آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریولی اللہ ولی

خواب مجھ کو نہ دکھایا جائے

غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی ، نئی دہلی

خواب مجھ کو نہ دکھایا جائے
عَہدِ تعبیر بھی لایا جائے

آنکھیں ابَ دل میں اُتر جاتی ہیں
کیسے زخموں کو چھُپایا جائے

جن سے ملتا ہے محبت کا سبق
اُن کتابوں کو پڑھایا جائے

جو لہو سے ہوں ہمارے روشن
اُن چَراغوں کو جلایا جائے

کھیت میں چاندنی بوئی جائے
ہر طرف چاند اُگایا جائے

اُن سے کیا آنکھ چرائی جائے
جن سے دامن نہ بچایا جائے

آئینہ خانے ہیں خاموش ولیؔ
کسی وحشی کو بلایا جائے

ولی اللہ ولی

ولی اللہ ولیؔ

سوانحی اشاریہ نام : محمد ولی اللہ قلمی نام : ولی اللہ ولی ؔ ولادت : ۷ جنوری ۱۹۶۷ء جائے ولادت : حسن پور وسطی، مہوا، ویشالی، بہار والدکا نام : محمد امین اللہ ابن علی کریم والدہ کا نام : زاہدہ خاتون بنت عبد السعید عرف محمد موسیٰ تلمّذ : ڈاکٹر معراج الحق برقؔ، جناب قیصرؔ صدیقی تعلیم : ایم۔ اے، پری پی ایچ۔ ڈی(فارسی)، جواہر لعل نہرویونیورسٹی، نئی دہلی مشغلہ : ملازمت، فارسی نشریات، آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button