آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

وہ جنت جو ظلم کے سائے میں دب گئی

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

کشمیر، برصغیر کی وہ وادی جسے صدیوں سے جنتِ ارضی کہا جاتا ہے، آج دنیا کے نقشے پر ایک ایسا خطہ ہے جہاں حسن کے ساتھ ساتھ انسانی المیہ بھی سانس لے رہا ہے۔ برف پوش پہاڑ، نیلگوں دریا اور سبزہ زار اپنی دلکشی سے آج بھی جھلک دکھاتے ہیں، مگر ان کے بیچ ایک ایسا درد چھپا ہے جو نسلوں سے کشمیری عوام کے سینوں پر بوجھ بنے بیٹھا ہے۔

انیس سو سینتالیس میں برصغیر کی تقسیم کے وقت اصول یہ تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کا حصہ ہوں گے۔ ریاستِ جموں و کشمیر، جس کی آبادی اس وقت تقریباً اسی فیصد مسلمان تھی، قدرتی طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کی حقدار تھی۔ مگر ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنی حکمرانی بچانے کےkashmir لیے نہ تو پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور نہ ہی عوام کو رائے دہی کا حق دیا۔ اکتوبر انیس سو سینتالیس میں جب عوامی بغاوت شروع ہوئی تو مہاراجہ نے بھارت سے فوجی مدد طلب کی اور بھارت نے اپنی افواج کشمیر میں داخل کر دیں۔ یہ وہ پہلا مرحلہ تھا جب دونوں نئے ممالک ایک جنگ میں الجھ گئے۔

جنگ بندی کے بعد یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ کے ایوانوں تک پہنچا، جنہوں نے انیس سو اڑتالیس اور انیس سو انچاس میں قراردادیں منظور کیں جن میں واضح طور پر کہا گیا کہ کشمیری عوام کو استصوابِ رائے کے ذریعے اپنا مستقبل خود متعین کرنے کا حق دیا جائے۔ تاہم ان وعدوں پر عمل درآمد نہ ہو سکا اور مسئلہ طویل گھمبیر تنازعہ بن کر رہ گیا۔

پانچ اگست سن دو ہزار انیس وہ دن ہے جب بھارت نے دفعہ تین سو ستر اور پینتیس اے منسوخ کر کے ریاستِ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سلب کر لی۔ اس ایک فیصلے نے لاکھوں انسانوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا۔ زمین پر اختیار، روزگار کی ضمانت اور آزادیِ رائے سب کچھ چھین لیا گیا۔ وادی کو دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں بدل دیا گیا؛ سڑکوں کے ہر موڑ پر بندوق بردار کھڑے ہیں اور گھروں کے دروازے خوف کے سائے میں بند ہیں۔

یہ معاملہ محض زمین کا تنازعہ نہیں بلکہ انسانوں کی موجودگی اور ان کی شناخت پر ایک گہرا وار ہے۔ کشمیری عوام روزانہ اپنے گھروں، بچوں اور مستقبل کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، مگر مسلط شدہKashmir ریاستی جبر نے ان کی زندگی کو مسلسل اذیت ناک بنا دیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں چھاپے، گھروں کی مسماری، نوجوانوں کی گرفتاری اور بزرگوں کی توہین کچھ ایسے معمولات بن چکے ہیں جو انسانیت کو شرمیدہ کر دیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جن کے پیارے مہینوں بلکہ برسوں تک لاپتہ رہتے ہیں اور ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔

خاص طور پر خواتین اور بچے اس جبر کے سب سے زیادہ متاثرین ہیں۔ انسانی حقوق کی رپورٹس میں بارہا یہ بات سامنے آئی ہے کہ چھاپوں کے دوران خواتین کی عزت پامال کی گئی اور بچوں کو ہراساں کیا گیا۔ یہ وہ زخم ہیں جو صرف جسم کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے ذہن و قلب کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

آزادیِ اظہار کی صورتحال بھی نہایت تشویشناک ہے۔ صحافیوں، طلبہ اور سوشل میڈیا پر آواز بلند کرنے والوں کو قید کیا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کا بار بار بند ہونا اس وادی کو دنیا سے کاٹ دیتا ہے۔ کشمیری نوجوان تعلیم اور روزگار سے محروم ہو رہے ہیں، معیشت تباہ حال ہے اور ایک پوری نسل اپنے مستقبل کو اندھیروں میں دیکھنے پر مجبور ہو چکی ہے۔

کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، بلکہ ایک تہذیب اور ایک ثقافت ہے۔ مگر وہاں مذہبی اجتماعات اور ثقافتی تقریبات پر بھی قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔ یہ سب اس نفسیاتی حکمتِ عملی کی علامت ہیں کہ محض زمین ہی نہیں بلکہ کشمیری شناخت کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ مسئلہ دراصل برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کی قراردادیں منظور کیں، مگر آج تک ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ بھارت کی ہٹ دھرمی اور بین الاقوامی طاقتوں کی خاموشی نے اس تنازعے کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ سرد جنگ کے بعد دنیا میں معیشتی مفادات کو انسانی حقوق پر ترجیح دینے کا رحجان بڑھا، اور یہی وجہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اکثر بڑی طاقتوں کی سفارتی ترجیحات کی پسِ منظر میں چلا جاتا ہے۔

پاکستان ہمیشہ سے کشمیری عوام کا وکیل رہا ہے اور ہر عالمی فورم پر اس مقدمے کو بلند کرتا آیا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ صرف بیانات یا قراردادیں کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتیں؛ اس کے لیے عالمی ضمیر کو جاگنا ہوگا اور انصاف پر مبنی عملی اقدامات کیے جانے ہوں گے۔ اگر دنیا فلسطین، یوکرین یا دیگر خطوں کے لیے آواز بلند کر سکتی ہے تو کشمیر کے معصوم بچوں اور عورتوں کے لیے خاموشی کیوں؟

کشمیر کی جدوجہد دراصل صرف آزادی کی نہیں، بلکہ انسان کے وقار اور انصاف کے حق کی جدوجہد ہے۔ کشمیری عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو، امید اور حوصلہ ختم نہیں ہوتے۔ آج یہ جنت لہو سے سرخ ہے، مگر اس وادی کے لوگ اب بھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن سورج آزادی اور انصاف کی روشنی لے کر طلوع ہوگا۔ یہی یقین ان کی سب سے بڑی طاقت ہے اور یہی یقین دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔

؎ ہم جان لٹا دیں گے مگر سر نہ جھکائیں گے
کشمیر کی وادی کو ہم آزاد بنائیں گے

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button