کر دیا۔ آج گلی گلی میں نام نہاد نجی مدرسوں کی دکانیں کھل چکی ہیں۔ ان اداروں کے مالکان فیسیں تو ایچی سن کے برابر وصول کرتے ہیں، لیکن وہاں نہ وہ تربیت ہے، نہ وہ وسیع و عریض میدان اور نہ ہی وہ اخلاقی معیار جو ایک انسان کو رہنما بناتا ہے۔ ہم نے تعلیم کو تجارت بنا کر قوم کے مستقبل کو گروی رکھ دیا ہے۔ ایک طرف وہ چند سو خاندان ہیں جن کے لیے ایچی سن کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، اور دوسری طرف وہ کروڑوں بچے ہیں جو سرکاری مدرسوں کی ٹوٹی ہوئی چھتوں تلے بیٹھ کر ٹاٹ پر اپنا مستقبل تلاش کر رہے ہیں۔ یہ طبقاتی خلیج ہی وہ ناسور ہے جو ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
جب ہم ایچی سن کالج کی تاریخ پڑھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کی روایت صرف کتابی علم تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہاں کردار سازی پر زور دیا جاتا تھا۔ مگر افسوس کہ آج کے ‘کاروباری مدرسوں’ نے صرف نمبروں کی دوڑ میں بچوں کو مشین بنا دیا ہے۔ ایچی سن کا طریقہ کار تو یہ سکھاتا ہے کہ تعلیم ایک مکمل طرزِ زندگی ہے، جس میں کھیل، آدابِ زندگی اور سماجی ذمہ داری شامل ہے۔ لیکن اس نمونے کو عام کرنے کے بجائے ہمارے حکمرانوں نے اسے اپنی مراعات کا حصہ بنا لیا۔ جب پالیسی بنانے والوں کے اپنے بچے ان شاہانہ اداروں میں پڑھتے ہوں، تو انہیں کیا فرق پڑتا ہے کہ کسی دور افتادہ تحصیل کے مدرسے میں استاد موجود ہے یا نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک ریاست تعلیم کے اس ظالمانہ طبقاتی فرق کو ختم نہیں کرتی، ہم کبھی ایک متحد قوم نہیں بن سکتے۔ ہمیں ایچی سن جیسے اداروں کی تاریخی حیثیت اور معیار کی تعریف ضرور کرنی چاہیے، لیکن اس نظام پر کڑی تنقید بھی لازم ہے جس نے تعلیم کو امارت کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے۔ ہمیں ایسے تعلیمی مراکز کی ضرورت ہے جو صرف لاہور کے مخصوص علاقوں تک محدود نہ ہوں، بلکہ ہر تحصیل کے اس گمنام نوجوان کے لیے کامیابی کا راستہ کھولیں جس کی آنکھوں میں چمک تو ہے مگر جیب میں ایچی سن کی بھاری بھرکم فیس نہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم تعلیم کو کاروبار کے چنگل سے نکالیں اور اسے ہر بچے کا بنیادی حق بنائیں۔ ایچی سن کی سرخ دیواریں ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ علم پر کسی ایک طبقے کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ہم آج بھی ہر تحصیل میں ایک معیاری ادارہ قائم کرنے کی مہم شروع کر دیں، تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں معاف کر دیں۔ ورنہ یہ دیواریں، یہ شہسواری کے میدان اور یہ پرشکوہ ہال ہمیشہ ہمیں ہماری سماجی ناانصافیوں اور محرومیوں کا طعنہ دیتے رہیں گے۔ ایچی سن ایک بہترین مثال ہے، لیکن اس مثال کو صرف چند ہاتھوں میں قید رکھنا اس قوم کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی ہے۔
پیر انتظار حسین مصور








